سینٹ اجلاس، کیپٹن(ر) صفدر کی گرفتاری اور نواز شریف کو سزاؤں پر ن لیگی اور تحریک انصاف کے اراکین کے مابین شدید جھڑپ

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے اراکین کا عام انتخابات پر گہرے شکوک کا اظہار، الیکشن کمیشن کو ڈکٹیشن کمیشن قرار دیدیا انجینئرڈ الیکشن ہورہے ، ن لیگ کے رہنمائوں کو مکافات عمل کا سامناہے ، ایم کیو ایم اراکین ْ ایسے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں کہ مخصوص پارٹی کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے،راجہ ظفرالحق

پیر جولائی 22:17

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جولائی ء) سینٹ اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے اراکین کے مابین نیب سے سزا یافتہ کیپٹن(ر) صفدر کی گرفتاری اور مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کو دی جانیو الی سزاؤں پر شدید جھڑپ ، پیپلز پارٹی جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اراکین نے کرپشن کیسز میں گرفتاری کو سیاسی مخالفت قرار دینے کے مسلم لیگ ن کے سینیٹرز کے بیانات کو مسترد کر دیا۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے اراکین نے اگلے عام انتخابات پر گہرے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ڈکٹیشن کمیشن قرار دیدیا جبکہ ایم کیو ایم کے اراکین نے انجینئرڈ الیکشن قرار دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو درپیش صورتحال مکافات عمل قرار دیا ہے۔

(جاری ہے)

سوموار کے روز سینٹ اجلاس کے د وران نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا کہ ملک میں ایسے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں جس سے ایک مخصوص پارٹی کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے سینیٹر چوہدری تنویر خان کو سینٹ اجلاس میں شرکت سے روکا گیا ہے اس صورتحال کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

سینیٹر چوہدری تنویر خان نے کہا کہ میرے خلاف 3تھانوں میں ایف آئی آر درج ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لئے سب کچھ کیا جا رہا ہے اگر الیکشن کے دوران دفعہ 144نافذ ہو جائے تو ہم اپنا الیکشن مہم کسی طرح چلائیں گے۔ تحریک انصاف کے سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ کسی بھی مجرم کو تحفظ دینا بھی جرم ہے اگر عدالت ایک شخص کو مجرم قرار دیا ہے تو اس کو تحفظ نہیں دینا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ ایک مجرم کو ریلی نکالنے کی اجازت کیوں دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت ایک پارٹی کے مجرموں کو کھلی چھٹی دے رہی ہے ۔ کیپٹن (ر) صفدر نے بی اے نہیں کیا مگر اس کو جیل میں اے کلاس دی گئی ہے۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق غنی نے کہا ہے کہ اگر ملک میں صاف شفاف اور غیر جانبدار انتخابات ہوئے بیلٹ بکس کا تقدس پامال کیا گیا تو اس ے اثرات پاکستان کی سلامتی پر بہت خطرناک پڑیں گے۔

اس ادارے کو یہ ضمانت دینی ہو گی کہ کوئی بھی ادارہ پس پردہ رہ کر اس انتخابات کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے اس سے سیاستدان بدنام اور سیاست کا وقار خاک میں مل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ نیب اور بینکوں سے قرضے لیکر معاف کرانے والے کسی صورت معافی کے حقدار نہیں ہیں اسی وجہ سے پاکستان قرضوں کی دلدل میں پھنس چکا ہے اس کے خلاف بلا احتساب کارروائی ہونی چاہیئے۔

تاہم یہ کسی ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ سب کرپٹ عناصر کے خلاف ہونا چاہیئے۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ نیب پورے پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور عہدیداروں کے خلاف مقدمات قائم کر رہی ہے ان حالات کا نوٹس لینا چاہیئے۔ سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ جو لوگ ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں ان کو مقدمات قائم کئے جا رہے ہیں۔ کیا الیکشن کے دنوں میں دفعہ144کا نفاذ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مخصوص افراد کو جیپ کا نشان کیوں دیا جا رہا ہے اس کو بھی دیکھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک شخص کو کیوں دبایا جا رہا ہے۔ وہ جو مکے دکھاتا ہے اس کے خلاف بھی کارروائی کریں۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ نگران حکومت جن مقاصد کے لئے بنائی جاتی ہے وہ مقاصد پورے نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات ہائی جیک کرنے کی سازش کی جا رہی ہے ایسے حالات میں سینٹ کو جاگنا ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ مثبت نتائج کی خواہش رکھنے والے مکمل طور پر سرگرم ہیں اگر ایسے حالات میں سینٹ بھی اپنا کردار ادا نہ کرے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو سزا بد عنوانی کی نہیں بلکہ 25تاریخ کے انتخابات کو ہروانے کے لئے دی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینٹ کا حالیہ اجلاس 25جولائی تک جاری رہے اور معاملات کے لئے پورے ہاؤس کی کمیٹی بنائی جائے۔

سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ نیکٹا نے سیاستدانوں کو درپیش خطرات کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کیا ہے اور کئی سیاسی جماعتوں کے سربراہ نشانے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ پارٹی کے سربراہ محفوظ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی سربراہوں کو خصوصی سکیورٹی دی جائے اور اگر کسی بھی صوبے میں کچھ ہوا تو چیف سیکرٹری ، ہوم سیکرٹری اور آئی جی پولیس اس کے ذمہ دار ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کے بعد ایک دوسرا خطرہ داعش کی صورت میں ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ اور ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مسائل سے نمٹنے کے لئے متحد ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چھپے دشمنوں کے خطرات درپیش ہیں اور بعض دشمن ہمارے اندر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملے کرنے والے کہیں باہر سے نہیں بلکہ ہمارے اندر ہی سے نکلتے ہیں ۔

ہمیں صورتحال کو دیکھنا ہو گا۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ملک میں تمام ادارے اپنا کام کر رہے ہیں اور ان کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں بیٹھ کر کرپشن کا دفاع کریں گے تو اس کے غلط نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قانون کا ساتھ دینا ہو گا۔ ہم قانون بنانے والے اور قانون کو کوڑنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی جرم میں سزا ہونا کوئی سیاسی دشمنی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے اور ہر ایک کو اپنے جرم کا حساب دینا ہو گا۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ غیر جمہوری قوتیں الیکشن پر اثر انداز ہو رہی اور نگران حکومت ، الیکشن کمیشن اور میڈیا کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح نیب کو یرغمال بنایا گیا ہے ۔ عدالتوں کے نام پر سیاست ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کا حق عوام کو حاصل ہے اور کسی ادارے کو اس کا حق نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن مکمل طور پر با اختیار ہے ۔ حلقہ بندیوں میں بہت زیادہ خلاف ورزیاں کی گئی ۔ اس طرح الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی بعض سیاسی جماعتوں کے امیدوار خلاف ورزی کر رہی ہے ۔ اس کا نوٹس لینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کی جانب داری پر عوام اس کا حساب لے گا۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر سردار اعظم موسیٰ خیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن ڈکٹیشن کمیشن ہے ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کو ہمیشہ ڈکٹیشن پر چلایا گیا ہے اداروں کا کام ملک ی دفاع ہے اس کا کام سیاست نہیں ہے بنگلہ دیش انہی اداروں کی وجہ سے بنا ہے۔

ہم ملک کی سالمیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں سیاسی جماعتوں نے ملک بنایا ہے اور ایم کیو ایم کے بیرسٹر سیف نے کہا کہ اگر کسی کو بھی یہ غلط فہمی ہے کہ آنے والے انتخابات صاف اور شفاف ہیں تو اس کو اپنی غلط فہمی دور کرنی چاہیئے آنیوا لے انتخابات انجینئرڈ ہیں اور کون یہ سب کچھ کر رہا ہے یہ سب کو معلوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاستدان موجودہ حالات کے برابر کے شریک ہیں اور ہر سیاسی جماعت نے اپنے دور میں دوسرے سیاستدانوں کو دیوار سے لگایا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس ایوان میں حلف لیکر آئے ہیں ہمیں انصاف سے کام لیکر اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیئے۔ آج جو صورتحال مسلم لیگ ن کو درپیش تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگلے عام انتخابات شفاف نہیں ہونگے اور سینٹ کی طرح قومی اسمبلی کی حالت بھی خراب ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی نے مذہب اور کسی نے قومیت کے نام پر ملک کو بیچا ہے۔ اپوزیشن لیڈر شیری رحمن نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی خواہش ہے کہ انتخابات شفاف ہوں اور تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں ماحول ملے۔

انہوں نے کہا کہ نیکٹا کی رپورٹ کا بھی ایوان کو نوٹس لینا چاہیئے موجودہ صورتحال تشویشناک ہے ۔ تمام سیاستدانوں کو سکیورٹی فراہم کرنا نگران حکومت کا کام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کو بھرپور تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک میں پاکستان کا تشخص بے حد مجروح ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات میں 156کے قریب امیدواروں کا تعلق کالعدم اور انتہا پسند تنظیموں سے ہے اور فورتھ شیڈول سے نام نکلوا کر انہیں انتخابات لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اگر یہ صورتحال رہی تو ہم کس طرح پاکستان کی سرزمین کو دہشتگردی سے پاک کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی مسلح گروپ کرتے ہیں جو ملک میں پہلے نفرت کا ماحول بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیئے اور ہر ادارے کو اپنی حدود کے اندر کام کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کی ہم پر نظریں ہیں اس وقت ملک میں نفرتوں اور بد تمیزی کا طوفان اٹھا ہوا ہے۔ سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ شریف خاندان پر کسی قسم کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی ہے ۔ تاہم ان کو ایون فیلڈ خریدنے کا ثبوت پیش نہ ہونے پر سزا دی گئی ہے اور یہ صورتحال ان تمام افراد کے لئے ہے جنہیں ان کے دادا یا نانا نے جائیداد دی ہے۔

Your Thoughts and Comments