معروف مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی 94 برس کی عمر میں انتقال کرگئے ، نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

یوسفی طویل عرصے سے علیل تھے ، منگل کو ایک نجی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا ، طبیعت مزید بگڑنے پر وینٹی لیٹر پر منتقل کیاگیا ، حالت بہتر نہ ہونے کے باعث اللہ کو پیارے ہوگئے آرٹس کونسل آف پاکستان کا 3 روزہ سوگ کا اعلان ، تمام پروگرام ملتوی کردیئے

بدھ جون 22:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ جون ء)اردو ادب کے مشہور و معروف مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی 20 جون2018 کو 94 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کی نماز جنازہ آج بروز جمعرات بعد نماز ظہر سلطان مسجد ، ڈیفنس میں ادا کی جائے گی۔ مشتاق احمد یوسفی کافی عرصے سے علیل تھے ، گزشتہ روز ان کو ایک نجی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا ، ان کی طبیعت مزید بگڑنے کے باعث انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیاگیا تھا تاہم ان کی صحت بہتر نہ ہوسکی اور وہ بدھ کو علالت کے باعث انتقال کرگئے۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر احمد شاہ نے اطلاع ملتے ہی اآرٹس کونسل میں 3 روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے ہفتہ کو منعقد ہونے والی عید ملن پارٹی طعام آم اور کلام ( موسیقی کا پروگرام بیٹھک) سمیت آرٹس کونسل کے تمام پروگرام ملتوی کردیئے اور فوراًً اسپتال پہنچے اور ورثائ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ آرٹس کونسل کے ممبران سمیت ملک بھر کے ادب دوست اور اہل علم افسردہ اور غمگین ہیں کہ آج اردو ادب اور خصوصاًً مزاح نگاری کی ایک بڑی شخصیت ہم سے جدا ہوگئی۔

مشتاق احمد یوسفی 1923ء کو ریاست ٹونک میں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ریاست کے پولیٹیکل سیکریٹری تھے اور جے پور کے پہلے مقامی مسلمان تھے جو گریجویٹ ہوئے۔ 1956ء میں یوسفی صاحب پاکستان آگئے اور مقامی بینک میں ملازمت شروع کی اور ترقی کرتے کرتے بینک کے صدر بن گئے۔ مشتاق احمد یوسفی کا ادبی سفر 1900ء میں مضمون ’’صنف لاغر’’ سے شروع ہوتا ہے جو لاہور سے شائع ہونے والے رسالہ ’’سویرا‘‘ کی زینت بنا۔

اس طرح مختلف رسالوں میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہے۔1961ء میں مختلف انشائیوں اور مضامین کو یکجا کر کے مشتاق احمد یوسفی کا پہلا مجموعہ ’’چراغ تلے‘‘ کے نام سے منظر عام پر آیا۔ان کے کل پانچ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی مشہور کتابوں میں چراغ تلے،خاکم بدہن،زرگزشت،آب گم،شام شعریاراں شامل ہیں جب کہ آپ کی ادبی خدمات کے پیش نظر حکومت پاکستان نے 1999ء میں ستارئہ امتیاز اور 2002 ء ہلال امتیاز کے تمغوں سے نوازا۔مشتاق احمد یوسفی نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ اردو ادب کی خدمت کرنے میں گزارا۔ مشتاق یوسفی کے انتقال پر ادبی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

Your Thoughts and Comments