سندھ حکومت کو کارروائی سے روکنے کی اسکولوں کی استدعا مسترد

سندھ ہائی کورٹ نے سندھ حکومت اور دیگر کو 3 جون تک کے لیے نوٹس جاری کر دیئے

سندھ حکومت کو کارروائی سے روکنے کی اسکولوں کی استدعا مسترد
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 مئی2020ء)اسکول مالکان نے کورونا ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، عدالتِ عالیہ نے سندھ حکومت کو کارروائی سے روکنے کی اسکول انتظامیہ کی استدعا مسترد کر دی۔سندھ ہائی کورٹ نے سندھ حکومت اور دیگر کو 3 جون تک کے لیے نوٹس جاری کر دیے اور آئندہ سماعت پر فریقین سے دلائل طلب کر لیے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سندھ حکومت نے تمام اسکولوں کو 20 فیصد رعایت دینے کا پابند کر دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ اسکول فائدے میں ہیں یا نقصان میں، اسکول فیس میں 20 فیصد رعایت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔عدالت نے اسکول فیس میں 20 فیصد رعایت کے خلاف حکم امتناع ختم کردیا اسکول انتظامیہ کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سندھ حکومت کو اسکولوں کی انتظامیہ کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سے روکا جائے۔

(جاری ہے)

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ تعطیلات کے دوران سندھ حکومت اسکول انتظامیہ کے خلاف کارروائی نہیں کرے گی۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایکشن تب ہوگا جب اسکول مالکان فیس کے چالان جاری کریں گے یا بچوں کو اسکول سے نکالیں گے۔انہوں نے کہا کہ چھٹیوں کے دوران اگر اسکول کھولے گئے تو کارروائی بھی ہوگی، وبا کے دوران اسکول تو بند ہیں اور نہ ہی فیس کے چالان دیے جا رہے ہوں گی ارشد طیب علی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ہم بچوں کو ویڈیو لنک کے ذریعے تعلیم دے رہے ہیں۔

ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز ایجوکیشن نے سوال کیا کہ اسکول انتظامیہ اساتذہ کو تنخواہ نہیں دے گی تو بھی ان کے خلاف کارروائی ہوگی اسکول انتظامیہ کے وکیل نے کہا کہ تنخواہ دینا یا نہ دینا اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کا ذاتی مسئلہ ہے۔عدالتِ عالیہ نے سندھ حکومت کو کارروائی سے روکنے کی اسکول انتظامیہ کی استدعا مسترد کر دی۔

Your Thoughts and Comments