18ء تک 10 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو جائے گی ‘ آئندہ سال ملک سے لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو جائیگا‘اسحاق ڈار

موجودہ حکومت کی ٹھوس اقتصادی اصلاحات کے نتیجہ میں مالیاتی خسارے کو بہت حد تک کم کردیا گیا ہے اور آئندہ دو سالوں میں اسے چار فیصد سے بھی کم سطح پر لے جائیں گے‘وفاقی وزیر خزانہ کا’’ کلرز آف انڈس پروگرام2017ء ‘‘کی اختتامی تقریب سے خطاب

اتوار فروری 18:42

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔13فروری۔2017ء)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی ٹھوس اقتصادی اصلاحات کے نتیجہ میں مالیاتی خسارے کو بہت حد تک کم کردیا گیا ہے اور آئندہ دو سالوں میں اسے چار فیصد سے بھی کم سطح پر لے جائیں گے، موجودہ حکومت نے 2013ء میں جب اقتدار سنبھالا تو ہمیں تونائی بحران سمیت میکرو اکنامک کے شعبہ میں عدم استحکام ، کم ترین جی ڈی پی شرح کا سامنا جبکہ مالی خسارہ8.8فیصد تھا اور زر مبادلہ کے ذخائر بھی ملکی تاریخ کی کم ترین سطح8ارب ڈالر پرتھے جس سے نمٹنے کیلئے حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے موزوں و قابل قبول اورٹھوس اقتصادی پالیسیاں متعارف کروائیں اور آج انہی پالیسیوں کے نتیجہ میں پاکستان ترقی پذیر اور مسلم ممالک میں ترقی کرنیوالی پانچویں بڑی معیشت ہے،مارچ 2018ء تک 10 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو جائے گی اور آئندہ سال ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو جائیگا۔

(جاری ہے)

وہ اتوار کے روز گورنر ہائو س لاہور میں ینگ پریزیڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام ’’کلرز آف انڈس پروگرام2017ء ‘‘کی اختتامی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ دنیا کے 22گریڈیبل ملٹی ڈونرز اور دوسرے اہم اداروں نے ہماری معاشی اصلاحات کو تسلیم کیا۔انہوں نے کہا کہ2013ء میں جی ڈی پی کی شرح صرف3فیصد تھی اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ملکی تاریخ کی کم ترین سطح یعنی8ارب ڈالر تک آ گئے تھے جس کی وجہ سے مالی خسارہ8.8فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا اور توانائی کے بحران کی وجہ سے گردشی قرضوں کے حجم میں بھی اضافہ ہو گیا تھا مگر وزیر اعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں میکرو اکنامک استحکام کو یقینی بناتے ہوئے پیداواری شرح میں بہتری لائی گئی اور حکومت کی ٹھوس اقتصادی اصلاحات سے معیشت دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوئی،تین سال کے دوران پیداوار کا تناسب 4فیصد پر رہاجبکہ مالی سال2016ء میں جی ڈی پی4.71فیصد رہی جو گزشتہ 8سال کی سب سے بلند ترین شرح ہے جبکہ2017ء میں یہ شرح5.5فیصد رہی اور 2018-19ء میں یہ شرح7فیصد تک آ جائے گی۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا حجم 2013ء میں 43ارب تھا جو 2017میں بڑھا کر 115ارب روپے کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ عالمی بینک‘ ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور ہارورڈ یونیورسٹی نے انکشاف کیا ہے کہ ملکی جی ڈی پی کی شرح جون2017ء تک 5فیصد تک ہو جائیگی جبکہ کچھ عالمی اداروں نے یہ شرح 5.4 تک آنے کی پیشگوئی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ انٹر نیشنل بانڈز ،سکوک اور ایکویٹی مارکیٹ کے شعبوں میں پاکستان گزشتہ دس سالوں میں کافی پیچھے چلا گیا تھا جس پر ہم نے کام کیا اور اب غربت کی شرح میں واضح کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ ادارے توقع کررہے ہیں کہ پاکستان 2050ء تک دنیاکی اٹھارویں بڑی معیشت ہو گا اور کچھ کا کہنا ہے کہ 2030ء تک پاکستان دنیا کی 20ویں بڑی معیشت ہوگا۔عالمی اداروں کی طرف سے یہ مثبت رپورٹس ہمارے لئے بڑے اطمینان کا باعث ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاک ‘چین اقتصادی راہداری کی سرمایہ کاری نجی شعبے اور چین سے آرہی ہے جبکہ حکومت کا صرف 12ارب ڈالر کا حصہ ہے جس میں سے 6ارب ڈالر ریلوے کی بحالی ‘3ارب ڈالر موٹر وے کے کچھ حصوں کی تعمیر و مرمت اور 3ارب ڈالر گوادر کی ترقی پر خرچ ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کاسا اور تاپی جیسے بڑے منصوبے پہلے ہی سائن کرچکے ہیں جس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹرز کیلئے 180بلین کے پیکیج سے ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اقتصادی اعشاریئے مزید بہتر ہوجائینگے جبکہ حکومت کاہدف ہے کہ معیشت میں جتنی ہوسکے شفافیت لائیں۔انہوں نے کہا کہ ستمبر2018ء تک پاکستان اینٹی ٹیکس اویژن ٹریٹی کے تحت 104ممالک کا حصہ بن جائیگا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ 1999ء میں پاکستان کے پاس وافر مقدار میں بجلی موجود تھی لیکن گزشتہ حکومتوں نے توانائی منصوبوں پر کوئی کام نہیں کیا،موجودہ حکومت کی جانب سے توانائی کے بحران کے حل کیلئے متعدد منصوبے شروع کئے گئے جن میں سے کئی منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں جن کے مکمل ہونے سے مارچ 2018ء تک 10 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو جائے گی جبکہ صنعتوں کیلئے گزشتہ سال سے ہی لوڈ شیڈنگ نہیں کی جا رہی۔

انہوں نے واضح کیا کہ مطلوبہ توانائی کے حصول کے بغیر جی ڈی پی کی شرح 7فیصد تک لے جانا ممکن نہیں۔امن و امان اور دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر نیشنل ایکشن پلان کے تحت آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے جبکہ کراچی آپریشن کے بعد شہر میں امن اور روشنیاں بحال ہوئی ہیں اور کراچی کے لوگ اب بلا خوف و خطر اپنی روز مرہ کے معاملات خوش اسلوبی سے چلا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ہم نے اپنے فنڈز استعمال کئے جبکہ اس سلسلہ میں کوئی غیر ملکی امداد نہیں لی گئی۔ٹیکس ریکوری کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی بہترین ٹیکس اصلاحات کے ذریعے ٹیکس کولیکشن میں 60فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ، اتنے وسائل ہیں کہ ملک کی قسمت بدل سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ معیشت میں بہتری ‘توانائی بحران کا خاتمہ‘ تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری اور دہشت گردی و انتہا پسندی کا خاتمہ مسلم لیگ (ن) کے منشور کا حصہ تھا جس کے تحت ہم نے 2013ء کے انتخابات میں فتح حاصل کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاک‘ چین اقتصادی راہداری منصوبہ میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں میں کوئی امتیاز نہیں رکھا گیا جو سرمایہ کاری کے خواہش مند ہیں ان کیلئے دروازے کھلے ہیں اورانہیں خوش آمدید کہیں گے۔

اس موقع پر گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا کہ ملک کی معاشی و اقتصادی ترقی میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی کاوشیں قابل تحسین ہیں اور ملک معاشی طور پر بہتری کی جانب گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف بہت محنت کر رہے ہیں ،ْ پنجاب میںمواصلات ،ْانفراسٹرکچر ،ْ اورنج لائن ٹرین منصوبہ سمیت بہت سے منصوبوں پر کام جاری ہے۔اس موقع پر ینگ پریزیڈنٹس آرگنائزیشنز کے صدر علی جمیل نے بھی خطاب کیا۔

Your Thoughts and Comments