پاکستان کے سات لاکھ چھیانوے ہزار مربع کلومیٹر رقبے میں سے دو تہائی خطرناک زلزلے آنے والے علاقوں پر مشتمل ہے،ماہرین

پیر جنوری 09:34

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔4جنوری۔2016ء) پاکستان کے سات لاکھ چھیانوے ہزار مربع کلومیٹر رقبے میں سے دو تہائی خطرناک زلزلے آنے والے علاقوں پر مشتمل ہے۔ خیبر سے کراچی اور چترال سے چمن تک کے بیشتر علاقے فالٹ لائنز پر واقع ہیں۔ ماہرین کے مطابق چھبیس اکتوبر کے زلزلے کے بعد فالٹ لائنز متحرک ہو چکی ہیں جو مزید زلزلوں کا باعث بن رہی ہیں۔

زمین کے اندر ایسی بے شمار غیریکساں اور ناہموار تہیں ہیں جس کے سرکنے اور ٹکرانے سے زمین ہلنے لگتی ہے اور وہ زلزلے کا باعث بنتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر واقع ہے فالٹ لائنز کے لحاظ سے پاکستان کو انیس زون میں تقسیم کیا گیا ہے ان میں سے سات زون ایسے ہیں جہاں شدید زلزلوں کا خدشہ ہے۔گھوٹکی، سکھر، نواب شاہ، کوئٹہ، ڈیرہ بگٹی، بہالپور، چولستان، پشاو، ایبٹ آباد، بٹگرام ، مانسہرہ، کوہستان، چترال، جنوبی و شمالی وزیرستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر فالٹ لائنز پر واقع ہیں۔

کراچی سے آواران تک ساحلی پٹی خطرناک ترین فالٹ لائنز پر ہے۔عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد بھی خطرناک فالٹ لائن۔ مین باوٴنڈری تھرسٹ پر واقع ہے۔ ایوان صدر، وزیراعظم ہاوٴس اور پاک سیکریٹریٹ اسی لائن پر ہیں۔ ڈائریکٹر نیشنل سیسمک سنٹر زاہد رفیع نے نائنٹی ٹو نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ بڑے زلزلے آنے کے بعد فالٹ لائنز متحرک ہو جاتی ہیں جو مزید زلزلوں کا باعث بنتی ہیں تاہم ان کی شدت کم ہوتی ہے۔

آٹھ سے زائد شدت کے زلزلے صدیوں بعد آتے ہیں جو بڑی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے کئی علاقوں کو فالٹ لائنز پر ہونے کو زلزلوں کی اصل وجہ قرار دیا۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں سالٹ رینج، لاہور اور فیصل آباد سمیت وسطی پنجاب اور بالائی سندھ کے علاقے زلزلے کے خطرے سے محفوظ ہیں تاہم دیگر علاقوں میں آنے والے خطرناک زلزلوں سے یہ علاقے بھی ان کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments