قوم دہشت گردی کے خاتمے کا پختہ عزم کرچکی ہے،وزیراعلیٰ پنجاب کا امن وامان سے متعلق کانفرنس سے خطاب، دہشتگردی کے عفریت کا خاتمہ کر کے دم لیں گے،آنے والے کل میں پاکستان کی نئی تاریخ رقم ہو گی:شہبازشریف،اچھے یا برُے طالبان کی تفریق ختم ہوچکی ،تمام دہشتگرد برُے ہیں اوراب ان کے منطقی انجام کا وقت آگیا ہے، تاریخ میں اتحاد کا ایسا مثالی مظاہرہ پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا، اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھا کر دہشتگردی کوکچلنا ہے،انشاء اللہ کامیابی پاکستان کا مقدر بنے گی، میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں آپ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑارہوں گا:وزیراعلیٰ پنجاب

منگل جنوری 08:35

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔13جنوری۔2015ء)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ قوموں کی زندگی میں مشکل چیلنجز آتے ہیں اور وہی قومیں سرخرو ہوتی ہیں جو بہادری، عزم ،محنت اورجدوجہد کے ساتھ مشکل حالات کا مقابلہ کرتی ہیں ۔پاکستانی قوم کو بھی دہشتگردی اور انتہاء پسندی کا مشکل چیلنج درپیش ہے ۔آرمی پبلک سکول پشاور میں معصوم بچوں کی شہادت سے پوری قوم دہشتگردی کے خلاف یک جان دو قالب ہو چکی ہے اورقوم فیصلہ کرچکی ہے کہ دہشتگردی کا خاتمہ کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گی۔

آج اور آنے والے کل میں پاکستان کی نئی تاریخ رقم ہو گی۔پاکستان کی تاریخ میں اتحاد،اتفاق اوریگانگت کا ایسا مثالی مظاہرہ پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا،ہمیں اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھا کر دہشتگردی کے عفریت کو شکست فاش دینا ہے اور پاک سرزمین کو دہشتگردوں کے ناپاک وجود سے پاک کرناہے۔

تمام تر توانائیوں ،اجتماعی بصریت اور مشترکہ حکمت عملی سے سفاک درندوں کا خاتمہ کریں گے۔

اچھے یا برُے طالبان کی تفریق ختم ہوچکی ہے ۔تمام دہشتگرد برُے ہیں جنہوں نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے ،قوم کودکھ اورصدمے دےئے ہیں، اب ان کے منطقی انجام کا وقت آگیا ہے۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہارآج یہاں امن و امان اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزراء کرنل (ر) شجاع خانزادہ، عطا مانیکا ، بلال یاسین، رانا مشہود احمد،ایم این ایز حمزہ شہباز شریف،افضل کھوکھر، ایم پی اے رانا ثناء اللہ، معاونین خصوصی،اراکین اسمبلی، چیف سیکرٹری،ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈووکیٹ جنرل، انسپکٹر جنرل پولیس، سیکرٹری داخلہ، متعلقہ سیکرٹریز، پنجاب کے 9 ڈویژنوں کے کمشنرز، آرپی اوز، 36 اضلاع کے ڈی سی اوز اور ڈی پی اوز کے علاوہ اعلیٰ حکام نے کانفرنس میں شرکت کی۔

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج یہ تاریخی لمحہ ہے کہ میں صوبے کے انتظامی و پولیس افسران سے مخاطب ہوں،کانفرنس کا واحد ایجنڈا پاکستان کو دہشتگردی کی لعنت سے چھٹکارا دلانا ہے ۔ دہشتگردی کا خاتمہ ہماری نمبر1ترجیح ہے جس کیلئے تمام درکار وسائل دیں گے۔دہشتگردی کے ناسورکے خاتمے کا یہ موقع” اب یا کبھی نہیں “ کا ہے ۔

پشاور میں بہنے والے معصوم بچوں کے خون کے طفیل پوری قوم متحد ہوچکی ہے اوردہشتگردی کے عفریت کو شکست دینے کیلئے پرعزم ہے ۔سیاسی و عسکری قیادت نے دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے متفقہ طورپر نیشنل ایکشن پلان بنایا ہے جس پر عملدر آمد کے ذریعے دہشتگردوں کا خاتمہ کر کے تاریخ کا دھارا بدلیں گے۔16دسمبر کوپشاور کے آرمی پبلک سکول میں بچوں سے وحشی درندوں کی سفاکیت نے اگرچہ ہر دل کو زخمی کیااور آنکھ اشکبار ہوئی ،تاہم اس واقعہ کے بعد پاکستانی قوم دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کے ساتھ ایک مضبوط اورتوانا قوم بن کر ابھری ہے ۔

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی بہادر افواج کے افسران ،جوانوں ،پولیس حکام،اہلکاروں اورعام شہریوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں اور دنیا کی تاریخ میں پاکستانیوں کی دی گئی قربانیوں کی کوئی مثال نہیں ملتی اور تقریباً 50ہزار سے زائد پاکستانی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرچکے ہیں۔وزیراعلیٰ نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج بہترین تربیت یافتہ ،منظم اورپیشہ وارانہ افواج میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قومی قیادت اور حکومتی ادارے ایک پیج پر ہیں۔مقصد ہمارے سامنے ہے جسے ہم نے ہر صورت حاصل کرنا ہے ۔ہمیں پوری طرح متحد ہو کر ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہے اور پرامن پاکستان کی منزل حاصل کرنا ہے ۔دہشتگردی اورانتہاء پسندی کا ناسور راتوں رات نازل نہیں ہوا اورنہ ہی یہ راتوں رات جائے گا بلکہ اس کیلئے تسلسل کے ساتھ موثر انداز میں اقدامات جاری رکھنا ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ سیاسی اورعسکری قیادت نے دہشتگردی کی لعنت سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چھٹکارا پانے کیلئے پختہ ارادہ اورعزم کرلیا ہے۔اگر ہم نے اب بھی موقع سے فائدہ نہ اٹھایا اور مقصد کے حصول میں کوئی کوتاہی برتی توپھر کچھ نہیں بچے گااور آنے والی نسلیں بھی معاف نہیں کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ امن کا براہ راست تعلق تعلیم،صحت ،انصاف اورسماجی و معاشی اقدامات سے جڑا ہوا ہے ۔

امن ہوگا تو غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی،تجارتی ،سماجی ،معاشی ،صنعتی اوراقتصادی سرگرمیاں بڑھیں گی۔ہمیں اپنی آئندہ نسلوں کو پرامن اورمحفوظ مستقبل دینے کیلئے پاکستان کے نام پر کھڑے ہونا ہے ۔ملک سے ظلم،بربریت، ناانصافی، کرپشن،اقرباء پروری جیسی برائیوں کا مکمل خاتمہ کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ اشرافیہ کو توزندگی کی تمام سہولتیں میسر ہیں جبکہ عام آدمی تعلیم ،صحت، انصاف اور دیگر بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہے ۔

انتہاء پسندی اوردہشتگردی کاخاتمہ صرف بندوق کی گولی سے نہیں بلکہ تھانہ کچہری میں انصاف کی فراہمی ،کرپشن کا خاتمہ اورسماجی و معاشی اصلاحات بھی ضروری ہیں ۔بصورت دیگردہشتگرد ان حالات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اورمعصوم لوگوں کو ورغلاکران کے جذبات سے کھیلتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے ہمیں کرپشن،ناانصافی،اقرباء پروری کے بتوں کو پاش پاش کرنا ہو گا اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا ہوگی۔

تھانوں کو مظلوموں کی دادرسی کا ذریعہ بنانا ہوگا۔انہوں نے پولیس و انتظامی افسران سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ موجودہ حالات میں آپ پر بھاری ذمہ داری عائدہوتی ہے ،آپ نے عوام کے خادم بن کر انہیں ریلیف دینااورانصاف فراہم کرنا ہے ۔ عوام کو متحرک کرنا ہے اوردہشتگردی کے خلاف جنگ میں معاشرے کے ہر فرد کو اپنا حصہ ڈالنا ہے اوراس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئیں گے ۔

انہوں نے کہاکہ ترکی ،سری لنکا اور دیگر کئی ممالک کو بھی دہشتگردی کا سامنا رہا ہے ،اگر یہ ممالک محنت،جدوجہداور عزم کے ذریعے دہشتگردی پر قابو پاسکتے ہیں تو ہم بھی انشاء اللہ اجتماعی بصیرت اورکاوشوں سے دہشتگردی کا نام و نشان مٹا دیں گے اور ملک کو صحیح معنوں میں امن کا گہوارہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشتگردی کیلئے پولیس فورس کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔

وال چاکنگ،اشتعال انگیز تقاریر، نفرت پرمبنی لٹریچر کی اشاعت و تقسیم اورلاوٴڈسپیکر کے ناجائزاستعمال کے بارے میں قوانین پہلے بھی موجود ہیں تاہم پنجاب حکومت نے صوبائی سطح پر قانون سازی کر کے سزائیں سخت کی ہیں،ان قوانین پر سختی کے ساتھ موثر عملدر آمد کر کے دہشتگردی ، انتہاء پسندی اورفرقہ واریت کو نکیل ڈالنا ہوگی۔پولیس فورس بلاخوف وخطر قوانین پر سختی سے عملدر آمد یقینی بنائے اور خلاف ورزی کرنیوالوں کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں سکیورٹی کے انتظامات پر خصوصی توجہ دی جائے اوراس ضمن میں ضلعی سطح پر بننے والی کمیٹیوں کے ذریعے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جائے ۔ تعلیمی اداروں میں اتحاد،امن اور ہم آہنگی کے حوالے سے خصوصی سیمینارز کرائے جائیں۔ ہوٹلوں،سراوٴں اورموٹلوں میں قیام پذیر افراد کی پولیس کو فوری اطلاع ہونی چاہیے۔انٹیلی جنس نظام کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔

اگر آپ سب نیک نیتی اورخلوص سے محنت کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف کھڑے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ بھی آپ کا ہاتھ پکڑ لے گا اورکامیابی پاکستان کا مقدر بنے گی۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو ان کی زبان میں سخت جواب دینے کا وقت آگیا ہے ،معاشرے کے ہر طبقے کو پاکستان بچانے کی جنگ میںآ گے بڑھ کر مثبت کردارادا کرنا ہے۔قانون شکن اورشر پسند عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت ایکشن لیا جائے ،مجھے پورا یقین ہے کہ قوم کے اتحاد و اتفاق سے دہشتگردوں کا جلد خاتمہ ہوگا۔

راستہ کٹھن ضرور ہے ،مشکلات ہیں لیکن ناممکن نہیں۔اگر ہم پختہ ارادہ کر لیں محنت،دیانت، امانت اورجدوجہد کو اپنا شعار بنالیں تو منزل حاصل کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں آپ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑارہوں گااورملک کو دہشتگردوں سے نجات دلانے کیلئے آپ کے ساتھ ہر وقت موجود رہوں گا۔صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس جذبے اورعزم کے ساتھ قدرتی آفات کا مقابلہ کیا جاتا ہے اسی طرح ہمیں دہشتگردی کے عفریت سے بھی نمٹنا ہے ۔

دہشتگردی کے خلاف جنگ پاکستان کی بقاء کی جنگ ہے جسے جیتنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ۔صوبائی وزیر اوقاف عطامانیکا نے کہا کہ ہمیں غیر معمولی حالات اور مسائل کا سامنا ہے ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم بیدار ہوچکی ہے اورانشاء اللہ ہمیں اس جنگ میں ضرور کامیابی ملے گی۔ایم پی اے رانا ثناء اللہ نے کہاکہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں سے وحشیانہ سلوک کیا گیا۔

سفاکیت کی ایسی مثال انسانیت کی تاریخ میں نہیں ملتی،پاک افواج بہادری کے ساتھ دہشتگردوں سے برسرپیکار ہیں اورپوری قوم پاک افواج کے ساتھ کھڑی ہے ۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی ہی واحد آپشن ہے ۔چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ ہم دہشتگردی کے مشکل چیلنج سے موثر انداز میں نمٹنے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ حکومت اورقوم دہشتگردوں کو شکست دینے میں پرعزم ہیں ،ملک کے محفوظ مستقبل کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عملدر آمد کیا جائے گا۔دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے پورے عزم اور جرات سے جنگ لڑیں گے اورانہیں شکست دیں گے۔

Your Thoughts and Comments