صوبائی وزیر خوراک کا ملتان روڈ پرناقص چاکلیٹ بنانے والی فیکٹری پر چھاپہ،بی سکس نامی فیکٹری سیل

بچوں کی صحت اور زندگیوں سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کررہے ہیں: بلال یاسین غذائی اجزاء کے تجزے کے لئے لیبارٹری اور ٹیکنیکل سٹاف نہ ہونے پرمالکان کی سرزنش

اتوار جنوری 13:29

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔22جنوری۔2017ء ) صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین نے ملتان روڈ لاہورپرواقع بی سکس نامی فوڈفیکٹر ی پر چھاپہ مارااورفیکٹری میں ناقص صفائی کے انتظامات ،غیر معیاری اشیاء کے استعمال اور لیباٹری اورٹیکنیکل سٹاف نہ ہونے پرفیکٹری کوسیل کردیا- فیکٹری میں انتہائی گندے ماحول میں بچوں کے لئے چاکلیٹ تیارکی جارہی تھی اور اکثرایریامیں مچھراورکیڑے مکوڑے موجودتھے- وزیرخوراک نے فیکٹری عملے کے میڈیکل سرٹیفکیٹ نہ ہونے اور کام کرنے والے عملہ کی فوڈسے متعلقہ تربیت نہ ہونے پرفیکٹری مالکان اور عملہ کی سرزنش کی -فیکٹری میں سٹار ہرٹ نامی چاکلیٹ تیار کی جاتی تھی ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وزیر خوراک بلال یاسین نے کہاکہ چاکلیٹ ،ٹافی اور گولی بنانے والی فیکٹریاں انتہائی ناقص ماحول میں اپنی مصنوعات تیار کررہی ہیں اور ان فیکٹریوں میں ڈاکٹراور ماہرین خوراک سے بھی فائدہ نہیں اٹھایاجاتا -اپنی من مانی کی اشیاء تیار کرنے والے اپنا قبلہ درست کرلیں ورنہ ان کے خلاف سخت کارروائی جائے گی - انہو ں نے کہاکہ فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں مختلف اضلاع میں اپنی کارروائیاں کررہی ہیں-بچوں کی صحت اور زندگی سے کھیلنے والوں کوکسی صورت معاف نہیں کیاجائے گا - اس موقع وزیر خوراک نے فیکٹری میں موجودتمام خام مال کاجائزہ لیا اوران پرایکسپائری تاریخ نہ ہونے پرعملہ کی سرزنش کی -انہوں نے فوڈاتھارٹی کی ٹیم کو فیکٹری فوری سیل کرنے کی ہدایت کی اور تمام ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرنے کا حکم دیا - بلال یاسین نے غذائی اجزا کے تجزے کے لئے لیبارٹری اور ٹیکنیکل سٹاف نہ ہونے پرفیکٹر ی مالکان کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا - اس موقع پر وزیر خوراک بلال یاسین کے ساتھ محکمہ فوڈاتھارٹی کی انسپکشن ٹیم اورمتعلقہ عملہ بھی ہمراہ تھا ۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments