پاک چین اقتصادی راہداری پر تحفظات وزیر اعظم دور کر چکے ہیں،احسن اقبال،یہ تاثربے بنیاد ہے اس منصوبے سے پنجاب سب سے زیادہ فائدہ لے رہا ہے،پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ترقی کا روڈ میپ ہے، متنازعہ بنانے سے روکا جائے،صنعتی زون بنانے کا وقت آیا تو تمام صوبوں کی مشاورت سے معاملات کو حل کیا جائیگا، وفاقی وزیر منصوبہ بندی‘ ترقی و اصلاحات کا پائنا اور یو ایم ٹی کے زیر اہتمام قومی سیمینار سے خطاب

اتوار جنوری 10:31

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 24جنوری۔2016ء) وفاقی وزیر منصوبہ بندی‘ ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری پر تحفظات تھے جو وزیر اعظم نواز شریف دور کر چکے ہیں یہ تاثربے بنیاد ہے کہ اس منصوبے سے پنجاب سب سے زیادہ فائدہ لے رہا ہے،پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ترقی کا روڈ میپ ہے اسے متنازعہ بنانے سے روکا جائے ، موجودہ حکومت کے اس فلیگ شپ پراجیکٹ سے ملک کی تمام اکائیاں مستفیدہوں گی، اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ اڑھائی سال کی مدت کیساتھ ترجیحی بنیادوں پر2018ء میں تعمیر کیا جائیگا،اگر ضرورت پڑی تو اس الائنمنٹ کیلئے مختص کی گئی 40 ارب روپے کی رقم (سی ایف وائی) میں اضافہ کردیا جائیگا،صنعتی زون اورانڈسٹریل زون بنانے سے پہلے توانائی کے بحران پر قابو پانا بہت ضروری ہے، صنعتی زون بنانے کا وقت آیا تو تمام صوبوں کی مشاورت سے معاملات کو حل کیا جائیگا۔

(جاری ہے)

وہ گزشتہ روزیہاں مقامی ہوٹل میں پائنا اور یو ایم ٹی کے زیر اہتمام ”پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی مختلف جہتیں“ کے موضوع پر منعقدہ قومی سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔تقریب میں چینی قونصل جنرل لاہور یوبورن،ترجمان حکومت بلوچستان انوارالحق کاکڑ،جسٹس (ر) اعجاز احمد چوہدری،ریکٹر یو ایم ٹی حسن صہیب مراد،سیکرٹری جنرل پائنا الطاف حسن قریشی،بریگیڈئیر (ر) حسن ملک،سابق قونصلر جنرل برائے سرمایہ کاری عمان جاوید نواز،مجیب الرحمان شامی،منو بھائی،عطاالرحمان،عمرانہ مشتاق سمیت دیگر سینئر صحافی اور اینکر پرسنز بھی اس موقع پر موجود تھے۔

احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک منصوبہ پر پاکستان کی عوام کا اتفاق رائے ہے اور وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی کہا ہے کہ یہ منصوبہ ایک گیم چینجر ہے جو نہ صرف اقتصادی ترقی کا حامل ہوگا بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی و اقتصادی ،اطلاعات اور ثقافتی روابط کو بھی مستحکم بنائے گا نیز انفارمیشن اور کلچرل کوریڈور سی پی ای سی کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری پر تحفظات تھے جو وزیر اعظم نواز شریف دور کر چکے ہیں یہ تاثربے بنیاد ہے کہ اس منصوبے سے پنجاب سب سے زیادہ فائدہ لے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور اسٹریٹجک تعلقات کا عکاس ہیں بلکہ یہ دونوں ممالک کے عوام کے فائدہ کے لئے بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور ایک قومی منصوبہ ہے جس کے پاکستان کی ترقی پر طویل المدت اثرات مرتب ہوں گے اور ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے تمام صوبے اور علاقے اس پراجیکٹ سے فائدہ اٹھائیں ۔

انہوں نے کہا کہ 2013ء میں انتخابات کے بعد جب وزیراعظم محمد نواز شریف نے اپنے عہدے کا حلف بھی نہیں لیا تھا تو پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے چین کے وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کے دوران اقتصادی شراکت داری کی بنیادیں رکھی گئیں اور جب دونوں رہنماؤں نے معاشی شعبہ میں تعلقات میں اضافہ پر اتفاق کیا تو اس کی راہیں متعین کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان متعددبار اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے ہوئے اور جب چین کے صدر نے 20 اپریل 2015ء کو پاکستان کا دورہ کیا تو دونوں ممالک نے چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور پر دستخط پر اتفاق کیا جس میں انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں میں چینی سرمایہ کاری شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں میں ہائیڈل پاور پراجیکٹ کم لگانے کے بارے میں مختلف اعتراضات کئے گئے لیکن حکومت نے توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے بہترین اقدامات کئے جن میں داسو ڈیم 4500،سوکھی کناری پاور پراجیکٹ870،کشمیر میں 720میگاواٹ کے منصوبوں پر کام کا آغاز شامل ہے،جس کے بعد2018ء تک 10 ہزار میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں جمع ہو جائیگی جبکہ 2025ء تک 15 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہو جائیگی ۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے ملک میں بے شمار وسائل موجود ہیں ،پاکستان کوئلے کے ذخائر سے مالا مال ہے لیکن اس کو استعمال کرنے میں ناکام ہے،کوئلے کے ذریعے 6600میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے بہت سے منصوبوں پر کام شروع ہوچکا ہے جس سے ملک میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع پیدا ہونگے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جا ئے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کوئلے کے منصوبوں پر بھی اعتراضات کئے گئے لیکن ہم نے کوئلے کے منصوبوں کو فوقیت دی کیونکہ کوئلے کے منصوبے لگانے سے لاگت بھی کم آتی ہے اور وہ آپریشنل کرنے کیلئے بھی بہت کم لگتا ہے جو سی پیک کی کامیابی کیلئے بہت ضروری ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر اقتصادی زون قائم کئے جائیں گے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ خوشحالی اور ترقی کا ضامن ہے ،وزیراعظم محمد نواز شریف نے پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کی جلد تکمیل کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے کے انفراسٹرکچر پر بھی اعتراضات کئے گئے،کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سی پیک ایک روٹ یا سڑک بنانے کا نام ہے لیکن اصل میں یہ منصوبوں پاکستان اور چائنہ کو جوڑنے کا نام ہے ،خصوصی طورپر پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے کیلئے چائنہ کی سپورٹ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان کو اسوقت جومسائل درپیش ہیں دنیا کے ہر ترقی کرنیوالے ملکوں کو ایسے مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں بہت سے نشیب و فراز آئے ہیں،پاکستان ایٹمی طاقت بھی بنا،ایک وقت میں جنوبی ایشیا میں ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے بھی نظر آیا،لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر ہم اس ترقی کو برقرار نہیں رکھ سکے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے مثبت سوچ کیساتھ جس سفرکا آغاز کیا ہے اس کو جاری رکھنا چاہیئے،انہوں نے کہا کہ کتنے بھی نامساعد حالات ہوں کامیابی اور ناکامی کے درمیان جوچیز فرق ڈالے گی وہ خود اعتمادی اور آپکی مثبت سوچ ہے،منفی سوچ رکھنے والوں کو دن کے اجالے میں بھی اندھیراہی نظر آتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ ہم نے بڑی تبدیلیوں کے ذریعے پاکستان کو تبدیل کرنا ہے، سی پیک پاکستان کی قسمت بدلنے کیلئے ایک اہم منصوبہ ہے جس کی پوری دنیا تعریف کر رہی ہے،وہ مغربی ذرائع ابلاغ جو کچھ وقت پہلے پاکستان کوخطرناک ترین ملک اور دہشت گردی کی آماجگاہ قرار دے رہے تھے اب پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تعریفیں کر رہے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں پروفیسر احسن اقبال نے کہاکہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے ،ہمار ایجنڈا اقتصادی ہے جس کیلئے امن واستحکام انتہائی ضروری ہے اور وزیر اعظم محمد نوازشریف کی بھی کوشش ہے کہ افغانستان سمیت پورے خطے میں امن کے فروغ کے ذریعے خوشحالی کی منزل حاصل کی جائے جو پاک چائنہ اکنامک کوریڈورکی کامیابی کیلئے بھی بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم اس وقت ایک ابھرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں، آج کے پاکستان میں ترقی کے بے شمار مواقع ہیں۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ دنیا میں جہاں ترقی ہوئی وہاں تعلیم اور انڈسٹری کے تعلق کے تحت ہو ئی ،ہم نہیں چاہتے کہ سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے برآمدات کا حجم 20سے 23ارب ڈالر تک رکھیں ،ہماری کوشش ہے کہ 2025ء تک برآمدات کا حجم 100ارب ڈالر سے بھی زیادہ تک لے کر جائیں۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ ہم سب بھی یہی چاہتے ہیں کہ اس منصوبے کو کامیاب بنایا جائے اور اسے متنازعہ بنانے سے روکا جائے کیونکہ یہ منصوبہ آئندہ 100سالوں کی ترقی کا ایک روڈ میپ ہے ۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور قومی منصوبہ ہے جس سے پاکستان کی تمام اکائیاں مستفیدہوں گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں احسن اقبال نے بتایا کہ سی پیک کے تحت 36 ارب ڈالر توانائی کے منصوبوں پر صرف کئے جا رہے ہیں جوچین کی سرمایہ کاری ہے اوراس میں سے سندھ میں11.5،بلوچستان میں7,1اور پنجاب میں توانائی کے منصوبوں پر6,9ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے نیز بلوچستان کے علاقے گوادر اور خیبرپختونخوا میں بھی توانائی کے منصوبے لگ رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سی پیک کے مغربی روٹ پر بھی اعتراضات کئے گئے ،جبکہ منصوبے کا مغربی روٹ سندھ سے بھی گزرے گا جہاں تھر کے کوئلہ کے بڑے ذخائر ہیں،کسی طرح بھی منصوبے میں پاکستان کے کسی حصے کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا،مغربی روٹ سے پورے پاکستان کو فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے بتایا کہ کراچی لاہور موٹر وے کو ٹال ریونیو سے بنایا جارہا ہے ،موٹروے بنانے کیلئے کسی کی بھی سپورٹ اور تعاون شامل نہیں ہے لیکن ملتان سے سکھر تک کا حصہ چائنہ کی خصوصی مالی معاونت سے مکمل کیا جائیگا۔

اینکر پرسنز کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے بتایاکہ اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ اڑھائی سال کی مدت کیساتھ ترجیحی بنیادوں پر2018ء میں تعمیر کیا جائیگا،اگر ضرورت پڑی تو اس الائنمنٹ کیلئے مختص کی گئی 40 ارب روپے کی رقم (سی ایف وائی) میں اضافہ کردیا جائیگا، پاک چین اقتصادی راہداری کی مغربی الائنمنٹ پہلے مرحلے میں چار لین ایکسپریس وے ہوگی جسے بعد ازاں6 لین تک محدود رسائی موٹر وے میں تبدیل کرنے کی سہولت ہوگی جس کیلئے اراضی کے حصول کو جلد حتمی شکل دینا خیبر پختونخواہ حکومت کی ذمہ داری ہوگی جبکہ اراضی کے حصول کیلئے فنڈز وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایک صنعتی ملک ہے اس لئے چائنہ چاہتا ہے کہ پاکستان کو معاشی طورپر مضبوط ملک بنایا جایا،صنعتی زون بنیں،انڈسٹریل زون کا قیام عمل میں لایا جائے لیکن ان سب کی تکمیل کے لئے پہلے توانائی کے بحران پر قابو پانا بہت ضروری ہے۔تقریب سے چائنہ کے قونصل جنرل یوبورن ،پائنا کے سیکرٹری جنرل الطاف حسن قریشی ،ڈاکٹر حسن صہیب مراد،جسٹس (ر)اعجاز چوہدری سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments