ملک کے36 فیصد افراد ماہانہ تین سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں، سبسڈی نہ دی گئی تو مہنگائی کی شرح مزید بڑھ سکتی ہے؛ اسٹیٹ بنک کی انرجی سیکٹرکی ر پورٹ، تین سویونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو ماہانہ 420 روپے تک سبسڈی ملتی ہے، صوبائی حکومتوں و نجی شعبے کے ذمے واجبات کو وصول کرنے کیلئے فوری اقدمات کئے جائیں

پیر جنوری 05:41

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔20جنوری۔2014ء)مرکزی بنک نے کہا ہے کہ ملک کے36 فیصد افراد ماہانہ تین سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں، سبسڈی نہ دی گئی تو مہنگائی کی شرح مزید بڑھ سکتی ہے جبکہ اس وقت پچاس روپے یونٹ تک بجلی پیدا کی جا رہی ہے،وفا قی و صوبائی حکومتوں کو توانائی پر ٹیکس عائد کرکے باآسانی آمدنی حاصل ہوجاتی ہے ، اسی لئے پاکستان میں توانائی کے شعبے پر 9 مختلف قسم کے ٹیکسز عائد ہیں ۔

اسٹیٹ بنک کی جانب سے انرجی سیکٹر پر جاری رپورٹ کے مطابق تین سویونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو ماہانہ 420 روپے تک سبسڈی ملتی ہے۔ سبسڈی نہ دینے کی صورت میں مہنگائی کی متوقع شرح 10.5 سے بڑھ کر11.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ بجلی کی پیداواری قیمت اور صارفین کو دی جانے والی قیمت میں ساڑھے پانچ روپے فرق ہے۔

جون میں حکومت نے تین سو بائیس ارب روپے گردشی قرضوں کی مد میں ادا کئے تاہم صوبائی حکومتوں اور نجی شعبے کے ذمے واجبات کو وصول کرنے کے لئے فوری اقدمات کرنا ہوں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو توانائی پر ٹیکس عائد کرکے باآسانی آمدنی حاصل ہوجاتی ہے اور اسی لئے پاکستان میں توانائی کے شعبے پر 9 مختلف قسم کے ٹیکسز عائد ہیں ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی ٹیکس آمدنی بڑھانے کے لیے توانائی کے شعبے میں ٹیکسز عائد کرتی ہیں کیونکہ یہ ٹیکس آسانی سے لگ جاتا ہے۔وفاقی حکومت کے توانائی پر 7 ٹیکسز اور 2 نان ٹیکس لیویز عائد ہیں جبکہ صوبائی سطح پر چھوٹی لیویز اس ٹیکس کے علاوہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس سال مائع پٹرولیم گیس اور قدرتی گیس پر مزید ٹیکس لگائے گئے۔ پٹرول اور بجلی مہنگی ہونے سے ٹیکس میں بھی اضافہ ہورہا ہے تو آمدنی بھی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں لوگوں کے پاس توانائی کے متبادل محدود ہیں اور متبادل توانائی محدود ہونے کی وجہ سے قیمت میں اضافے کے باوجود بھی طلب بڑھتی ہے جو ٹیکس آمدنی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ سی این جی سستی ہونے کے باوجود بھی تیل کا درآمدی بل کم نہیں ہو رہا۔ ٹیکسز قیمت پر کئی گنا اثرانداز ہوتے ہیں اور بجلی ، پٹرول اور سی این جی کی قیمت میں اضافے سے ٹیکسز اسے اور مہنگا کردیتے ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments