انشاء اللہ 2025ء تک پاکستان کو دنیا کی پہلی 25معیشتوں میں شامل کر کے دکھائیں گے‘ احسن اقبال

آج کچھ لوگ ملک میں افراتفری اور اسے عدم استحکام کا شکار کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، اگر وہ مستقل اسی کوشش میں لگے رہے تو پھر اقتصادی راہداری منصوبہ ہمارے لیے رحمت کی بجائے زحمت بن جائے گا، یہ اربوں ڈالر ہمارے گلے کا طوق بن جائینگے،(ن) لیگ کی موجودہ حکومت نے جتنی بجلی پیدا کی ہے اتنی 1947ء سے لے کر 2013ء تک اتنی بجلی پیدا نہیں کی وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال کاتقریب سے خطاب

ہفتہ فروری 18:29

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 فروری2017ء) وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ انشاء اللہ 2025ء تک پاکستان کو دنیا کی پہلی 25معیشتوں میں شامل کر کے دکھائیں گے‘ آج کچھ لوگ ملک میں افراتفری اور اسے عدم استحکام کا شکار کرنے میں لگے ہوئے ہیںلیکن اگر وہ مستقل اسی کوشش میں لگے رہے تو پھر پا ک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ہمارے لیے رحمت کی بجائے زحمت بن جائے گااور یہ اربوں ڈالر ہمارے گلے کا طوق بن جائینگی(ن) لیگ کی موجودہ حکومت نے جتنی بجلی پیدا کی ہے اتنی 1947ء سے لے کر 2013ء تک اتنی بجلی پیدا نہیں کی۔

ہفتے کو یہاں ورچوئل یونیورسٹی میں وزیر اعظم لیپ ٹاپ سکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ سال 2013ء میں توانائی بحران کی وجہ سے ملک خانہ جنگی کے دہانے تک پہنچ چکاتھا ، جس ملک میں 18سے 20گھنٹے بجلی نہیں آتی تھی وہاں اگر 18سے 20گھنٹے بجلی آرہی ہے تو کیا یہ تبدیلی نہیں ہی آج سے تین سال پہلے دہشتگردوں نے ریاست کوآگے لگا رکھا تھا لیکن آج ریاست نے دہشتگردوں کو آگے لگا رکھا ہے۔

(جاری ہے)

انہو ں نے کہا کہ 1947ء سے لے کر 2013ء تک اتنی بجلی پیدا نہیں کی گئی جتنی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے صرف تین سالوں میں پیدا کر دی ہے، اگر ہماری پالیسیوں کا تسلسل جا ری رہا تو انشاء اللہ 2025ئ تک پاکستان کو دنیا کی پہلی 25معیشتوں میں شامل کر کے دکھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے 1998ء میں ملک کی پہلی آئی ٹی پالیسی دی لیکن ہمارے سیاسی نظام کو چلنے نہیں دیا گیا ، پاکستان کو 70سال تک تجربہ گا ہ بنا نے کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے ہیں ،ہم آمریت کے دورمیں ویڑن 2010 ء پر عملدرآمدنہ ہونے کی وجہ سے بھی بہت سے بحرانوں کا شکار ہوئے ،افسوس ہے کہ آج کچھ لوگ ملک میں افراتفری اور اسے عدم استحکام کا شکار کرنے میں لگے ہوئے ہیںلیکن اگر وہ مستقل اسی کوشش میں لگے رہے تو پھر پا ک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ہمارے لیے رحمت کی بجائے زحمت بن جائے گااور یہ اربوں ڈالر ہمارے گلے کا طوق بن جائینگے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں تعلیم کے حصول میں آن لائن ایجوکیشن کااہم کر دار ہے اور ورچوئل یونیورسٹی اس کی بہترین مثال ہے، علم پر مبنی معیشت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی ترقی کا حصول ممکن ہے ،مستقبل میں جدید مواصلات اور ٹیکنالوجی کے حامل ملک ہی ترقی کر سکیں گے ، صنعتی انقلاب سے فائدہ نہ اٹھانے والی قومیں پیچھے رہ گئیں ، موجود ہ دور میں ترقی اور تبدیلی کی رفتار میں اضافہ ہوچکا ہے لیکن یہ ترقی اور تبدیلی پلک جھپکنے سے نہیں آجاتی، ترقی کیلئے امن ، استحکام اور جمہوریت کا تسلسل چاہیے ہوتا ہے، ترقی کیلئے ہمیں بحیثیت قوم وقت کیساتھ تبدیلی اور ماحول میں ڈھلنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی وجہ سے پا کستان کی اہمیت میں اضافہ اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، آج کراچی پاکستان کا اقتصادی انجن بن چکا ہے، امن، ترقی اور شاہراہوں کے ذریعے بلوچستان یکسر تبدیل ہو چکا ہے اور قومی دھارے میں شامل ہوچکا ہے ، اقتصادی راہداری کی وجہ سے پاکستان پو رے خطے کی اہم معاشی طاقت بن کر ابھر رہا ہے،تمام بین الاقوامی ادارے سال 2013ء میں پاکستان کو ڈوبتی ہوئی معیشت اور دہشتگردی کی وجہ سے خطرناک ترین ملک قرار دے رہے تھے لیکن آج وہی ادارے پاکستان کو ایشیاء کی تیزی سے ترقی کر تی ہوئی اور ابھرتی ہوئی معیشت قرار دے رہے ہیں، آج تمام عالمی مو قر جریدوں اور اداروں میں پاکستانی مستحکم معیشت کے چرچے ہیں۔

Your Thoughts and Comments