انتخابات 2018ء :پاکستان تحریک انصاف نے اپنا منشور پیش کردیا

کرپشن ،توانائی و آبی بحران اور غربت کا خاتمہ ، ڈیموں کی تعمیر،تعلیم و صحت کی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیحات میں شام ایک کروڑ نوکریاں ، بے گھرافراد کو پچاس لاکھ گھر فراہم کیے جائیں گے خارجہ پالیسی بین الاقوامی روایات کی پاسداری کے اصولوں ،باہمی مفادات، دوطرفہ معاملات پر استوار ،اندرونی وبیرونی سلامتی پالیسی کیلئے پالیسی سازی کے ڈھانچے کی اصلاح ،کم از کم دفاعی صلاحیت یقینی بنانا دفاعی پالیسی کا مرکزی اصول ہوگا عالمی سطح پر اسلحے پر قابو اور اس کے عدم پھیلائو کے اقدامات کے حوالے سے مساوات کے اصول کے پیشِ نظر بھارت کو اسٹریٹجک مذاکرات کی دعوت دی جائے گی قومی اداروں میں اصلاحات ،آئی ٹی شعبہ اور سیاحت کو فروغ ،صنعتیں بحال ، گلگت بلتستان کو مزید اختیارات سونپیں گے جنوبی پنجاب صوبہ کی حمایت ،بلوچستان میں مفاہمت کو فروغ دیں گے،تنظیمی ڈھانچے میں کلیدی اصلاحات سے کراچی میں انقلابی تبدیلیاں لائیں گے فاٹاکے پختونخوامیں انضمام کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے،پختونخواکی طرز پر غیرسیاسی پولیس کاماڈل متعارف ،اختیارات اور فیصلہ سازی گائوں کی سطح تک منتقل کریں گے، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا تقریب سے خطاب

پیر جولائی 23:08

.اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جولائی ء)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارٹی منشور پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ کیا جائیگا ، بے روزگاروں کیلئے ایک کروڑ نوکریاں اور بے گھر افراد کو پانچ سالوں میں پچاس لاکھ گھر فراہم کیے جائیں گے ، خارجہ پالیسی بین الاقوامی روایات کی پاسداری کے اصولوں پر بنائیں گے،ہم خارجہ پالیسی باہمی مفادات، دوطرفہ معاملات پر استوار کریں گے،اندرونی وبیرونی سلامتی پالیسی کیلیے پالیسی سازی کے ڈھانچے کی اصلاح کرینگے،کم از کم دفاعی اصلاحیت یقینی بنانا تحریک انصاف کی دفاعی پالیسی کا مرکزی اصول ہوگا، جبکہ عالمی سطح پر اسلحے پر قابو پانے اور اس کے عدم پھیلائو کے اقدامات کے حوالے سے مساوات کے اصول کے پیشِ نظر بھارت کو اسٹریٹجک مذاکرات کی دعوت دی جائے گی،آبی بحران کے حل کیلئے بھاشا جیسے ڈیمز اور قومی واٹر پالیسی کا نفاذ یقینی بنائیں گے،ایف بی آر میں اصلاحات متعارف کرائیں گے،آئی ٹی کے شعبے اور سیاحت کو فروغ دینگے،صنعتیں بحال ،تنازعات آب کے حل کیلیے ہر ممکنہ فورم استعمال کریں گے،غربت کے خاتمے کی موجودہ کاوشوں کو مزید تقویت پہنچائیں گے،گلگت بلتستان کو مزید اختیارات سونپیں گے،پسماندہ اضلاع سے غربت کے خاتمے کیلیے خصوصی طریقہ کاراپنائیں گے،جنوبی پنجاب صوبے کی تحریک اٹھائیں گے،بلوچستان میں مفاہمت کو فروغ دیں گے،تنظیمی ڈھانچے میں کلیدی اصلاحات سیکراچی میں انقلابی تبدیلیاں لائیں گے،فاٹا انضمام کے حوالے سے خصوصی مالی وسائل مختص کریں گے، فاٹاکے پختونخوامیں انضمام کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے،انتظامی ڈھانچے میں کلیدی اصلاحات سیکراچی میں انقلابی تبدیلیاں لائیں گے،پختونخواکی طرز پر غیرسیاسی پولیس کاماڈل متعارف کرائیں گے،اختیارات اور فیصلہ سازی گائوں کی سطح تک منتقل کریں گے،نیب کو خودمختار بنائیں گے،کرپشن مقدمات کاپیچھا کریں گے،ملک میں نوجوانوں کو نوکریاں دینا بھی ایک بڑا چیلنج ہے،کمزورطبقے کوغربت سے نکال کر تعلیم اور صحت کی سہولیات دیں گے،ریاست کی ذ مے داری ہے کہ کمزور طبقے کے لیے کام کرے،اداروں کو مضبوط بنایا جائے اورٹیکس کوعوام کی فلاح پرخرچ کیا جائے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی منشور پیش کرتے ہوئے کیا ۔عمران خان نے کہاکہ پی ٹی آئی قومی احتساب بیور(نیب(کو خود مختار بنائے گی اور کرپشن کے تمام مقدمات کا پیچھا کیا جائے گا۔منشور میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی عوام کو با اختیار بنائیں گی اور بلدیاتی اداروں کے ذریعے اختیارات اور فیصلہ سازی گاں کی سطح تک منتقل کرے گی۔ تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی طرز پر غیر سیاسی پولیس کا ماڈل دیگر صوبوں میں بھی متعارف کروائے گی۔

شہریوں کو فوری اور معیاری انصاف کی فراہمی کیلئے ہم عدالتی اصلاحات کا جامع پروگرام شروع کریں گے۔ ہم انتظامی ڈھانچے میں کلیدی اصلاحات اور عوام کو خدمات کی فراہمی کے ذریعے کراچی میں انقلابی تبدیلیاں برپا کریں گے۔پی ٹی آئی فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچائے گے اور خصوصی مالی و سائل مختص کرے گی۔

بلوچستان میں مفاہمت کو فروغ دیا جائے گا، جنوبی پنجاب صوبے کی تحریک کی حمایت کی جائے گی اور گلگت بلتستان کو مزید اختیارات دیے جائیں گے،اس کے علاوہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پسماندہ اضلاع سے غربت کے خاتمے کیلئے خصوصی طریقہ کار اپنایا جائے گا اور غربت کے خاتمے کی موجودہ کاوشوں کو مزید تقویت پہنچائی جائے گی۔اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور قومی معاملات میں سمندر پار پاکستانیوں کے کردار میں اضافہ کیا جائے گا۔

عمران خان نے کہا کہ ہم ایک کروڑ نوکریا ں پیدا کریں گے اور 50 لاکھ گھر بنائیں گے، اس کے ساتھ ساتھ سیاحت کو فروغ دیا جائے گا، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو بحال کیا جائے گا، اور آئی ٹی کے شعبے میں فروغ دیا جائے گا۔ ایف بی آر میں اصلاحات متعارف کروائیں گے، ویلتھ فنڈ کے قیام کے ذریعے ریاست کے زیرِ ملکیت اداروں کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھائیں گے اور عوام کے لیے سرمائے کی دستیابی یقینی بنائیں گے پاکستان کو کاروبار دوست بنائیں گے اوردو طرفہ روابط قائم کر کے سی پیک کو گیم چینجر میں تبدیل کریں گے۔

توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات کو کم اور دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی کویقینی بنائیں گے۔پانی کے انتظام کو بہتر بنانے اور پانی کا ضیاع روکنے کے لیے فوری طور پر ڈیم تعمیر کریں کیے جائیں گے اور قومی واٹر پالیسی کا نفاذ یقینی بنائیں گے۔ہم آبی تنازعات کے حل کے لیے ہر ممکنہ فورم استعمال کریں گے، زراعت کو کسان کے لیے منافع بخش بنائیں گے، پیداواری لاگت کم کریں گے، زرعی منڈیوں کی اصلاح کریں گے اور ویلیو ایڈیشن میکانائزیشن کے لیے سہولیات کی فراہمی کا بیڑا اٹھائیں گے۔

ہم لائیو اسٹاک کے شعبے میں نمایاں بہتری لائیں گے، پاکستان کو دودھ اور دودھ سے حاصل ہونے والی مصنوعات میں خودکفیل بنائیں گے اور برآمد ات میں اضافے کیلئے گوشت کی پیداوار بڑھائیں گیاور ماہی گیری کی صنعت بحال کرینگے اور مچھلی کے ذخیرے میں اضافہ کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف تعلیم کی اصلاح کے مجموعی ایجنڈے کے تحت ملک بھر کے اسکولوں، جامعات، ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز اور دینی مدارس میں اصلاحات متعارف کرائے گی۔

ہم صحت کے شعبے میں بھی انقلاب لائیں گے صحت انصاف کارڈ کا دائرہ کار پورے ملک میں وسیع کیا جائے گا۔ہم تعلیم اور روزگار میں درپیش مسائل کو دور کرتے ہوئے نوجوانوں پر خصوصی سرمایہ کاری کی جائے گی۔پاکستان ہم سب کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا اور ماحولیات کے تغیر کو مٹانے کے لیے 10 ارب درخت لگائے جائیں گے۔عمران خان کی جانب سے پیش کردہ منشور کے مطابق ان کی جماعت الیکشن میں فتح یاب ہونے کے بعد اہم داخلی و خارجی سلامتی پالیسی کے لیے پالیسی سازی کے ڈھانچے کی اصلاح کریں گے۔

ہم خارجہ پالیسی باہمی مفادات، دوطرفہ معاملات اور بین الاقوامی روایات کی پاسداری کے رہنما اصولوں پر استوار کریں گے اور تنازعہ کشمیر کے حل پر کام کا آغاز بھی کیا جائے گا۔ہم ریاست کو اندرونی طور پر لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے مختلف سطح پر دہشت گردوں کے نظریے، انسانی و سائل، مالیات اور اسلحہ کو شکست دیں گے۔دفاعی صلاحیت کے حوالے سے منشور میں کہا گیا کہ کم از کم دفاعی اصلاحیت یقینی بنانا تحریک انصاف کی دفاعی پالیسی کا مرکزی اصول ہوگا، جبکہ عالمی سطح پر اسلحے پر قابو پانے اور اس کے عدم پھیلا کے اقدامات کے حوالے سے مساوات کے اصول کے پیشِ نظر بھارت کو اسٹریٹجک مذاکرات کی دعوت دی جائے گی۔

انتخابی منشور کے مطابق یہ واحد صوبہ ہے جس نے بلدیاتی اداروں کو اختیارات منتقل کیے اور ترقیاتی فنڈز کا 30 فیصد حصہ مختص کیا، یہاں پولیس کو غیر سیاسی بنایا گیا اور اہلیت کی بنیاد پر پیشہ وارانہ نظام نافذ کیا۔صحت کے بجٹ میں 3 گنا اضافہ کیا ،70 فیصد مستحق گھرانوں کو صحت انصاف کارڈ کا اجرا کیا گیا اور ہسپتالوں میں 5 ہزار بستروں کااضافہ کیا۔تعلیم کے لیے کم از کم 20 فیصد سالانہ بجٹ فراہم کیا، اہلیت کی بنیاد پر 57 ہزار اساتذہ بھرتی کیے اور 10 ہزار اسکول، 47 کالجز اور 10 جامعات قائم کیں، جبکہ بون چیلنج کو پورا کرتے ہوئے صوبے میں ایک ارب درخت لگائے۔

Your Thoughts and Comments