کرپشن معاشرے کا المیہ، اس کے خلاف جنگ میں کوئی مقدس گائے نہیں،بلاول بھٹو ، کرپشن پر کسی کو گرفت میں لانے پر یکساں معیار ہونا چاہئے، آئین اور قانون سب کیلئے برابر ،سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر عالمی قانونی ماہرین نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے،پیپلز پارٹی عدلیہ کی آزادی آئین اور جمہوریت کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے،لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء سے خطاب

منگل جنوری 09:44

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 12جنوری۔2016ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کرپشن معاشرے کا المیہ ہے اور اس کے خلاف جنگ میں کوئی مقدس گائے نہیں اور کرپشن پر کسی کو گرفت میں لانے پر یکساں معیار ہونا چاہئے۔ آئین اور قانون سب کیلئے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر عالمی قانونی ماہرین نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

وہ سوموار کے روز لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے کراچی شہداء ہال میں بار کے وکلاء سے خطاب کر رہے تھے۔ انہیں اس دورے کی دعوت لاہور ہائیکورٹ بار نے دی تھی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی اور اس کے تسلسل کیلئے عدلیہ بار میڈیا سمیت تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

(جاری ہے)

یہاں سیاستدانوں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ سے غلطیاں سرزد ہوئیں بدقسمتی سے ملک کے اندر جمہوریت کی جڑیں کمزور کی جاتی رہیں سیاستدانوں کو جلاوطن کیا گیا سیاسی کارکنوں پر تشدد کر کے انہیں مارا گیا اور مجھے فخر ہے کہ جمہوریت کی بحالی میں پی پی پی کے کارکنوں اور وکلاء نے تشدد برداشت کیا۔

اس ملک کے اندر عدالتی قتل کئے گئے اور غلط فیصلے دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ اور لاہور کے وزیراعظم کے حوالے سے فیصلوں میں فرق کیوں ہے۔ پیپلز پارٹی عدلیہ کی آزادی آئین اور جمہوریت کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے اور جمہوریت کے تسلسل سے ہی آئین اور قانون کی حکمرانی ممکن ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ججز تقرریوں کے عمل میں صدر اور وزیراعظم کا کردار محض ڈاکخانے کا ہے۔

ججز خود ہی بیٹھ کر عدلیہ میں ججز تقرریاں کریں یہ مناسب نہیں۔ پارلیمینٹ ایک سپریم ادارہ ہے جس کا کام آئین اور قانون سازی کرنا ہے لہذا ججز تقرریوں کے عمل میں جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کو فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ آئین کو سب سمجھتے ہیں تمام ادارے اپنی حدود میں رہیں تو کوئی خرابی پیدا نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 239۔5 کے تحت کوئی ادارہ دوسرے ادارے میں دخل اندازی نہیں کر سکتا جبکہ 239۔

6 کے تحت کسی ادارے کو اپنے کام سے نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 2006ء میں نوازشریف اور بینظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت کا معاہدہ کیا اور اب میثاق جمہوریت پر عمل کیوں نہیں کیا جا رہا۔ چاروں صوبوں کو آئینی آزادی کیوں نہیں دی جا رہی۔ عدالتوں میں آئین و قانون کی حکمرانی بات کرنے والے اس پر کیوں خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی غریب عوام اور متوسط طبقہ کے لوگوں کی جماعت ہے اس لئے ہم جمہوری عمل میں عوامی شمولیت پر یقین رکھتے ہیں۔

بار ایسوسی ایشنز کو بھی عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی اور انہیں ریلیف دینے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قانونی عمل سے عدالتی نظام کو بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کے مسئلے کو پارلیمینٹ میں لایا جائے۔تقریب میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن ، سینیٹر جہا نگیر بدر،عا صمہ، جہا نگیر سردار لطیف کھوسہ نوید چودھری سہیل ملک کے علاوہ پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤ ں کی بھاری تعداد موجود تھی۔

قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر پیر مسعود چشتی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہاکہ لاہور ہائیکورٹ بار کی جمہوریت کی بحالی عدلیہ کی آزادی اور عوام کے بنیادی حقوق کیلئے ایک تاریخی کردار رہا ہے۔ بار نے جمہوری روایات کو فروغ دیا ہے اور ہر سال بار کے الیکشن بروقت ہوتے ہیں اور اس تسلسل میں کبھی بھی خلل نہیں پڑا۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے سیکرٹری بیرسٹر احمد قیوم نے کہا کہ دہشت گردی اور مسئلہ کشمیر پر بلاول بھٹو نے مضبوط اور جاندار موقف اختیار کیا ہے۔

Your Thoughts and Comments