اس طرح بڑھاپے کی رفتار پوری عمر یکساں نہیں رہتی بلکہ اس میں تیزی اور تبدیلی رونما ہوتی ہے۔اس تحقیق سے بڑھاپے کے جسمانی اثرات، اعضا کے متاثر ہونے اور الزائمر یا امراض قلب کو سمجھنے اور علاج میں مدد بھی حاصل ہو گی۔
اس مطالعے میں پروٹومکس کا علم استعمال کیا گیا ہے جس کے تحت خون میں پروٹین کی مقدار اور معیار دیکھے جاتے ہیں۔
معلوم ہوا کہ خون میں مختلف پروٹین کی مقدار سے حیاتیاتی عمر رسیدگی کا بہتر اندازہ ممکن ہے۔
اس عمل میں خون میں پروٹین کی مقدار یا پروٹیوم کو دیکھا جا سکتا ہے جو بدلتے رہتے ہیں۔کبھی یہ گچھوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں تو کبھی خاص شکل میں ڈھل جاتے ہیں،لیکن یہ عمر کے تین مختلف حصوں میں زیادہ ہوتا ہے جنہیں بڑھاپے کی تین لہریں کہا جا سکتا ہے۔اس عمل میں 18 سے 95 برس کے 4263 افراد کے خون کا پلازمہ لیا گیا اور ان میں 3000 مختلف قسم کے پروٹین دیکھے گئے۔
ان میں سے 1379 پروٹین عمر کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں جو بڑھاپے کی ایک بہتر تصویر پیش کرتے ہیں۔ اس طرح 60,34 اور 78 برس کی عمر میں سب سے زیادہ تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
اگرچہ ماہرین اس کی وجہ بتانے سے قاصر ہیں لیکن اس سے یہ ضرور معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آخر بعض مریضوں کے اندرونی اعضا مثلاً جگر وغیرہ دیگر اعضا کے مقابلے میں تیزی سے بوڑھے کیوں ہوتے ہیں؟اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرد و خواتین میں بڑھاپے کی رفتار یکساں نہیں ہوتی۔