بے نامی اکائونٹس ،29کمپنیز اور 35ارب کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں،

پہلے بھی ایسے کیسز کا سامنا کیا اب بھی کروں گا، ڈنگ مارنا نواز شریف کی خصلت میں شامل ہے، میرے خلاف بھی جے آئی ٹی بن چکی ، عدالت کا براہ راست نوٹس ملنے پر اگلے دن پیش ہو جائوں گا،الیکشن کا بائیکاٹ کسی سیاسی جماعت کیلئے مسئلے کا حل نہیں،الیکشن میں حصہ لینا ہی مسائل کا حل ہے،سنتا سب کی ہوں مگر کرتا وہ ہوں جو پیپلز پارٹی اور ملکی مفاد میں ہو، 50لاکھ روپے دے کرواپس لینا مشکل ہوتا ہے تو کسی کے نام پر اربوں روپے کی کمپنیز کیسے بنا سکتا ہوں،حسین لوائی قابل بینکر ہیں، ان کو ٹارچر کیا جا رہا ہے، اس کی مذمت کرتا ہوں، اگلی حکومت جس نے بھی بنانی ہے اسے پی پی پی سے بات کرنی ہو گی، پیپلز پارٹی نے کبھی بھی غیر جمہوری قوتوں کے ساتھ اتحاد نہیں کیا،تفتیش کے دوران میری ٹانگوں کے ساتھ بم باندھ دیا گیا مگر آج تک میرے خلاف کوئی کیس ثابت نہ ہو سکا،مجھے لگتا ہے نواز شریف نے اپنا کیس صحیح نہیں لڑا، نواز شریف کیس کا بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے مقدمات سے موازنہ نہ کیا جائے، کہاں بے نظیر بھٹو شہید اور کہاں مریم نوازہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری کا نجی ٹی وی کو انٹرویو

بدھ جولائی 22:31

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ جولائی ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بے نامی اکائونٹس ،29کمپنیز اور 35ارب کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں، پہلے بھی ایسے کیسز کا سامنا کیا اب بھی کروں گا، ڈنگ مارنا نواز شریف کی خصلت میں شامل ہے، میرے خلاف بھی جے آئی ٹی بن چکی ہے، عدالت کا براہ راست نوٹس ملنے پر اگلے دن پیش ہو جائوں گاالیکشن کا بائیکاٹ کسی سیاسی جماعت کیلئے مسئلے کا حل نہیں،الیکشن میں حصہ لینا ہی مسائل کا حل ہے،سنتا سب کی ہوں مگر کرتا وہ ہوں جو پیپلز پارٹی اور ملکی مفاد میں ہو، 50لاکھ روپے دے کرواپس لینا مشکل ہوتا ہے تو کسی کے نام پر اربوں روپے کی کمپنیز کیسے بنا سکتا ہوں،حسین لوائی قابل بینکر ہیں، ان کو ٹارچر کیا جا رہا ہے، اس کی مذمت کرتا ہوں، اگلی حکومت جس نے بھی بنانی ہے اسے پی پی پی سے بات کرنی ہو گی، پیپلز پارٹی نے کبھی بھی نان جمہوری قوتوں کے ساتھ اتحاد نہیں کیا،تفتیش کے دوران میری ٹانگوں کے ساتھ بم باندھ دیا گیا مگر آج تک میرے خلاف کوئی کیس ثابت نہ ہو سکا،مجھے لگتا ہے نواز شریف نے اپنا کیس صحیح نہیں لڑا، نواز شریف کیس کا بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے مقدمات سے موازنہ نہ کیا جائے، کہاں بے نظیر بھٹو شہید اور کہاں مریم نوازہیں۔

وہ بدھ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ ہمارے خلاف کرپشن کا 40ارب روپے کا ڈھول بجایا گیا اور جو قانونی نوٹس آیا ہے وہ ڈیڑھ کروڑ روپے کا ہے، کوئی بات تو ہے جس کی پردہ داری ہے، بے نامی اکا?نٹس ،29کمپنیز اور 35ارب کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں، پہلے بھی ایسے کیسز کا سامنا کیا اب بھی کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ حسین لوائی قابل بینکر ہیں، ان کو ٹارچر کیا جا رہا ہے، اس کی مذمت کرتا ہوں، کسی کو 50لاکھ روپے دے دیں تو واپس لینا مشکل ہوتا ہے تو میں کسی کے نام پر کروڑوں اربوں روپے کی کمپنیز کیسے بنا سکتا ہوں،سیاستدان کبھی ختم نہیں ہوتا۔

ملک میں جوڈیشل مارشل لاء سے متعلق سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اسے ہم نے جمہوری طریقے سے روکنا ہے اور ملک کو جمہوری پٹڑی سے اترنے نہیں دینا،احتساب کا یہ وقت نہیں ہے، احتساب انتخابات سے قبل ہونا چاہیے یا الیکشن کے بعد ہونا چاہیے،بی بی اپوزیشن لیڈر ہوتے ہوئے کیسز بھگتتی رہی تھیں،الیکشن کا بائیکاٹ کسی سیاسی جماعت کیلئے مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ الیکشن میں حصہ لینا ہی مسائل کا حل ہے۔

سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ اگلی حکومت جس نے بھی بنانی ہے اسے پی پی پی سے بات کرنی ہو گی، پیپلز پارٹی نے کبھی بھی نان جمہوری قوتوں کے ساتھ اتحاد نہیں کیا، حکومت چلانے کیلئے بھی اپوزیشن کی ضرورت ہے، ہمیں کسی کی حمایت نہیں تھی مگر نواز شریف کو غیر جمہوری قوتوں کی حمایت حاصل تھی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی سیاست کا انحصار حالات پر منحصر ہے، ہم نے تو ایک بار نواز شریف کو بچایا بھی تھا، سیاستدان کبھی سیاسی موت نہیں مرتا، ڈاکٹر عاصم میرا دوست ہے، منظور کا کا اور ناصر مرائی میرے دوست نہیں ہیں، شرجیل میمن بھی وزیر رہا مگر میرا دوست نہیں ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ کے ڈی اے میں ایک ٹرک آیا اور سارے کاغذات اٹھا کر لے گیا جس پر ہم نے رد عمل دیا، میں سب کی سنتا ہوں مگر کرتا وہ ہوں جو پیپلز پارٹی اور ملکی مفاد میں ہو، کونسا ایسا کیس ہے جو مجھ پر نہیں بنایا گیا، میری ٹانگوں کے ساتھ بم باندھ دیا گیا مگر آج تک میرے خلاف کوئی کیس ثابت نہ ہو سکا،آصف زرداری نے ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی بیٹی کے میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی کے ساتھ موازنے پر شعر کہا کہ ’’میخانے کی توہیں ہے رندوں کی ہتک ہے، کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے‘‘بے نظیر بھٹو کو 19سال کی عمر میں 5سال تک جیل میں قید رکھا گیا، محترمہ کو جیل میں بھی سی کلاس میں رکھا گیا ان کو کھانا بھی جیل سے کھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے نواز شریف نے اپنا کیس سہی نہی لڑا، نواز شریف کیس کا بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے مقدمات سے موازنہ نہ کیا جائے، کہاں بے نظیر بھٹو شہید اور کہاں مریم نواز، ڈنگ مارنا نواز شریف کی خصلت میں شامل ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ میرے خلاف بھی جے آئی ٹی بن چکی ہے، عدالت کا براہ راست نوٹس ملنے پر اگلے دن پیش ہو جا?ں گا، جس ملک کی فوج ٹوٹ جاتی ہے وہ ملک بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

Your Thoughts and Comments