عمران کو نور خان بیس استعمال کرنے کی اجازت کس نے دی؟

اسلام آباد ہائیکورٹ نے جواب طلب کر لیا

جمعرات جون 20:14

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات جون ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے اور عمران خان و دیگر کو نجی مقصد کے لئے فوج کے لئے مختص نور خان ائیر بیس استعمال کرنے کی اجازت دینے کے خلاف درخواست پر سیکرٹری دفاع ، سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے سے آج جواب طلب کر لیا ہے۔

دوسری جانب زلفی بخاری کی جانب سے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت بھی آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو گی۔ بدھ کو عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق نے تلہ گنگ کے رہائشی محمد کوثر کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی تو ان کی جانب سے کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت کے سامنے پانچ سوالات اٹھائے کہ کیا موجودہ نگران حکومت قانون کے مطابق ملک میں شفاف انتخابات کرا سکتی ہے؟ کیا اعلیٰ عدلیہ کے حکم پر ای سی ایل میں شامل کئے گئے شخص کا نام ایف آئی اے کا کوئی افسر نکال سکتا ہے؟ کیا سیکرٹری دفاع کسی نجی طیارے کو ملٹری ائیر بیس کے استعمال کی اجازت دے سکتا ہے؟ کیا نگران حکومت کے اراکین قانون سے بالاتر ہیں جنہیں کوئی نہیں پوچھ سکتا اور آئین کے مطابق نگران حکومت کی موجودگی میں غیر مرئی طاقتیں ریاست کے روزمرہ امور میں کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ 11 جون کو ذوالفقار علی بخاری المعروف زلفی بخاری کو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب روانگی کے موقع پر نور خان ائیر بیس پر امیگریشن حکام نے نام ای سی ایل میں شامل ہونے کی وجہ سے روک لیا۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ کے حکم پر نیب نے زلفی بخاری کا نام پانامہ اسکینڈل میں آف شور کمپنی کی مد میں ای سی ایل میں شامل کرایا تھا۔ بیرون ملک سفر پر روانگی سے روکنے پر عمران خان نے نگران حکو مت کے ساتھ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے اپنے دو ست کا نام ای سی ایل سے نکلوا لیا اور فوری طور پر انہیں سعودی عرب روانگی کی اجازت بھی مل گئی۔ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے صحیح طریقہ کار استعمال نہیں کیا گیا اور محض نگران حکومت کے وزیر داخلہ اعظم خان کی عمران خان سے مبینہ قربت کی وجہ سے ان کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اعظم خان عمران خان فاؤنڈیشن کے بورڈ کے ممبر بھی ہیں۔ عمران خان کو نگران حکومت کی جانب سے نجی دورے کیلئے نور خان ائیر بیس استعمال کرنے کی اجازت دینا رولز کے خلاف ہے جس کی اجازت کسی اور شہری اور سیاسی جماعت کے سربراہ کو نہیں ۔

Your Thoughts and Comments