حکمران کرپشن ،نااہلیت،اور آمرانہ رویوں کی وجہ سے قوم کو بھیانک مستقبل کی طرف دھکیل رہے ہیں ،طاہر القادری،ملک کومارشل لاء اور جمہوریت کے نام پر لو ٹ کھسوٹ سے بچانا ہے،ظالموں سے ملک کا قبضہ چھین کر پر امن طریقے سے عوام کو منتقل کریں گے،تبدیلی چاہنے والوں کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ لٹیروں کے نظام کا حصہ رہنا ہے یا عوام کے ساتھ کھڑے ہونا ہے، پاکستان عوامی تحریک کی ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب

بدھ جنوری 06:40

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔22جنوری۔2013ء)پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے کہا ہے کہ موجودہ حکمران کرپشن،نااہلیت،اور آمرانہ رویوں کی وجہ سے اس قوم کو تباہی ،انارکی اور بھیانک مستقبل کی طرف دھکیل رہے ہیں ۔ مارشل لاء نام نہاد سیاسی لیڈروں کی ناکامی نااہلیت اور حد سے بڑھ جانے والی کرپشن کی وجہ سے آتے رہے ۔فوجی لیڈروں کو بیٹھے بٹھائے از خود ملک کے سول افیئرز پر قبضہ کرنے کا کوئی شوق نہیں ہو تا ۔

کبھی بھی ملٹری رول نافذ کرنے سے فوج کی عزت افزائی نہیں ہوئی ،بلکہ وہ متنازعہ بنتے ہیں ۔ سیاسی حکمران جب انتہا کر دیں اور فوج دیکھے کہ ملک کوڑیوں کے بھاؤ لٹ رہا ہے ،مہنگائی ،بیروزگاری،بد امنی،قتل و غارت گری بم دھماکوں کا تسلسل اور لوگوں کے بنیادی حقوق کی عدم دستیابی عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکامی ،اقرباء پروری جب یہ مسائل انتہا پر چلے جائیں اور ملک کا وجود خطرے میں پڑ جائے تو پھر ان سیاست دانوں کی نا اہلیت خود فوج کو دعوت دیتی ہے ۔

(جاری ہے)

وہ مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک کی سینٹرل ورکنگ کونسل کے اجلاس سے گفتگو کر رہے تھے ۔اس موقع پر شیخ زاہد فیاض ،قاضی فیض ،ساجد بھٹی ،جواد حامد ،چودھری افضل گجر اور جی ایم ملک بھی موجود تھے ۔انہوں نے کہا کہ روزانہ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور معصوم شہریوں پر بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہو رہے ہیں ۔ حکومت مذاکرات کا ڈھونگ رچا رہی ہے ۔

جب حکمران غیر سنجیدہ ہوں امن انکی ترجیحات میں شامل ہی نہ ہو ،مہنگائی،بیروزگاری بد امنی اور امن و امان پر قابو پانا حکمرانوں کے خواب و خیال ہی میں نہ ہو ،کسی دہشت گرد پر کوئی گرفت نہ ہو ایسے مذاکرات سوائے فراڈ کے کچھ نہیں ۔خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ ملک میں قانون کی کوئی پاسداری نہیں ،سپریم کورٹ کے فیصلوں کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے ۔

22جولائی 2013ء سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا کہ ملک کے 58 بڑے اداروں کے سربراہان کی تقرری میرٹ پر ہونی چاہیے ۔دوستوں،یاروں ،فیملی اور سیاسی رفقاء میں بند ر بانٹ نہیں ہوگی ۔اس سلسلہ میں 3رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیشن قائم کیا گیا ۔ملک کے موجودہ وزیر اعظم نے 34اہم اداروں کے سربراہان کی تقرری کے احکامات کا آرڈر اختیاراتی کمیشن سے واپس لے لیا اور اپنے نا لائق اور نا اہل وزیروں کو اختیارات دے دیے۔

انہوں نے کہاکہ اعلیٰ عدالت کے احکامات کو جوتے کے نیچے روند ڈالا گیا ۔اس پر سوموٹو کرنے والے کیوں خاموش ہیں؟جس ملک میں اعلیٰ عدالت،قانون،عدل و انصاف اور آئین کی پاسداری نہ ہو ۔انسان کا خون پانی کی طرح ارزاں ہو ،حکمران صرف غیر ملکی آ قاؤں کو خوش کرنے اور اپنی کرسی پر براجمان رہنے کیلئے پورے ملک کو تباہی کے دھانے پر کھڑا کر دیں ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک ملک کو مارشل لاء سے بھی بچائے گی اور عوامی ریلے اور انقلاب کے ذریعے ان حکمرانوں کی لوٹ مار بھی ختم کرے گی ۔

ان ظالموں سے ملک کا قبضہ چھین کر پر امن طریقے سے عوام کو منتقل کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کیلئے نیک خواہشاک رکھتا ہوں مگر دو کشتیوں میں سواری ممکن نہیں۔اگر عمران خان دھاندلی کی پیداوار اس نظام کو نہیں مانتے تو پھر اس کو ٹھکرا کر باہر نکلنا ہو گا ۔اس استحصالی نظام کے خلاف جنگ لڑنا ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں دو گروہ ہیں ۔

18کروڑ عوام محروموں اور مظلوموں کی پارٹی ہے اور چند سو گھرانے جوانتخابات کے جھرلو کے ذریعے منتخب ہونے کا فن جانتے ہیں ۔ان سیاست دانوں کا فن صرف لوٹ مار ہے ۔حرام کے کروڑوں،اربوں روپے چار پانچ سالہ اقتدار میں کماتے ہیں ۔اس کمائی کا ایک حصہ اگلے الیکشن پر لگاتے ہیں ۔برادریاں اور غنڈے خریدتے ہیں ۔دہشت گردی کرتے ہیں ۔دھن،دھونس،دھاندلی کے ذریعے یہ ہمیشہ جیت کر آ تے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ تبدیلی چاہتے ہیں انہیں ایک فیصلہ کرنا ہو گا یا لٹیروں کے نظام کا حصہ رہیں یا اسے ٹھوکر عوام کے ساتھ کھڑے ہوجائیں ۔عمران خان آج فیصلہ کریں اور اگر وہ سچا سمجھتے ہیں کہ یہ دھاندلی کا الیکشن مکمل فراڈ ہے تو میں انقلاب کا اعلان دور کرنے کی بجائے جلد کردونگا۔ ایک ایک اور دو گیارہ ہوتے ہیں ۔عمران خان صاف ذہن کے ساتھ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں اس دھاندلی میں بیٹھے کیوں ہیں ۔

اسے رد کیوں نہیں کرتے ۔اس نظام نے عمران خان کو کچھ نہیں دینا ۔غریبوں اور نوجوان نسل کو کچھ نہیں دینا ۔نا اہل لوگ لوٹتے اور کھاتے رہیں گے ،پورا ملک بکنے والا ہے۔ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ نعرہ تبدیلی کا لگائیں اور بیٹھیں خائن اور کرپٹ لوگوں کا حصہ بن کر ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ اگر عمران خان اس نظام کو ٹھوکر مار کر باہر نکل آئیں تو انقلاب جلد آ جائے گا ۔دو قوتیں مل کر نکلیں گی ،کروڑوں عوام نکلیں گے۔صرف چند مہینوں میں اس ملک کے محکوم عوام کو انقلاب دینے کیلئے تیار ہوں۔

Your Thoughts and Comments