وکلاء کی جانب سے عدالتی اوقات میں ہڑتال نہ کرنے کا فیصلہ قابل تحسین ،انصاف کی فراہمی جلد اور بہتر ہوگی‘چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی، وکلاء نے جمہوریت کے لئے تحریک چلائی عوام کو انصاف کی فراہمی میں وکلاء اہم کرداراداکرتے ہیں اور قانون کی حکمرانی کے لئے وکلاء نے اہم کرداراداکیا،تقریب سے خطاب

اتوار فروری 08:38

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔2فروری۔2014ء)چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہاہے کہ وکلاء کی جانب سے عدالتی اوقات میں ہڑتال نہ کرنے کا فیصلہ قابل تحسین ہے اس سے انصاف کی فراہمی جلد اور بہتر ہوگی۔ وہ گزشتہ روز لاہورہائیکورٹ بارایسوسی ایشن کے سالانہ ڈنر کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔انھوں نے مزید کہاکہ وکلاء نے جمہوریت کے لئے تحریک چلائی عوام کو انصاف کی فراہمی میں وکلاء اہم کرداراداکرتے ہیں اور قانون کی حکمرانی کے لئے وکلاء نے اہم کرداراداکیاہے۔

ججز اور وکلاء کے باہمی تعلق کے حوالے سے ان کا کہناتھا کہ بنچ اور بار کے تعلق سے انصاف کی فراہمی بہتر ہوگی۔ججز کی کمی کے حوالے سے انھوں نے کہاکہ کیسزبہت زیادہ ہیں ان کے مقابلے میں ججز کم ہیں۔

(جاری ہے)

اس موقع پر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ہائیکورٹ میں کیسیز تیزی سے نمٹا رہے ہیں اورلاہور ہائیکورٹ کے نئے جج بنانے کے لیے دیکھتے ہیں کہ منتخب ہونے والے افراد نہ صرف میٹھی طبیعت ہوں بلکہ ان میں خدا خوفی بھی ہو۔

ان کا کہناتھا کہ بار نئے جج بنانے کے لیے اپنی تجاویز دیں لیکن انہیں پرکھنے کا اختیار ہمیں دیں۔انھوں نے مزید کہاکہ کئی اچھے وکلاء کو جج اس لیے نہی بنایا کہ وہ تیز طبیعت کے تھے۔لاہور ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر عابد ساقی کا کہناتھا کہ بار اور بینچ کو ماضی دفن کرکے آگے بڑھنا ہوگااور عدلیہ کو اپنی غیر جانبداری قائم رکھناہوگی۔ان کا مزید کہناتھا کہ انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے تاکہ کوئی جج پر انگلی نہ اٹھا سکے اور ماضی کے متنازعہ فیصلے کی نظر ثانی کے لئے سپریم کورٹ کو خصوصی بینچ تشکیل دینا چاہیے اور ججوں کی تقرری شفاف اور اوپن ہونی چاہیے۔

لاہورہائیکورٹ بارایسوسی ایشن کے سالانہ ڈنر کے موقع پر وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ہائیکورٹ بار کے سالانہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں میں کافی جوش و خروش دیکھنے میںآ یا اور وہ وکلاء سے ملاقات میں الیکشن مہم اور ووٹ مانگتے رہے جبکہ کھانا میں بدنظمی کے باعث بہت سے افراد کھانا کھائے بغیر واپس چلے گئے۔

Your Thoughts and Comments