بھارت، سرکاری اہلکار بھی انتہا پسندہندوئوں کے نقش قدم پر،مذہب کے نام پر خاتون سے بدسلوکی کے بعد پاسپورٹ جاری

ہندو خاتون کو مسلم سے شادی کی پاداش میں نام تدیل کرنے یا مذہب تبدیل کرنے کا مشورہ دے ڈالا

جمعرات جون 16:00

لکھنو(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات جون ء)بھارتی سرکاری حکام بھی انتہا پسندہندوئوں کے نقش قدم پر چل نکلے، مذہب کے نام پر خاتون سے بدسلوکی کے بعد پاسپورٹ جاری کیا،ہندو خاتون کو مسلم سے شادی پر نام تدیل کرنے یا مذہب تبدیل کرنے کا مشورہ دے دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق لکھنو کی تنوی سیٹھ نے اپنے شوہر انس صدیقی کے ہمراہ بیرون ملک جانے کیلئے گزشتہ روز پاسپورٹ بنوانے کی غرض سے فارم بھر کر آفس میں جمع کیا۔

دوسرے دن پاسپورٹ آفس سے انٹر ویو کیلئے طلب کیا گیا ۔ وہاں تنوی سے سوال کیا گیا کہ آپ کے ساتھ تو بڑا مسئلہ ہے ، آپ نے مسلم سے شادی کی ہے تو آپ کا نام تنوی سیٹھ کیسے ہوسکتا ہی لہذا آپ اپنا نام تبدیل کرائیں۔آفس کا ایک ملازم وکاس مشرا نے کہا کہ آپ اپنا مذہب تبدیل کریں۔

(جاری ہے)

ہندوبن کر شوہر کے ساتھ ہندوانہ شادی کی رسم پوری کریں۔ تنوی کے شوہر انس صدیقی نے بتایا کہ تنوی فارم لیکر جب پاسپورٹ آفس کے ملازم وکاس مشرا کے پاس پہنچی تو وہ فارم چیک کرتے ہوئے شوہر کے خانے میں مسلم نام دیکھ کر طیش میں آگیا اور بلند آواز میں چلانے لگا ۔

شور اور ہنگامہ سن کر انس قریب پہنچا تو اسے بھی ڈانٹنے لگا اور بولا کہ تنوی کا نام تبدیل کرکے مسلم نام رکھیں۔بعدازاں معاملہ رفع دفع ہونے کے بعد تنوی کی فائل اسسٹنٹ پاسپورٹ آفس بھیج دی۔ واضح ہو کہ تنوی سیٹھ نے 2007 میں انس صدیقی سے پسند کی شادی کی تھی ۔ان کا ایک سال کا بیٹا بھی ہے ۔انس کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ آفس میں کسی نے بھی ان کی مدد نہیں کی۔تنوی اور انس نے پی ایم او اور وزیر خارجہ سشما سوراج سے ٹویٹر کے ذریعے اس واقعہ کی شکایت درج کرائی۔ شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے وزارت خارجہ نے ملزم افسر کا پاسپورٹ آفس سے تبادلہ کردیااور اس واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی۔ اسی کے ساتھ ہی نوجوان جوڑے کو پاسپورٹ بناکر حوالے کردیا گیا۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments