نیب کرپٹ عناصر کو سی پیک سمیت قومی اہمیت کے تمام منصوبوں میں بدعنوانی سے روکنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا،

سی پیک پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ، خطے کی ترقی کیلئے بھی گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے،بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی کی ضامن ہے چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کا نیب بلوچستان کے دورہ کے موقع پر خطاب ، کارکردگی کا جائزہ بھی لیا

پیر جولائی 21:46

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جولائی ء) قومی احتساب بیورو (نیب ) کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہاہے کہ نیب کرپٹ عناصر کو سی پیک سمیت قومی اہمیت کے تمام منصوبوں میں بدعنوانی سے روکنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا، سی پیک پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ، خطے کی ترقی کیلئے بھی گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے،بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی کی ضامن ہے۔

پیر کوچیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے نیب بلوچستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی کی ضامن ہے، انہوں نے کہا کہ نیب کرپٹ عناصر کو سی پیک سمیت قومی اہمیت کے تمام منصوبوں میں بدعنوانی سے روکنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے اور کرتا رہے گا کیونکہ سی پیک کا منصوبہ نہ صرف پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے بلکہ خطے کی ترقی کیلئے بھی گیمز چینجر کی حیثیت رکھتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی بالخصوص بلوچستان کی ترقی کے ملکی معیشت پہ اچھے اور دوررس اثرات مرتب ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ نیب چہرہ نہیں بلکہ کیس دیکھتا ہے۔ پٹ فیڈر کینال سے بلوچستان کے زرعی بیلٹ کا معاشی مستقبل وابستہ ہے۔ پٹ فیڈر کینال کیس میں کرپشن کرنے والے تمام ذمہ داران کا تعین کر کے ان سے نہ صرف قومی کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کی جائیگی ۔

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ قومی احتساب بیور ملک سے کرپشن کے مکمل خاتمے کیلئے قانون کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے ہمارا جہاد بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے قوم کی لوٹی گئی تمام رقوم کی واپسی اور قومی خزانے میں جمع کرانے تک جاری رہے گا تاکہ ملک کے زرمبادلہ میں اضافہ ہو اور قومی اہمیت کے منصوبے بروقت پایہ تکمیل تک پہنچیں ۔

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے میگا کرپشن مقدمات سمیت تمام مقدمات مقررہ وقت کے اندر منطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان خزانہ کیس میں قومی احتساب بیورو کی انتھک کاوشوں سے بلوچستان کی عوام سے لوٹے گئے اربوں روپے کرپٹ عناصر سے وصول کرکے بلوچستان حکومت کے حوالے کئے گئے ہیں جو نیب کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کا الیکشن سے نہ پہلے کوئی تعلق تھا نہ آج کوئی تعلق ہے نیب قانون کے مطابق بلاتفریق بدعنوان عناصر کو گرفتار کرکے ان سے قوم کی لوٹی گئی رقم برآمد کرنے کیلئے کوشاں ہے نیب نے اب تک 296ارب روپے بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں، جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کرپشن کے تدارک ، مفادعامہ کے منصوبوں کی شفافیت کو یقینی بنانے اور میرٹ پر تکمیل سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔

بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل ملکی معیشت پہ اچھے اور دوررس اثرات مرتب کریگی، جس سے بلوچستان بھی خوشحال ہوگا اور ملک بھی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزنہ ہوگا۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کرپشن کے خلاف زیروٹالرنس کی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر عمل پیر ا ہے اور رہے گا۔ نیب قانون کے مطابق بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز اپنی کاروائیاں جاری رہے گا کیونکہ نیب کی پہلی اور آخری وابستگی پاکستان اور اسکے مفادات کا تحفظ ہے۔

چیئرمین نیب نے کرپشن کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب کرپٹ عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کاروائیوں کے علاوہ معاشرے میں کرپشن کی روک تھام اور خدمت و آگاہی و شعور کے فروغ کیلئے ملک بھر کی تعلیمی درس گاہوں میں نوجوانوں کو بدعنوانی کے ملکی ترقی پر مضر اثرات کے بارے میں آگاہی فراہم کررہا ہے کیونکہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں۔

نوجوان پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوںنے ڈی جی نیب بلوچستان کی نگرانی میں نیب بلوچستان کی کارکردگی کو سراہا اور اسے مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے افسران اور اہلکار شکایت کی جانچ پڑتال انکوائریاں اور انوسٹی گیشن کی مقررہ وقت کے اندر مکمل کریں تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کے ساتھ ساتھ ان سے قوم کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کرکے قومی خزانہ میں جمع کروائی جائے تاکہ ملک کے زرمبادلہ میں اضافہ ہو اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوا۔

Your Thoughts and Comments