سرکاری خزانے میں خورد برد پر اسرائیلی وزیراعظم کی اہلیہ پر فرد جرم عائد

سرکاری خزانے میں خورد برد کرنے پر اسرائیلی وزیرعظم کی اہلیہ کو 8 سال قید ہوسکتی ہے،رپورٹ

جمعہ جون 14:24

تل ابیب(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ جون ء)اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی اہلیہ سارا پر پولیس کی طویل تحقیقات کے بعد سرکاری خزانے میں خورد برد اور دھوکہ دہی کی فرد جرم عائد کردی گئی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیل کی وزارت انصاف کے بیان میں کہا گیا کہ یروشلم کے ضلعی پراسیکیوٹر نے کچھ عرصے قبل وزیر اعظم کی اہلیہ سارا نیتن یاہو کے خلاف چارجز فائل کیے تھے۔

سارا کے خلاف گزشتہ سال جن الزامات کا اعلان کیا گیا ان کے مطابق انہوں نے اور ان کے ساتھی نے وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں باورچی نہ ہونے سے متعلق غلط بیانی کی اور سرکاری خزانے سے رقم کا استعمال کرتے ہوئے ہوٹل سے کھانا منگوایا۔وزارت انصاف کا کہنا تھا کہ اس کھانے کی قیمت 3 لاکھ 50 ہزار شیکلز (تقریباً ایک لاکھ ڈالر) تھی۔

(جاری ہے)

اسرائیلی قوانین کے مطابق سرکاری خزانے میں خورد برد کرنے پر اسرائیلی وزیرعظم کی اہلیہ کو 8 سال قید ہوسکتی ہے۔

سارا نے اپنے خلاف الزامات کو مسترد کیا تھا۔اسرائیلی وزریر اعظم کی اہلیہ کی قانونی ٹیم نے الزامات کو جھوٹااور خیالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ایسا پہلی بار ہوگا کہ کسی وزیراعظم کی اہلیہ کے خلاف کھانا فراہم کرنے پر مقدمہ چلایا جائے۔قانونی ٹیم کا مزید کہنا تھا کہ سارا نے جتنا کھانا منگوایا وہ نیتن یاہو کے اہل خانہ کے لیے نہیں بلکہ ملازمین کے لیے تھا۔

ایک کیس میں نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ پر امیر شخصیات سے مالی اور ذاتی فوائد دینے کے بدلے 10 لاکھ شیکلز مالیت کے لگڑری سِگار، شراب اور جواہرات لینے کا الزام ہے۔دوسرے کیس میں تحقیقات کرنے والوں کو وزیر اعظم پر، اسرائیل کے معروف اخبارکے مالک سے اپنے حق میں زیادہ کوریج کے لیے معاہدے کی کوشش کرنے کا شک ہے۔نیتن یاہو نے ان کیسز میں خود کو بے قصور قرار دیتے ہوئے اقتدار میں رہنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف مفروضوں کی بنیاد پر کیسز بنائے گئے۔

Your Thoughts and Comments