عمران خان دھرنا II میں پش اپ لگا کر چھپ گئے، بلاول کے پنجاب آنے کا ہمیں فائدہ ہوتا ہے‘ خواجہ سعد رفیق

․(ن)خیبر پختوانخواہ میں دستک دے چکی ہے اور سندھ بھی جائے گی،رائیونڈ ایم ایل ون پر ہے اور سی پیک کا فیز I یہاں سے ہو کر گزرتا ہے وفاقی وزیر ریلوے کا رائیونڈ ریلوے اسٹیشن کی سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب

ہفتہ فروری 19:25

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 فروری2017ء)وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے خود کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ حکومت کا بھی وقت ضائع کیا، پی ٹی آئی اور پی پی پی ہوش کے ناخن لیں، جمہوریت کے لئے بہتر ہے کہ سبھی اپنی اپنی حدود میں رہ کر بات کریں،پاکستان ریلوے میں تمام لو کوموٹیو6 ٹریکشن موٹرز پر چل رہے ہیںجس کی وجہ سے انجن فیل ہونے کے واقعات کم ہو چکے ہیں، ریلوے کی اکانومی کلاس کو سٹینڈرڈز اے سی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر 5 سے 7 سال لگیں گے ۔

وہ گزشتہ روز رائیونڈ ریلوے اسٹیشن کی سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ممتاز عالم دین مولانا طارق جمیل،رکن قو می اسمبلی ملک افضل کھوکھر،رکن صوبائی اسمبلی چوہدری گلزار،چیف ایگزیکٹو آفیسر ریلوے جاوید انور سمیت دیگر ریلوے حکام بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے عوام کو ووٹ کا حق دلانے کے لئے جیلیں کاٹیں لیکن عمران خان دھرنا II میں پش اپ لگا کر چھپ گئے، عمران خان کو اب بڑی حد تک صبر آ گیا ہے لیکن اگر وہ دوبارہ ا س طرح کی سیاست شروع کر یں گے تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں خیبر پختوانخواہ میں جاکر پتہ چلا کہ وہاں عمران خان نے وقت ضائع کیا اور کوئی کام نہیں کیا، اگر وہ ہم پر بہتان تراشی کی بجائے عوام کی خدمت کرتے تو خیبر پختوانخواہ کے عوام ان کے دلوں میں راج کرتے۔ انہوں نے کہا کہ کام کا کوئی نعیم البدل نہیں ہوتا ،چھوٹی سی غلطی تو عوام معاف کر دیتے ہیں لیکن بڑی غلطی پر عوام احتساب بھی کرتے ہیں جس کی زندہ مثال پی پی پی ہے۔

انہوںنے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے پنجاب آنے کا ہمیں فائدہ ہوتا ہے،بلاول اور زرداری کے لئے مشورہ ہے کہ وہ پنجاب میں زیادہ آیا کریں ۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)خیبر پختوانخواہ میں دستک دے چکی ہے اور سندھ بھی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ رائے ونڈ ریلوے اسٹیشن کا سنگ بنیاد رکھنے سے ہمارے خواب کی تعبیر کا آغاز ہو چکاہے،ہمارے اقتدار میں آنے سے پہلے بہت سے ریلوے اسٹیشن بھوٹ بنگلے بنے ہوئے تھے جن میں سے کچھ ٹھیک ہو چکے ہیں اور کچھ باقی ہیں، رائیونڈ ریلوے اسٹیشن کی تعمیر کا کوئی اور مقصد نہیں ،ْ تبلیغی جماعتوں کو آمدورفت کی سہولیات فراہم کرنا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ رائے ونڈ ایم ایل ون پر ہے اور سی پیک کا فیز I یہاں سے ہو کر گزرتا ہے، آئندہ سال کے شروع میں اس پر کام شروع ہو جائے گا،350 انجینئرز و ٹیکنیشن اس پر کام کر رہے ہیں اور یہ منصوبہ 5سے 6سال میں مکمل ہو جائے گا جس کے بعد ٹرین 160 کلومیٹر فی گھنٹہ سے چلے گی اورکراچی کا سفر 10سے 11گھنٹے کا رہ جائے گا۔ انہوںنے بزنس ٹرین کے رائیونڈ اسٹیشن پر سٹاپ کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلویز میں اصلاحات کا پیکیج دیا گیا ہے اور اب وہ ریلوے نہیں جو ساڑھے تین سال پہلے تھی۔ انہوں نے کہا کہ 48ٹرینوں کی ای ٹکٹنگ، ریلوے اراضی کا کمپیوٹرائزیشن ،ْ سروس اسٹرکچر ،ْ ریلوے کے خسارے کو 32 ارب سے کم کرکے 27ارب تک لے کر آنا موجودہ حکومت کے کارنامے ہیں، اگر بہتری کی صورتحال یہی رہی تو کوئی بھی ٹرین بوسیدہ نہیں رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ رائیونڈ اسٹیشن کے بعد سبی اور ہرنائی میں بھی ریلوے اسٹیشن بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان ریلوے میں تمام لو کوموٹیو6 ٹریکشن موٹرز پر چل رہے ہیںجس کی وجہ سے انجن فیل ہونے کے واقعات کم ہو چکے ہیں، اسی طرح اکانومی کلاس کو سٹینڈرڈز اے سی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر 5 سے 7 سال لگیں گے،ریلوے میں 780 ہوپر ویگنز لا رہے ہیں جس میں سے 200 باہر سے منگوانے کے ساتھ ساتھ 580 مقامی سطح پر بنائی جا رہی ہیں، سیاسی مخالفین سے گزارش ہے کہ وہ سیاست پر تنقید کریں اور اس کے ساتھ ساتھ اچھے کام کی تعریف بھی کر دیا کریں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرین حادثات میں زیادہ تر انسانی غلطی شامل ہوتی ہے ،سسٹم کی غلطی کہیں نہیں ملی، قانون کے مطابق ان مینڈ لیول کرانسنگ کو مینڈ کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے جس کیلئے وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف اور وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ریلوے کو رقم فراہم کی ہے،ا س سلسلہ میں بی او ٹی کی بنیاد پر ماڈل لا رہے ہیں جس کے تحت زیادہ ٹریفک والے علاقوں میں انڈر پاسز بنائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے میں اقدامات کی بدولت بین الاقوامی کمپنیاں ہمارے ساتھ کام کرنے میں دلچسپی لے رہی ہیں،ریلوے میں ڈیڑھ کروڑ مسافروں کا اضافہ ہوا ،ْ ٹرینوں کے اوقات میں 80فیصد وقت کی پابندی ہو رہی ہے ،ْ ریلوے کے پاس 15 سے 20 دن فیول کا سٹاک موجود رہتا ہے ،ْ اس سال مال گاڑی آپریشن سے ریلوے 14 ارب روپے کمائے گا، گوادر ریلوے اسٹیشن کیلئے آدھی جگہ حاصل کر لی گئی ہے۔ اس موقع پر ممبر قومی اسمبلی ملک افضل کھوکھر سمیت دیگر لیگی رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔

Your Thoughts and Comments