نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے پاکستان ریلویز کے بزنس پلان کو سراہا

منگل جون 20:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل جون ء)نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے پاکستان ریلویز کے بزنس پلان کو سراہا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وزیراعظم آفس میں پاکستان ریلویز کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ اجلاس میں کیا۔ اس موقع پر وزیر ریلویز روشن خورشید، وزیراعظم کے سیکرٹری سہیل عامر، سیکرٹری ریلویز محمد جاوید انور اور وزرات کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔

وزیراعظم کو ریلویز کے تنظیمی ڈھانچہ، ریل نیٹ ورک، محکمہ کی کارکردگی اور ریلویز سیکٹر میں نیشنل وژن 2025ء کے تحت مستقبل کی ترقیاتی حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم کو ریلویز کے نئے بزنس پلان اور مال بردار و مسافر ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں مختلف اقدامات کے بارے میں بتایا گیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر بتایا گیا کہ درست حکمت عملی کے تحت ریلویز کی مسافر سروس کا حصہ جو 2013ء میں 13 فیصد تھا 2017ء میں بڑھ کر 31 فیصد ہو گیا ہے۔

پاکستان ریلویز کو 2017-18ء میں 50 ارب روپے کی آمدنی ہوئی جو 2011-12ء میں 15.5 ارب روپے تھی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی تا حویلیاں مین لائن۔1 (ایم ایل۔1) پراجیکٹ کو سی پیک کے تحت اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ ایم ایل ۔2 (کوٹری تا اٹک) پراجیکٹ کی بھی فزیبلیٹی سٹڈی تیار کر لی گئی ہے۔ اسی طرح ایم ایل۔2 (گوادر۔ بسمہ۔ جیکب آباداور بسمہ۔کوٹلہ جام) منصوبوں کی فزیبلٹی سٹڈیز بھی تیاری کے مراحل میں ہیں۔

وزیراعظم کو پنشن کی مد میں ریلویز کے ذمہ واجبات جو اس کے مجموعی اخراجات کا 34 فیصد ہیں سمیت درپیش مختلف مسائل کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ وزیر اعظم نے پاکستان ریلویز کی کارکردگی بالخصوص بزنس پلان کے تحت مختلف اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پراجیکٹ آنے سے پاکستان ریلویز کیلئے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور خدمات کا معیار بہتر بنا کر مسافر اور مال بردار ٹرانسپورٹیشن میں اپنا حصہ بڑھانے کے بڑے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان ریلویز کے بحالی اور پائیداریت کیلئے سمت کو درست قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ منتخب حکومت کے زیر غور لانے کیلئے درپیش مسائل پر قابو پانے کے حوالہ سے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

Your Thoughts and Comments