پاکستان میں دہشتگردی کے معاملات میں بھارت ملوث ہے: رحمان ملک،مذہبی جماعتوں اور حکومت کو کسی لڑائی میں پڑنے یا الزام تراشی کے بجائے بیٹھ کر اختلافی امور کا حل نکال لینا چاہیے،میڈیاسے گفتگو

پیر جنوری 06:21

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔12جنوری۔2015ء)سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ مذہبی جماعتوں اور حکومت کو کسی لڑائی میں پڑنے یا الزام تراشی کے بجائے بیٹھ کر اختلافی امور کا حل نکال لینا چاہیے۔ بحریہ ٹاوٴن لاہور میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ ملکی معاملات کو ٹھیک کرنے کیلئے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

اکیسویں ترمیم کے معاملے پر حکومت اور مذہبی ماعتوں کو درمیانی راستہ نکالنا چاہیے اور دینی اداروں کو براہ راست نشانہ بنانے کے بجائے دہشتگردوں کو سپورٹ کرنے والے عناصر پر ہی گرفت کرنی چاہیے۔ اے پی سی میں بھی مدارس کو ٹارگٹ کرنے کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور ہو جائیں تو وہ بھی ساتھ دے سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ داعش پاکستان میں شیعہ سنی تصادم کیلئے خاص منصوبہ بندی کے ساتھ واقعات کر رہی ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ابھی بھی حکومت اور پی ٹی آئی میں معاہدہ نہیں ہوا اس لئے سیاسی انتشار تاحال موجود ہے۔ سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت میں کوئی بھی فوجی عدالتوں کے حق میں نہیں تھا لیکن سب کچھ دو سال کیلئے ملکی مفاد میں قبول کیا ہے۔ انہوں نے کہا بھارت قیام پاکستان سے آج تک انتشار میں ملوث ہے۔ بھارتی وزیراعظم اور افغان صدر کو چاہیے کہ خطے میں امن کے فروغ میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments