سپریم کورٹ کی ایڈورڈ کالج پشاور کا انتظام ٹیک اوور کرنے کے حکم کیخلاف کالج انتظامیہ کو معاملہ صوبائی حکومت سے ملکر حل کر نے کی ہدایت

اگر حکومت ٹیک اوور کرنا چاہتی تو یہ پارلیمنٹ کا مسئلہ ہے، پارلیمنٹ کے فیصلوں میں ہم مداخلت نہیں کریں گے، جسٹس یحییٰ آفریدی

سپریم کورٹ کی ایڈورڈ کالج پشاور کا انتظام ٹیک اوور کرنے کے حکم کیخلاف ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 اکتوبر2020ء)سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایڈورڈ کالج پشاور کا انتظام ٹیک اوور کرنے کے حکم کے خلاف کالج انتظامیہ کی اپیل پر کالج انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو معاملہ مل بیٹھ کر حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ صوبائی حکومت کالج انتظامیہ کے تحفظات دور کرے۔پیر کوجسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔

عدالت نے کالج انتظامیہ کو انتظامی و معاشی امور قانون کے مطابق شفاف انداز میں چلانے کا حکم دیا ۔عدالت نے پیش رفت رپورٹ چھ ہفتوں میں طلب کرلی گئی ۔ وکیل حامد خان نے کہاکہ 1974 سے کالج کو سرکار کے حوالے کرنے کی مخالفت کی گئی، بورڈ آف گورنرز نے بھی کالج کا انتظام نجی انتظامیہ کے پاس رہنے کی حمایت کی تھی، اس وقت کے وزیر اعلیٰ نے بھی کالج نیشنلائز نہ کرنے کی وضاحت دی۔

(جاری ہے)

وکیل حامد خان نے کہاکہ کالج سے حاصل ہونیوالا ریونیو وفاق کے پاس جاتا ہے، ہمیں اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے۔ جسٹس قاضی امین نے کہاکہ یہ ملک اقلیتوں سمیت تمام شہریوں کا ہے، اس ملک میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ اگر حکومت ٹیک اوور کرنا چاہتی تو یہ پارلیمنٹ کا مسئلہ ہے، پارلیمنٹ کے فیصلوں میں ہم مداخلت نہیں کریں گے۔ وکیل حامد خان نے کہاکہ حکومت کی مداخلت کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے ہیں، حکومت کو دل بڑا کرکے ادارے کو بچانا ہو گا۔

Your Thoughts and Comments