پنجاب میں اعلیٰ معیار کی 3 نئی یونیورسٹیاں بنانے کا فیصلہ،یونیورسٹیاں شمالی، جنوبی و وسطی پنجاب میں بنیں گی

شعبہ تعلیم کیلئے 373 ارب روپے مختص، بے مثال اقدامات سے تعلیمی منظرنامہ بدلیں گے، عثمان بزدار ہائر ایجوکیشن کے شعبے میں ریسرچ و ڈیویلپمنٹ پر خصوصی توجہ دی جائیگی، وزیراعلیٰ کی مختلف وفود سے گفتگو

پنجاب میں اعلیٰ معیار کی 3 نئی یونیورسٹیاں بنانے کا فیصلہ،یونیورسٹیاں ..
لاہور۔9 جنوری(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جنوری2019ء) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کیلئے تعلیم کے شعبہ کی بہتری اولین ترجیح ہے۔ رواں مالی برس شعبہ تعلیم کیلئے مجموعی طور پر 373 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے اور ہماری حکومت نے تعلیمی بجٹ میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں خاطرخواہ اضافہ کیا ہے جبکہ سابق ادوار میں تعلیم کے شعبہ کے حوالے سے زبانی جمع خرچ زیادہ کیا گیا۔

وہ یہاں وزیراعلیٰ آفس میں مختلف وفود سے گفتگو کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر پائیدار اقدامات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے کیونکہ شعبہ تعلیم کا پائیدار فروغ ہی کسی بھی ملک وقوم کی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے اور تعلیم کی بدولت ہی ترقی یافتہ ممالک نے اقوام عالم میں اپنا نام پیدا کیا ہے۔

(جاری ہے)

علم ایک ایسی دولت ہے جو کسی کی میراث نہیں ہے بلکہ ہر کسی کا بنیاد ی حق ہے اور ہماری حکومت یہ حق عام آدمی کے بچوں کو دے کر دم لے گی۔

انہوں نے کہا کہ غربت ، بیروزگاری اور جہالت جیسے مسائل سے نمٹنے کا واحد ذریعہ تعلیم ہے اور یہی وجہ ہے کہ تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر تعلیمی شعبے کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ قوموں کی ترقی میں عالمی معیار کی یونیورسٹیاں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں اور ہماری حکومت نے اسی حوالے سے پنجاب میں اعلیٰ معیار کی 3 نئی یونیورسٹیاں بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ یونیورسٹیاں شمالی، جنوبی اور وسطی پنجاب میں بنیں گی۔

نئی یونیورسٹیوں کے قیام کیلئے فزیبلٹی سٹڈیز کرائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کے شعبے میں ریسرچ اور ڈویلپمنٹ پر خصوصی توجہ دی جائیگی اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرکے شعبہ ہائر ایجوکیشن کو نئے چیلنجز سے ہم آہنگ کیا جائیگا۔ انہو ں نے کہا کہ شعبہ تعلیم کیلئے مقررکردہ اہداف حاصل کریں گے اور ہمارے بے مثال اقدامات سے صوبے میں تعلیمی منظرنامہ یکسر بدل جائیگا۔

Your Thoughts and Comments