عالمی بینک اور حکومت پنجاب کی مشترکہ سٹیئرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس

زرعی شعبہ کی ترقی اور دیہات میں خوشحالی لانے کیلئے وضع کردہ روڈ میپ کا جائزہ ، تجاویز و سفارشات کی اصولی منظوری پنجاب حکومت اور عالمی بینک کے مابین زرعی شعبہ کی ترقی اور دیہات میں خوشحالی کا پروگرام آگے بڑھانے پر اتفاق زرعی مارکیٹنگ کے شعبہ کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، گندم خریداری نظام میں اصلاحات لائی جائیں گی ،سمارٹ مارکیٹ ریفارمزسے زراعت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، خواتین اور نوجوانوں کی زرعی تربیت سے ایگروبزنس فروغ پا سکتا ہے، سمارٹ پروگرام کے تحت فوڈ سیفٹی سسٹم کو بہتر بنایا جائے گا اور زرعی تحقیق کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے، وزیر اعلیٰ پنجاب کا اجلاس سے خطاب زرعی شعبہ میں بڑا پوٹینشل موجود ہے ، اس حوالے سے عالمی بینک پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے گا ،کنٹری ڈائریکٹر عالمی بینک

جمعرات فروری 23:17

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 فروری2017ء) وزیر اعلیٰ محمدشہباز شریف کی زیر صدارت عالمی بینک اور حکومت پنجاب کی زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے قائم مشترکہ سٹیئرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس جمعرات کومنعقد ہوا جس میں زرعی شعبہ کی ترقی اور دیہات میں پائیدار بنیادوں پر خوشحالی لانے کیلئے وضع کردہ روڈ میپ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران زرعی شعبہ کی بہتری کیلئے متعدد تجاویز اور سفار شات کی اصولی منظوری دی گئی اور پنجاب حکومت اور عالمی بینک کے مابین زرعی شعبہ کی ترقی اور دیہات میں خوشحالی کا پروگرام تیز رفتاری سے آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے مشترکہ سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبہ کی ترقی اور دیہات میں خوشحالی کا پروگرام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

(جاری ہے)

زرعی پیداوار میں اضافے ، زرعی معیشت کے استحکام اور پانی کے وسائل کے درست استعمال کیلئے عالمی بینک کی تکنیکی معاونت کا خیرمقدم کرتے ہیں اوراس پروگرام کے تحت زرعی مارکیٹنگ کے شعبہ کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا اور گندم خریداری نظام میں اصلاحات لائی جائیں گی۔

گندم خریداری نظام میں اصلاحات لا کر ہر سال ہونے والے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمارٹ مارکیٹ ریفارمزسے زراعت کے شعبہ پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے کاشتکاروں کو ان کی دہلیز پر مربوط زرعی خدمات کی فراہمی کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ خواتین اور نوجوانوں کو زراعت کے حوالے سے تربیت کی فراہمی سے ایگروبزنس کو فروغ مل سکتا ہے ۔

سمارٹ پروگرام کے تحت فوڈ سیفٹی سسٹم کو بہتر بنایا جائے گا اور زرعی تحقیق و ترقی کو فروغ دینے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی تحقیق کے عمل میں نجی شعبہ کی شراکت اور کاشتکاروں کو سٹیٹ آف دی آرٹ سیڈ ٹیکنالوجی مہیا کرنے کیلئے بین الاقوامی اور مقامی سیڈکمپنی سے اشتراک بڑھایا جائے گا ۔ گندم کو ذخیرہ کرنے کے لئے جدید گندم کے گودام بنائے جائیں گے ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عالمی بینک زراعت کے فروغ اور پانی کے وسائل کے درست استعمال کیلئے پنجاب حکومت کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔ وفاقی اور پنجاب حکومت نے زراعت کی ترقی اور چھوٹے کاشتکار کی خوشحالی کیلئے اربوں روپے کے پیکیج دیئے ہیں ۔ زرعی معیشت کے فروغ اور کسانوں کو خوشحال بنانے کیلئے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کا تقاضا ہے ۔

کھاد اور پانی کے درست استعمال کے حوالے سے کاشتکاروں کی رہنمائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بینک پنجاب حکومت کا مضبوط پارٹنر ہے اور زراعت، آبپاشی اور ایگریکلچرمارکیٹنگ کی مضبوطی میں عالمی بینک کے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں ۔زراعت کے فروغ اور کسانوں کی سہولت کے لئے کھیتوں سے منڈیوں تک سڑکوں کی تعمیر کی بڑی افادیت ہے۔ پنجاب حکومت ہزاروں کلومیٹر دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام مکمل کر چکی ہے اور اس ضمن میں چوتھے مرحلے کے تحت دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام زور و شور سے جاری ہے ۔

دیہی سڑکوں کی تعمیر وبحالی سے دیہی و زرعی معیشت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ زراعت کو قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل اور زراعت کا فروغ ہماری پہلی ترجیح ہے ۔انہو ںنے کہا کہ سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ باقاعدگی سے ہو گااور میں خود اس کی صدارت کروں گا۔عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ پنجاب میں زراعت کے شعبے میں بڑا پوٹینشل موجود ہے ، عالمی بینک اسے بروئے کار لانے کے حوالے سے پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

اجلاس میں آبپاشی کے نظام کی بہتری کیلئے بھی مختلف سفارشات کی منظوری دی گئی۔ سیکرٹری زراعت اور عالمی بینک کی ٹیم نے زرعی شعبہ کی بہتری کے حوالے سے روڈمیپ بارے تفصیلی بریفنگ دی۔ صوبائی وزراء آصف سعید منیس ، نعیم اختر خان بھابھہ، ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، امانت اللہ خان، مشیر ڈاکٹر عمر سیف ، چیف سیکرٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز، کنٹری ڈائریکٹر عالمی بینک پچا موتھو الانگو اور عالمی بینک کے زرعی شعبہ کے ماہرین نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ عالمی بینک کے سینئر ڈائریکٹر برائے زراعت جیورگن ویوگل واشنگٹن ڈی سی سے ویڈیولنگ کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

Your Thoughts and Comments