دُبئی:دوہری شہریت کے حصول کے لیے پردیسی بڑی تعداد میں متحدہ عرب امارت کا رُخ کرنے لگے

امارات میں مقیم افراد کے لیے جزائر غرب الہند اور یورپی ممالک کی شہریت اختیار کرنا خاصا آسان ہے

ہفتہ جون 17:28

دُبئی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ ہفتہ جون ء)ایک رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں مقیم 40 فیصد غیر مکیوں نے دُوسرے مُلک کی شہریت کے حصول کے لیے اپنے آبائی وطن میں موجود جائیدادیں بیچ ڈالی ہیں۔ سیوری اینڈ پارٹنرز نامی تنظیم کے مطابق گزشہ برس امارات میں مقیم 23.7 فیصد غیر ملکی درخواست گزاروں نے دوہری شہریت کے حصول کے لیے آبائی وطن میں موجود اپنی جزوی پراپرٹی بیچ ڈالی جبکہ16.9 فیصد نے اپنی مکمل جائیداد بیچ ڈالی۔

جزائر غرب الہند اور یورپی ممالک کے پاسپورٹ کے حصول کے لیے امارات اہم مقام بن گیا ہے۔دوہری شہریت کے حصول میں آسانی کے لیے گزشتہ چھ ماہ کے دوران بہت سارے غیر مُلکیوں نے متحدہ عرب امارات میں سکونت اختیار کی ہے۔

(جاری ہے)

ان غیر مُلکیوں میں زیادہ تعداد خلیجی ممالک‘ پاکستان اور افغانستان کے باشندوں کی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق دوہری شہریت کے حصول کے خواہش مندوں میں پاکستانی پہلے درجے پر فائز ہیں۔

جبکہ اس کے بعد شامیوں کا نمبر آتا ہے۔جبکہ بھارتی‘ لبنانی‘ مصری‘ فلسطینی‘ اُردنی‘ ایرانی‘ عراقی اور متحدہ عرب امارت کے لوگ بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ سروے کے مطابق غیر مُلکی اپنی آمدنی اور انٹرنیشنل سٹیٹس میں اضافے کے لیے عرب امارات کا رُخ کرتے ہیں تاکہ یہاں قیام کے بعد انہیں دُوسرے ملکوں کی شہریت کے حصول میں کسی خاص دُشواری کا سامنا نہ ہو۔

وہ اپنی فیملی کے معاشی مستقبل کو تحفظ دینا چاہتے ہیں‘ دوسری شہریت کے حصول کے لیے امارات میں قیام سے انہیں اپنا کاروبار اور سرمائے بڑھانے میں بہت مدد مِلتی ہے۔امارات میں موجود غیر ملکیوں کی بڑی تعداد نے ڈومینیکا کامن ویلتھ‘ سینٹ کِٹس‘ نیوِس‘ سپین‘ پرتگال اور سینٹ لوشیا کے لیے اپلائی کیا ہے۔فردِ واحد کی جانب سے شہریت کے حصول اور آسان دستاویزی پراسس کے معاملے میں ڈومینیکا سرفہرست ہے جبکہ خاندان بھر کی جانب سے شہریت کے حصول کے لیے اینٹیگا‘ باربوڈا اور سینٹ کِٹس بہترین ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 46 فیصد درخواست گزار سینٹ کٹس اور نیوِس کی شہریت کے طلب گار ہیں کیوں کہ ان ممالک کے شہری متحدہ عرب امارات میں بغیر ویزے کے داخل ہو سکتے ہیں اور ان کے دُبئی میں سفارت خانے بھی موجود ہیں۔ جبکہ یورپی ممالک کی شہریت کے خواہش مندوں کے لیے قبرص بہترین انتخاب ہے ‘ لیکن اس کی خاطر درخواست گزار کو ریئل اسٹیٹ میں بیس لاکھ اماراتی درہم کی سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے۔

Your Thoughts and Comments