نوازشریف کو امن سے کوئی دلچسپی ہے نہ وہ مذاکرات میں سنجیدہ ہیں،منورحسن ، طالبان سے مذاکرات کے لیے دوبارہ اے پی سی کی ضرورت نہیں ، حکمران خود مذاکرات نہیں چاہتے،پیلی ٹیکسی سکیم کی طرح یوتھ لون سکیم بھی چند لوگوں کو نوازنے اور قومی خزانے کا بیڑا غرق کرنے کا سبب بنے گی ، منصورہ میں پریس بریفنگ

اتوار جنوری 06:35

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔19جنوری۔2014ء)امیر جماعت اسلامی پاکستان سیدمنورحسن نے کہاہے کہ میاں نوازشریف کو امن سے کوئی دلچسپی ہے نہ وہ مذاکرات میں سنجیدہ ہیں ۔ طالبان سے مذاکرات کے لیے دوبارہ اے پی سی کی ضرورت نہیں ۔ حکمران خود مذاکرات نہیں چاہتے ۔ اے پی سی نے تو متفقہ طور پر مذاکرات کی حمایت کی تھی اور حکومت کو مذاکرات کا مینڈیٹ دے دیا تھا۔

حکومتوں کی ذمہ داری ملک میں لااینڈ آرڈر کی صورتحال کو بہتر بنانا اور آئین و قانون پر عملدرآمد کرواناہوتاہے ، جبکہ موجودہ حکمران نوجوانوں کو قرضے کی دلدل میں پھنسا کر اور لیپ ٹاپ تقسیم کر کے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ براء ہوناچاہتے ہیں ۔ وزیراعظم کو بیرونی دوروں سے فرصت تو شاید مل گئی ہے اس کے باوجود وہ پارلیمنٹ میں نہیں جاتے ۔

(جاری ہے)

حکومت کی آٹھ ماہ کی کارکردگی سے عوام بری طرح مایوس ہو گئے ہیں ان کے صبر کا پیمانہ لبریز اور جینا دوبھر ہوگیاہے ،وہ ان نااہل حکمرانوں سے جتنی جلدی ممکن ہو چھٹکاراچاہتے ہیں ۔

ٹیکس جمع کرنے اور کرپشن کے خاتمے میں ناکامی پر حکمرانوں نے نج کاری کا ڈھونڈورا پیٹنا شروع کر دیاہے ۔ جماعت اسلامی قوم کو ساتھ لے کر نجکاری کے خلاف تحریک چلائے گی ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے شباب ملی کی مرکزی کونسل کے اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر شباب ملی پاکستان کے صدر عتیق الرحمن ، سیکرٹری جنرل حافظ محمود ، چاروں صوبائی صدور و سیکرٹری بھی موجود تھے ۔

سیدمنورحسن نے کہاکہ نوازشریف نے قرضہ سکیم آئی ایم ایف اور بینکوں کو خوش کرنے کے لیے شروع کی ہے ۔ پورے ملک کو امریکہ اور آئی ایم ایف کے ہاتھ گروی رکھنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ پیلی ٹیکسی سکیم کی طرح یوتھ لون سکیم بھی چند لوگوں کو نوازنے اور قومی خزانے کا بیڑا غرق کرنے کا سبب بنے گی ۔ انہوں نے کہاکہ گورنر سٹیٹ بنک اور وزیرخزانہ کے جائنٹ دستخطوں سے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبے اور کونسل آف کامن انٹرسٹ کا نج کاری پراتفاق ہے جس کے جواب میں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیاہے ۔

سیدمنورحسن نے کہاکہ حکومت فوری طور پر ایک جائزہ کمیشن تشکیل دے جو گزشتہ 23 سال میں پرائیوٹائز کیے گئے قومی اداروں ، ان سے حاصل ہونے والی آمدن اور ان کو فروخت کرنے سے بے روزگار ہونے والے مزدوروں کی تعداد سے قوم کو آگاہ کرے اور جن چار بینکوں کو نوازشریف نے اپنے سابقہ دور حکومت میں پرائیوٹائز کیا تھا ، اس سے معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا بھی جائزہ لیا جائے ۔

انہوں نے کہاکہ حکومت جن 68 اداروں کو اونے پونے بیچنے کا ارادہ رکھتی ہے ان سے لاکھوں مزدور بے روزگار ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں کو عوام ووٹ دیتے ہیں ، وہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہی عوام کش پالیسیاں شروع کر دیتے ہیں ۔ حکومت قوم کو آئی ایم ایف کی غلامی سے نکالنے ، مہنگائی ،بے روزگاری او ر بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ سمیت اپنے تمام وعدے بھلا بیٹھی ہے ۔

حکمران عوام سے کیے گئے وعدوں اور اپنے منشور کو بھول چکے ہیں ۔کراچی میں دہشتگردی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سید منورحسن نے کہاکہ جب تک کراچی میں ایم کیو ایم موجود ہے ، امن قائم ہوسکتا ہے نہ دہشتگردی ختم ہوسکتی ہے ۔ ایم کیو ایم بوری بند لاشوں، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے کلچر کی موٴجد ہے ۔ ایم کیو ایم کی مرضی کے بغیر کوئی آپریشن کامیاب نہیں ہوسکتا ۔

انہوں نے کہاکہ چودھری محمد اسلم جیسے جری اور بہادر آفیسر کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنادیا گیاہے ۔ فرنٹ فٹ پر کھیلنے والے کو اپنے رستے سے ہٹانے والوں کو حکومت اچھی طرح جانتی ہے مگر مجرموں اور سیاسی جماعت کا نام لینے کو تیار نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اگر ایسے ذمہ دار لوگوں کو تحفظ حاصل نہیں تو عوام کے جان و مال کے حفاظت کی ضمانت کون دے گا۔

سیدمنورحسن نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ اس وقت دیو بندی مکتب فکر کے علما کو ٹارگٹ کیا جارہاہے جبکہ طالبان خود دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں ، فوراً کہہ دیاجاتاہے کہ طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نائن الیون کا واقعہ سوچا سمجھا واقعہ تھا اس کی آڑ میں امریکہ نے افغانستان کو ٹارگٹ کیا حالانکہ نائن الیون کے واقعہ میں کوئی افغانی باشندہ شریک نہیں تھا ۔

امریکہ بغیر کسی ثبوت کے افغانستان پر چڑھ دوڑا ۔ دنیا کی ساٹھ فیصد فوج گزشتہ بارہ سال سے افغانستان کو تباہ کرنے میں مصروف ہے اس کے باوجود ہزیمت سے دوچار ہے ۔ انہوں نے کہاکہ طالبان کی حکومت ختم کی گئی اور امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان پر حملہ کیاگیا ۔ انہوں نے کہاکہ آج بھی ان کے خلاف آپریشن جاری ہے ۔

Your Thoughts and Comments