مانسہرہ ماڈل سکول جیسے اداروں کی تکمیل میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں ہے،اکبر ایو ب

مانسہرہ ماڈل سکول جیسے اداروں کی تکمیل میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں ..
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 جولائی2020ء)خیبرپختونخوا کے وزیر تعلیم اکبر ایوب خان نے مانسہرہ میں تعمیر کئے گئے مانسہرہ ماڈل سکول کے اجراء میں حائل رکاوٹیں دو ماہ کے اندر دور کر کے سکول کے لیے اساتذہ کی بھرتی کرنے اور داخلہ شروع کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سکول کے باقی ماندہ چھوٹے موٹے تعمیراتی کام کے لیے مالی وسائل پہلے ہی مہیا کر دئیے گئے ہیں اس لیے یہ کام 25 اگست تک ہر صورت میں مکمل ہونا چاہیے ۔

یہ ہدایت انہوں نے شہیلیہ مانسہرہ میں تعمیر کئے گئے مانسہرہ ماڈل سکول کے معائنے کے دوران جاری کی۔صوبائی سیکر ٹری تعلیم ندیم اسلم ، سی اینڈ ڈبلیو اور محکمہ تعلیم کے دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ سکول کی عمارت بالکل مکمل ہے اس لئے مانسہرہ کے عوام کے لئے اس سہولت کے اجراء میں تاخیر کا کوئی جواز باقی نہیں ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ فیکلٹی کی خدمات حاصل کرنے کے لئے اسامیوں کی مشتہری کا سلسلہ بھی فوری شروع کیا جائے تاکہ دو ماہ کے اندر کلاسوں کا اجرا ء کیا جاسکے ۔ اس موقع پر بریفنگ میں صوبائی وزیر تعلیم کو بتایا گیا کہ مانسہرہ ماڈل سکول93کنال اراضی پر 141.304 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا جس میں 800 سی1200 تک طلبہ کے تعلیم حاصل کرنے کی گنجائش ہوگی ۔

اکبر ایوب خان نے اس موقع پرکہا کہ تعلیم اور فنی تربیت کے ذریعے ملک کے انسانی وسائل کی ترقی پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے ایجنڈے کی ترجیحات میں شامل ہے اس لئے مانسہرہ ماڈل سکول جیسے اداروں کی تکمیل میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اس منصوبے کے اجراء کے لیے تمام ضروری وسائل اور مدد فراہم کرے گی جس کے لئے مانسہرہ کے اراکین صوبائی اسمبلی کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔

Your Thoughts and Comments