صوبائی وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ نے شوکت بسرا پر مبینہ حملے کی رپورٹ ایوان میں پیش کر دی

جمعہ فروری 00:00

لاہور۔9 فروری(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 فروری2017ء)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میںصوبائی وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ نے شوکت بسرا پر مبینہ حملے کی رپورٹ ایوان میں پیش کر دی‘ یہ واقعہ سیاسی نہیں ہے بلکہ چائے بنانے والی دو کمپنیوں کی لڑائی کانتیجہ ہے ۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس جمعرات کے روز بھی اپنے مقررہ وقت کی بجائے ایک گھنٹہ 15منٹ کی تاخیر سے سپیکر رانا محمد اقبال کی صدارت میں شروع ہوا ۔

اجلاس میں صوبائی وزیر ڈاکٹر فرخ جاوید نے نا ن فارمل ایجوکیشن اور پارلیمانی سیکرٹری اکمل سیف چٹھہ نے محکمہ ماحولیات سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ۔ پارلیمانی سیکرٹری اکمل سیف چٹھہ نے ایوان کو بتایا کہ محکمہ صرف ایک ریگولیٹری اتھارٹی ہے جو ماحولیاتی آلودگی روکنے کیلئے صرف نوٹس جاری کرسکتا ہے یا کسی عمارت ، ادارے کو سربمہر یا اس کا کیس ماحولیاتی ٹربیونل کو ریفر کرسکتا ہے ۔

(جاری ہے)

محکمے کے پاس ایسا کوئی فنڈ نہیں ہوتا کہ وہ خود سے تحفظ ماحولیات کے حوالے سے کوئی منصوبہ شروع کر سکے ۔صوبائی وزیر ڈاکٹر فرخ جاوید نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں نان فارمل ایجوکیشن کے اساتذہ کا معاوضہ کم ہے تاہم حکومت نے اسے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اسی دوران اپوزیشن رکن آصف محمود نے کورم کی نشاندہی کردی اور کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس کو15منٹ کے لئے ملتوی کرنا پڑاتاہم40منٹ کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا ۔

صوبائی وزیر بلال یاسین نے خوراک پر عام بحث کے دوران کہا کہ رواں سیزن میں شوگر ملیں اب تک94ارب کا گنا خرید چکی ہیں اوراس مد میں82ارب روپے کسانوں کو ادا کئے جاچکے ہیں ۔گزشتہ سیزن میں اب تک صرف20سی21کروڑ روپے ادائیگیاں باقی ہیں۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ پنجاب واحد صوبہ ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ دیگر صوبوں سمیت کشمیر گلگت بلتستان اور فاٹا کو بھی گندم فراہم کرتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ نئی فصل بوئی جا چکی ہے اور صوبہ کے پاس وافر ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے بڑے بڑے ہوٹلز اور ریسٹورنٹس میں چھاپے مارے گئے ہیں اور معیار پرکوئی سمجھوتہ کیا گیا اور نہ ہی کریں گے۔ صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے ملاوٹ سے پاک ، خوراک کی فراہمی کیلئے کئی ایک اقدامات کیے ہیں ، حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو ملاوٹ ،کیمیکل و پائوڈر سے پاک دودھ فراہم کیا جائے ۔

انہوں نے بتایا کہ فوڈ اٹھارتی صوبے کے ہر ضلعے میں بنائی جائے گی جن اضلاع مین فوڈ اتھارٹی بنائی گئی ہے وہاں موبائل ٹیسٹنگ لیبارٹریاں بھی موجود ہیں اور اب فرانزک سائنس لیب جیسی چالیس ارب روپے کی لاگت سے عالمی معیار کی ایک اور لیب بنائی جارہی ہے جس میں ادویات ، زرعی اجناس ، اشیائے خورو نوش کے نمونے بھی چیک کیے جائیں گے ۔ اپوزیشن رکن فائزہ ملک کے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون نے ایوان میں پولیس رپورٹ پیش کی جس میں ہارون آباد میں پیپلز پارٹی کے رہنما شوکت بسرا پر مبینہ حملے کا معاملہ اٹھایا گیا تھا ۔

وزیر قانون نے وضاحت کی کہ یہ واقعہ سیاسی نہیں ہے بلکہ چائے بنانے والی دو کمپنیوں کی لڑائی کانتیجہ ہے ، اس واقعے کا مقدمہ درج ہوچکا ہے اور دو ملزم بھی گرفتار ہیں جبکہ مقدمے کی تفتیش خالص میرٹ پر کی جارہی ہے تاہم اگر اپوزیشن یہ محسوس کرے کہ تفتیشی عمل میں انصاف کی نفی ہورہی ہے تو حکومت تفتیشی ٹیم میں تبدیلی سمیت ہر قسم کے تعاون کیلئے تیار ہے ۔سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا۔

Your Thoughts and Comments