آٹھویں جماعت کے بچوں کی اسکولوں میں تدریس کا فیصلہ اسٹیئرنگ کمیٹی اورسندھ کی ٹاسک فورس کی رائے کے بعد کیا گیا ہے، سعیدغنی

اس وقت صوبہ سندھ میں کرونا وائرس کی صورتحال پنجاب اور کے پی کے مقابلے بہتر ہے تاہم کراچی اور حیدرآباد میں مریضوں کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور اگر ہم نے احتیاطی تدابیر نہ اپنائی تو خدانخواستہ صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے، وزیر تعلیم سندھ وزیر اعظم کا یہ بیان درست ہے کہ وہ روزانہ جب اپنے گھر سے نکلتے ہیں تو جہاد سمجھ کر نکلتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آس پاس بیٹھے بین الاقوامی جگادریوں اور مافیاز میں گرے ہوئے ہیں اور وہ اس وقت چوروں کے درمیان بیٹھ کر حکومت کررہے ہیں، پریس کانفرنس

آٹھویں جماعت کے بچوں کی اسکولوں میں تدریس کا فیصلہ اسٹیئرنگ کمیٹی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 اپریل2021ء)وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ سندھ بھر میں آٹھویں جماعت تک کے بچوں کی اسکولوں میں تدریس کا فیصلہ اسٹیئرنگ کمیٹی کی اکثریتی رائے اور حکومت سندھ کی ٹاسک فورس میں شامل ماہرین کی رائے کے بعد کیا گیا ہے اور اس پر عمل درآمد کرنا تمام اسٹیک ہولڈرز پر لازمی ہے۔ اس وقت صوبہ سندھ میں کرونا وائرس کی صورتحال پنجاب اور کے پی کے مقابلے بہتر ہے تاہم کراچی اور حیدرآباد میں مریضوں کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور اگر ہم نے احتیاطی تدابیر نہ اپنائی تو خدانخواستہ صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

یہ بات طے ہے کہ اس سال بچوں کو بغیر امتحانات اگلی کلاسز میں کسی صورت پرموٹ نہیں کیا جائے گا کیونکہ مسلسل دو سال ایسا کرنے سے ہائیر ایجوکیشن کا نظام مکمل تباہ ہوجائے گا۔

(جاری ہے)

اس وقت روزانہ ہزاروں کی تعداد میں پنجاب اور کے پی کے سے لوگ کراچی آ رہے ہیں اور یہاں سے جارہے ہیں، وفاقی حکومت سے ہم نے درخواست کی ہے کہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کو کچھ دنوں کے لئے بند کیا جائے لیکن ابھی تک انہوں نے اس پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا ہے۔

وزیر اعظم کا یہ بیان درست ہے کہ وہ روزانہ جب اپنے گھر سے نکلتے ہیں تو جہاد سمجھ کر نکلتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آس پاس بیٹھے بین الاقوامی جگادریوں اور مافیاز میں گرے ہوئے ہیں اور وہ اس وقت چوروں کے درمیان بیٹھ کر حکومت کررہے ہیں۔ عدالتوں کے فیصلے ہمیں پسند ہوں یا نہ ہو ہم اس پر عمل درآمد کے ضرور پابند ہیں لیکن اگر او پی ایس اور اضافی چارج کے فیصلے پر سو فیصد عمل کیا تو محکمہ تعلیم کا 70 فیصد کام بند ہوجائے گا اور اس سلسلے میں ہم عدلیہ سے درخواست بھی کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے پیر کے روز سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری تعلیم سندھ احمد بخش ناریجو بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ۔ وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ دو روز سے مختلف چینلز پر محکمہ تعلیم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس اور بعد ازاں گذشتہ روز آٹھویں جماعت تک کی تدریس کی معطلی کی خبروں کو لے کر اس طرح کی خبریں نشر کی جارہی ہیں کہ جیسے ہم نے اسٹیئرنگ کمیٹی کے ممبران کے فیصلے کے برخلاف کوئی فیصلہ کردیا ہے۔

سعید غنی نے کہاکہ سندھ ٹاسک فورس نے تعلیمی اداروں کی بندش کا جب فیصلہ کیا تو میں نے اس وقت اس کو اسٹیئرنگ کمیٹی کی مشاورت کے لئے کہا اور دو روز قبل اجلاس طلب کیا تو اس میں اکثریت نے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کچھ نے آٹھویں تک بند کرنے اور کچھ نے بند نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ کمیٹی کے ارکان نے اسکولوں کی بندش کو دیگر شعبوں کی بندش سے مشروط کیا تھا۔

سعید غنی نے کہا کہ کسی بھی صوبے میں تعلیم کے حوالے سے اس طرح کی کوئی اسٹیئرنگ کمیٹی نہیں ہے اور نہ ہی وہاں کی حکومت تعلیمی اداروں کے حوالے سے کوئی فیصلے اس طرح کی مشاورت سے کرتی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت تعلیمی اداروں میں کرونا وائرس کی شرح 2.7 فیصد ہے لیکن ہم اس کو 10 یا اس سے زائد ہونے کا انتظار نہیں کرسکتے۔ انہوںنے کہا کہ گذشتہ روز کے نوٹیفیکیشن کے اجراء پر کچھ پرائیویٹ اسکولز کی ایسوسی ایشن نے یہ تاثر دیا کہ اجلاس میں مکمل لاک ڈائون تک تعلیمی ادارے بند نہ کرنے کا کوئی فیصلہ ہوا تھا۔

انہوںنے کہاکہ یہ تاثر بالکل غلط ہے چند ارکان کی یہ تجویز ضرور تھی لیکن اکثریتی ارکان تعلیمی اداروں کی بندش کے حق میں تھے۔ انہوںنے کہا کہ ہم سندھ میں کرونا وائرس کے پھیلائو کا انتظار نہیں کرسکتے اور صورتحال کو دیکھتے ہوئے بھی ہم خواب خرگوش میں نہیں راہ سکتے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ہم نجی اسکولز مالکان کی پریشانیوں کو بھی سمجھتے ہیں اور ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ تعطیلات سے تعلیم کا نقصان ہوتا ہے لیکن ہم صحت کو لے کر کوئی سمجھوتہ بھی نہیں کرسکتے۔

انہوںنے کہا کہ تعلیم کو لے کر جتنے بھی ہم اقدامات کررہے ہیں وہ بحالت مضبوری کررہے ہیں۔ ایک سوال پر انہوںنے کہا کہ یہ بات تو طے ہے کہ اس سال کسی بھی درجے میں بغیر امتحانات کے بچوں کو اگلی جماعتوں میں نہیں بھیجا جائے گا اور اگر خدانخواستہ حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو ہم امتحانات کے شیڈول کو آگے لے جائیں گے اور اگر آج بھی ہم نے نویں سے بارہویں تک کی کلاسز کی تدریس کو معطل نہیں کیا تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کا کورس مکمل ہو اور ان کے امتحانات وقت پر ہوسکیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر بچارے چیل میں راہ کو کچھ ذہنی مریض بن چکیں ہیں اور انہیں یہ نہیں معلوم کہ اس وقت ہم جو بھی فیصلے اور نوٹیفیکیشن جاری کررہے ہیں وہ این سی او سی کے فیصلوں کی روشنی میں کررہے ہیں اور یہ وفاقی وزیر کے زیر صدارت ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کرونا ویکسین کی نجی شعبے سے خریداری میں بہت تاخیر کی اگر یہ پہلے فیصلہ ہوجاتا تو ہم بہت پہلے ویکسین منگوا لیتے۔

انہوںنے کہا کہ اس وقت تک کم و بیش 10 لاکھ ویکسین وفاق سے ہمیں ملے ہیں جبکہ ہم نے 20 لاکھ ویکسین کا آرڈر دیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ صوبہ سندھ میں اکثریت ویکسین خرید کر نہیں لگوا سکتی اس کے لئے وفاق اپنا کردار ادا کرے اور صوبوں کو ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ وزیر اعظم کی جانب سے یہ بیان کہ وہ جب صبح گھر سے نکلتے ہیں تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جہاد کے لئے نکلے ہیں کہ سوال کے جواب میں وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ یہ بالکل درست کہہ رہے ہیں کیونکہ ان کے دائیں اور بائیں اور آس پاس مافیاز اور بین الاقوامی جگادریوں کا ٹولہ ہے اور اس وقت چینی، ادویات، گندم، ڈالر، پیٹرولیم سمیت جتنے بھی اسکینڈلز ہیں ان کے مافیاز ان کے ساتھ ہیں اور اس وقت وزیر اعظم چوروں کے درمیان بیٹھ کر حکومت کررہے ہیں۔

محکمہ تعلیم میں عدالتی فیصلے کے باوجود تاحال اضافی چارجز اور او پی ایس افسران کی تعیناتی کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ یہ بات حقیقت ہے اور ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہمیں عدالتی فیصلے پسند ہوں یا نہ ہو ہم اس پر مکمل عمل درآمد کے پابند ہیں اور ہم اس پر عمل درآمد کربھی رہے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت ہمیں جتنے افسران 20 اور 19 گریڈ کے درکار ہیں وہ ہمارے پاس نہیں ہیں اور اگر ہم افسران کو اضافی اور او پی ایس پر تعینات نہ کریں تو صرف محکمہ تعلیم کا 70 فیصد کام ڈھپ ہوجائے گا۔

انہوںنے کہا کہ اس حقیقت سے ہم معزز عدلیہ کو بھی آگاہ کریں گے اور ہم نے پبلک سروس کمیشن سے 19 اور 20 گریڈ کے افسران کے لئے بھی استدعا کی ہے جبکہ محکمہ ذاتی پرموشن بھی ہورہے ہیں۔ صوبہ میں تعلیم کے معیار کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ ہم نے کئی انقلابی اقدامات شروع کئے ہیں۔ اساتذہ کی تربیت کے لئے ٹیچر ٹریننگ اسکولز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کام ہورہا ہے۔

ہم نے صوبے میں 37 ہزار اساتذہ کی میریٹ پر بھرتیوں کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ ہم نے وہ ایک کمرہ اور شیلٹر اسکولز جو صرف نام کے تھے اور سسٹم میں نمبرز بڑھائے ہوئے تھے ان کو بند کرنا شروع کیا ہے اور ہم نے نہ صرف نئی اسکولز کی تعمیر کی ہے بلکہ 9 ہزار ایسے اسکولز جن میں 80 فیصد رجسٹریشن ہے وہاں پر مختلف منصوبوں کے تحت ان کو اپ گریڈ کرکے وہاں تمام سہولیات کی فراہمی کے لئے اقدامات کا آغاز کیا ہے، جن میں سے 4 ہزار کے لگ بھگ اسکولز مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ باقی مانندہ پر کام تیزی سے جاری ہے۔

Your Thoughts and Comments