ترکی الیکشن، جانبدارانہ اور غیر منصفانہ تھے، او ایس سی ای مبصرین

اپوزیشن کو اردگان کے مساوی مواقع مہیا نہیں کئے گئے، انتخابی مہم کو ہنگامی حالات نے نقصان پہنچایا، بین الاقوامی ماہرین

منگل جون 16:05

برسلز(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل جون ء)یورپی سلامتی اور تعاون کی تنظیم او ایس سی ای کے مبصرین نے کہا ہے کہ ترکی میں الیکشن غیر جانبدارانہ اور منصفانہ نہیں تھے، اپوزیشن جماعتوں کو اردگان کے مساوی مواقع مہیا نہیں کئے گئے، انتخابی مہم کو ہنگامی حالات کے سبب بھی واضح نقصان پہنچا۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یورپی سلامتی اور تعاون کی تنظیم او ایس سی ای کے مبصرین نے کہا ہے کہ ترکی میں الیکشن غیر جانبدارانہ اور منصفانہ نہیں تھے، اپوزیشن جماعتوں کو اردگان کے مساوی مواقع مہیا نہیں کئے گئے، انتخابی مہم کو ہنگامی حالات کے سبب بھی واضح نقصان پہنچا۔

تفصیلات کے مطابق ترکی میں اتوار چوبیس جون کو ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات غیر منصفانہ تھے، جس دوران اپوزیشن جماعتوں کو مساوی مواقع مہیا نہیں کیے گئے تھے۔

(جاری ہے)

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی پیر پچیس جون کی شام موصولہ رپورٹوں کے مطابق تنظیم برائے یورپی سلامتی اور تعاون(او ایس سی ای)کے بین الاقوامی مبصرین نے کہا ہے کہ ترکی میں کرائے گئے حالیہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات اس لیے غیر جانبدارانہ اور منصفانہ نہیں تھے کہ ان انتخابات میں آزادیوں کو محدود کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو سیاسی طور پر اپنی اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے مساوی مواقع مہیا نہیں کیے گئے تھے۔

مبصرین کے مطابق اس دوران ترکی میں، جہاں پہلے ہی سے ذرائع ابلاغ کی آزادی کو محدود کیا جا چکا ہے، خاص طور پر اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کو ملک میں کافی عرصے سے نافذ ہنگامی حالت سے بھی واضح طور پر نقصان پہنچا۔آج پیر کے روز ان بین الاقوامی مبصرین نے، جو او ایس سی ای کی طرف سے ان انتخابات کی نگرانی کے لیے ترکی بھیجے گئے تھے، اپنی حتمی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ترکی میں حالیہ انتخابات سے پہلے کے دنوں میں موجودہ صدر رجب طیب ایردوآن کی مخالف اپوزیشن سیاسی جماعتوں کو یہ مساوی مواقع دیے ہی نہیں گئے تھے کہ وہ بھی عوامی سطح پر اسی طرح اپنی انتخابی مہم چلاتیں، جیسی کہ صدر ایردوآن کی جماعت اے کے پی نے چلائی تھی۔

Your Thoughts and Comments