ویزہ پابندیوں کے باعث ہزاروں غیر ملکیوں نے اومان کو خیر باد کہہ دِیا

رواں سال 87 صنعتوں میں غیر مُلکی بھرتیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے

منگل جون 15:14

مسقط(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل جون ء) جُون 2018ء کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں برس اومان میں مقیم غیر مُلکیوں کی تعداد میں دو فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق غیر مُلکیوں پر ملازمت کی پابندی عائد ہونے کے بعد اس سال تینتالیس ہزار کے قریب غیر مُلکی اومان چھوڑ گئے۔

جس کے باعث اس وقت مُلک میں مقیم غیر مُلکیوں کی تعداد بیس لاکھ پینتیس ہزار نو سو باون کی گنتی پر سمٹ آئی ہے۔ اومان کی کُل آبادی چھیالیس لاکھ بارہ ہزار 824 نفوس پر مشتمل ہے جن میں سے 44.1 فیصد گنتی غیر مُلکی افراد کی ہے۔ گزشتہ ماہ اومان کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ مملکت میں غیر مُلکیوں کی بھرتی پر جنوری 2018سے جُون 2018ء تک کی چھ ماہ کی پابندی میں توسیع کر دی گئی ہے جس کے بعد یہ پابندی دسمبر 2018ء تک نافذ العمل رہے گی۔

(جاری ہے)

قبل ازیں غیر مُلکیوں کی ملازمتوں پر بھرتی پر پابندی جن شعبوں میں عائد کی گئی اُن میں میڈیا‘ انجینئرنگ‘ مارکیٹنگ اور سیلز‘ اکاؤنٹنگ اور فنانس‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ انشورنس‘ ٹیکنیشنز‘ ایڈمنسٹریشن اور ہیومن ریسورس کے شعبے شامل تھے ۔ جبکہ حالیہ دِنوں میں مزید شعبے پابندی کے دائرہ کار میں شامل ہو گئے جس کے بعد پابندی شدہ شعبوں کی تعداد 87ہو گئی ہے۔

اومانی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ان پابندی شُدہ شعبوں میں غیر مُلکیوں کی بھرتی روکنے کا مقصداومانی شہریوں کو نوکریوں کے لیے اولین ترجیح قرار دِلوانا ہے۔یاد رہے کہ دیگر خلیجی ممالک سعودی عرب اور کویت میں بھی بتدریج غیر مُلکیوں کی بھرتی پر پابندی عائد کی جا رہی ہے تاکہ ان ممالک کے اصل باشندوں کو زیادہ سے زیادہ ملازمتوں پر برسرِ روزگار کیا جائے اور مقامی آبادی میں بے روزگاری کے باعث جو بے چینی اور تشویش پائی جاتی ہے اس کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

Your Thoughts and Comments