لاہور ہائیکورٹ،گیارہ تاریخی عمارتوں کے 200فٹ کے احاطے میں میٹرو ٹرین کی تعمیر روک دی گئی

جمعہ جنوری 09:26

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 29جنوری۔2016ء) لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ برمشتمل جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس شاہد کریم نے گیارہ تاریخی عمارتوں بر مشتمل ،شالیمار گارڈن، گلابی باغ گیٹ وے، بدھومقبرہ، چوبرجی ، زیب النساء مقبرہ ، لکشمی بلڈنگ جنرل پوسٹ آفس ، ایوان اوقاف ، سپریم کورٹ رجسٹری بلڈنگ ، سینڈ اینڈریو چرچ ، بابا موج دریا دربا رو مسجد کے 200فٹ کے احاطے میں میٹرو ٹرین کی تعمیر روک دی ۔

محمد کامل ممتاز خان وغیرہ کی درخواستوں کی سماعت کے دوران خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ گیارہ تاریخی عمارتوں کے بارے میں این او سیلیا جاچکاہے حکومت چائنہ کے ساتھ معاہدے ہیں اگر پراجیکٹ لیٹ ہوا تو نقصان ہوگا ایل ڈی اے اس پراجیکٹ کی نگرانی کررہاہے اگر وقت پر پراجیکٹ مکمل نہ ہوا تو بین الاقوامی طور پر نقصان ہوسکتاہے ۔

(جاری ہے)

جنا ب جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دئیے کیا این او سی جاری کرتے وقت محکمہ آثار قدیمہ نے پرائیویٹ تجربہ کار لوگوں کو ساتھ شامل کیا اور کن کن ماہرین سے رائے لی گئی خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کئی میٹنگز ہوئیں اورساری چیزوں کو دیکھ کر اور تاریخی ورثے کو سنبھالنے کیلئے اقدامات کیے گئے ہیں محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے اپنے جوابی دلائل میں عدالت کو بتایا کہ سلیم الحق سابقہ ڈائریکٹر آثار قدیمہ کو این او سیلینے کیلئے تبدیل کردیاگیا کیونکہ انہوں نے این او سی ، اینٹی کیویٹی ایکٹ1975کے تحت پانچ عمارتوں کا دینے سے انکار کردیاتھا دیگر چھ عمارتوں کا این او سیچیف سیکرٹری نے جاری کیا ڈاکٹر نئیر علی داد اور اعجاز انور نے این او سی دینے کی مخالفت کی اور حکومت پنجاب کے سرکاری افسروں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی خواہش کے مطابق این او سیجاری کردیا۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ میٹرواورنج ٹرین کیلئے 19جنوری2015 کو ٹینڈر جاری کیاگیا مگر بعد میں بغیر کسی شفافیت کے نورینکو کو یہ معاہدہ دیدیاگیا اپریل 2015ءء میں معاہدہ دستخط ہوا اور اس معاہدے کے مطابق جب قرضے کیلئے معاہدہ ہوگا تو یہ معاہدہ قابل عمل ہوگامگر حکومت پنجاب اورایل ڈی اے نے ملی بھگت سے اگست/ستمبر میں تعمیرات شروع کردیں اس وقت نہ تو زمین ایکوائرکی گئی تھی اور نہ ہی این او سیلیے گئے تھے ابھی تک 26اموات اس خونی ٹرین کی وجہ سے ہوسکی ہیں اور اس کے ذمہ دار حکومت پنجاب ہے پورے لاہور کو تباہ کردیاہے سگنل فری کوری ڈور بھی بن رہاہے اس کو توڑ کر بنانا پھر توڑ کر بنانا ایک عام روٹین ہے عوام کا پیسہ ہے حکومت کی ملکیت نہیں اورنج لائن کیلئے شالیمار انٹر چینج اور ملتان روڈ تقریباً ساڑے تیرہ ارب روپیہ خرچ کیاگیا اور میٹرو اورنج ٹرین نے اتنی بڑی رقم مٹی کردی اگر تعمیر نہ روکی گئی تو نہ صرف ورثے کو نقصان ہوگا بلکہ مزید جانیں ضائع جائیں گی اور عوام کا پیسہ ضائع کردیاجائے جبکہ اس وقت ضرورت ہسپتالوں مفت تعلیم ، صاف پانی ، بجلی ، گیس کی ضرورت ہے سڑکوں پر لوگ تنخوائیں بڑھانے کیلئے لوگ مظاہرے کررہے ہیں کسی ایک فرد نے ٹرانسپورٹ بڑھانے کیلئے مظاہر ہ نہیں کیا حکومت پنجاب جھوٹ بول رہی ہے یہ پراجیکٹ ایک سو باسٹھ ارب کا نہیں بلکہ ڈھائی سو ارب سے زیادہ ہے حکومت پنجاب نے عوام کے سامنے غلط حقائق پیش کیے ہیں ۔

عدالت نے تفصیلی بحث سننے کے بعد حکم امتناعی جاری کردیا۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments