متحدہ عرب امارت:واٹس ایپ کے ذریعے خاتون کو فروخت کرنے کی کوشش میں چار بنگلہ دیشی جیل پہنچ گئے

ملزموں نے متاثرہ خاتون کو محصور رکھنے کے دوران متعدد بارجنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا

جمعہ جون 14:28

دُبئی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ جون ء) دُبئی کی ایک عدالت کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں گھر مالکان کو چھوڑ کر مفرور ہونے والی انڈونیشین ملازمہ کو ساڑھے پانچ ہزار اماراتی درہم کے عوض فروخت کرنے کی کوشش کے جُرم میں دو بنگلہ دیشیوں کو پانچ پانچ سال قید کی سزا سُنائی گئی ہے۔ ملزمان کے دو ساتھیوں کو بھی اعانتِ جُرم اور متاثرہ خاتون کو خریدار تک پہنچانے کے الزام میں پانچ سال پانچ سال کی قید کی سزا سُنائی گئی ہے۔

جبکہ ان چاروں ملزمان کو اپنے فلیٹ کو قحبہ خانے کے طور پر چلانے‘ متاثرہ خاتون کے ساتھ جنسی عمل کے لیے گاہکوں کو لانے اور جنسی استحصال کی فردِ جُرم بھی عائد کی گئی ہے۔ سزا کی مُدت پُوری ہونے کے فوراً بعد چاروں ملزمان اور انڈونیشین خاتون کو ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔

(جاری ہے)

چاروں ملزمان پر ایک لاکھ اماراتی درہم کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

جبکہ فلیٹ کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ ملزمان کو المرقبت کے علاقے سے 5 فروری 2018ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق 41 سالہ انڈونیشیائی خاتون کی ڈیوٹی دُبئی فاؤنڈیشن فار ویمن اینڈ چلڈرن میں لگی تھی۔ متاثرہ خاتون کے مطابق وہ طلاق یافتہ ہے جس کے تین بچے ہیں۔ ملزمہ نے بتایا ’’میں 4 جنوری 2017ء کو دُبئی پہنچی‘ اور ابو ظہبی میں مقیم ایک اماراتی فیملی کے پاس کام کر رہی تھی۔

اس دوران میرا تعلق ایک خاتون سے بنا جسے میں نے بتایا کہ میں اس کام سے خوش نہیں ہوں کیوں کہ میرے سپانسر کی بیوی مجھے کام کے معاملے میں بہت تنگ کرتی تھی۔ اس خاتون نے مجھے ایک اور خاتون سے مِلوایا جس نے مجھے سے وعدہ کیا کہ وہ مجھے پندرہ سو درہم کے عوض پارٹ ٹائم نوکری دلوا دے گی۔ جس کے بعد میں 20جنوری 2018ء کو سپانسر کے گھر سے بھاگ کر دُبئی آ گئی۔

جہاں خاتون کے جاننے والے ملزمان مجھے اپنے گھر لے گئے۔ وہاں آ کر مجھے پتا لگا کہ مجھ سے عصمت فروشی کا دھندا کروایا جائے گا۔ مفرور ہونے کے باعث میرے لیے اور کوئی دُوسرا راستہ نہ تھا۔ میرا سودا کرنے والی خاتون مجھے واٹس ایپ کے ذریعے تنبیہ کرتی رہتی کہ اگر میں نے کوئی مسئلہ کھڑا کیا تو مجھے دوسرے قحبہ خانے والوں کے ہاتھ بیچ دیا جائے گا۔

10 فروری 2018ء کو مجھے بتایا کہ میں اپنا سامان باندھ لوں کیوں کہ مجھے ایک اور قحبہ خانے والوں کے ہاتھ بیچا جا رہا ہے۔ تھوڑی دیر بعد جب میں ملزمان کی گاڑی میں گرفتار ہوئی تو پولیس نے چھاپہ مار کر ہم سب کو گرفتار کر لیا۔ ‘‘ پولیس لیفٹیننٹ نے استغاثہ کو بتایا کہ ہم ایک خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ ایک خاتون کو ساڑھے پانچ ہزار اماراتی درہم کے عوض بیچا جا رہا ہے‘ جس پر ایک پولیس والے نے ملزمان کے سامنے خود کو خریدار ظاہر کیا اور اُن کی جانب سے خاتون کو بیچنے کی کوشش کے دوران رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا اور متاثرہ خاتون کو اُن کی قید سے چھُڑوا لیا۔ عدالت نے متاثرہ خاتون کو سپانسر کے گھر سے بھاگنے کے جُرم میں ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ سُنایا ہے۔

Your Thoughts and Comments