الجزائر کے اسکولوں میں نماز کی ممانعت ، علماء تنظیم کا حکومت کوانتباہ

قوم کے دائمی رجحانات کو سرخ لکیر سمجھیں جن کے قریب کسی صورت نہیں پھٹکا جا سکتا،علماء ایسوسی ایشن

الجزائر کے اسکولوں میں نماز کی ممانعت ، علماء تنظیم کا حکومت کوانتباہ
الجیریا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 فروری2019ء)الجزائر میں علماء دین کی سب سے بڑی تنظیم نے کہاہے کہ دینی امور کے ساتھ سرکاری عہدے داران کی چھیڑ چھاڑ کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ موقف الجزائر کی وزیر تعلیم نوریہ بن غبریت کے اٴْس بیان کے جواب میں آیا ہے جس میں خاتون وزیر نے کہا تھا کہ نماز ادا کرنے کی جگہ گھر ہے ، اسکول نہیں۔

علماء ایسوسی ایشن کے سربراہ عبدالرزاق قسوم نے باور کرایا کہ ایسی کوئی چیز نہیں جو تعلیمی اداروں کے اندر نماز کی ممانعت کے حوالے سے ہدایات جاری ہونے کی تصدیق کرے مگر الجزائر کی شناخت اور دائمی رجحانات ثابت ہیں جن کو کئی دہائیوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔علماء ایسوسی ایشن کے سربراہ نے آئندہ صدارتی انتخابات کے امیدواروں سے مطالبہ کیا کہ وہ قوم کے دائمی رجحانات کو سرخ لکیر سمجھیں جن کے قریب کسی صورت نہیں پھٹکا جا سکتا۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ اسکولوں کے اندر نماز کی ممانعت کی حمایت میں خاتون وزیر کا بیان پیرس میں الجزائری اسکول کی پرنسپل کے ایک فیصلے کے بعد سامنے آیا۔ مذکورہ پرنسپل نے اسکول کے اندر نماز ادا کرنے پر ایک طالبہ کو ہفتے بھر کے لیے کلاس سے باہر کر دیا تھا۔ پرنسپل نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر طالبہ کے سرپرست نے اس تحریری بیان پر دستخط نہ کیے کہ ان کی بیٹی آئندہ اسکول میں نماز ادا نہیں کرے گی ،،، تو طالبہ کو حتمی طور پر اسکول سے نکال دیا جائے گا۔

الجزائر کی وزیر تعلیم نوریہ بن غبریت نے اسکول پرنسپل کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے تعلیمی اداروں میں جانے کا مقصد تعلیم و تدریس ہے اور اس طرح کے معمولات (نماز) گھر میں انجام دیے جاتے ہیں۔الجزائر کی خاتون وزیر تعلیم اس سے قبل اسکول کی نصابی کتابوں کے اندر سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی عبارت بھی حذف کرا چکی ہیں۔ اس مرتبہ انہیں عوامی حلقوں کی جانب سے سخت برہمی کا سامنا ہے جن کے نزدیک نوریہ بن غبریت کا بیان دین کو نشانہ بنانے کی کوشش اور قانون سے تجاوز ہے جو کسی بھی جگہ نماز ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

Your Thoughts and Comments