Uthne Bethne Main Ehtiyat Kijye!

اُٹھنے بیٹھنے میں احتیاط کیجیے!

Uthne Bethne Main Ehtiyat Kijye!
صحت مند رہنے کے لیے صحت بخش غذا کھانا ہی ضروری نہیں بلکہ اُٹھنے بیٹھنے کا صحیح طریقہ بھی اپنانا چاہیے۔ایسا طریقہ جس میں جسم متوازن اور بہتر رہے۔چاہے وہ بیٹھنے کے دوران ہو یا پھر کھڑے ہونے کے دوران ،یہی نہیں بلکہ لیٹتے ہوئے بھی جسم کا توازن میں رہنا ضروری ہے۔
اُٹھنے بیٹھنے کا صحیح طریقہ اپنانے کے لیے چند بنیادی باتوں کا جاننا ضروری ہے تاکہ اپنے جسم کو بہتر طریقے سے حرکت میں لایا جاسکے۔

ایسا نہ ہو کہ روز مرہ معمولات کے دوران جسم کے کسی حصے پر زیادہ زور پڑرہا ہو اور کسی حصے پر بہت کم دباؤ پڑے۔
بعض افراد شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کی گردن اکڑگئی یاکندھے میں تکلیف ہوگئی یا گھٹنے ،ران پر زور پڑ گیا جو درد کا سبب بن رہا ہے ۔ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف ،گردن اور سر میں درد بھی آج کل عام ہے۔

(جاری ہے)


درد کی یہ سب علامات اکثر اس لیے سامنے آتی ہیں کیونکہ لوگ غیر متوازن طریقے سے اُٹھتے بیٹھتے اور کھڑے ہوتے ہیں ۔

اسی لیے تو بچپن سے نانیاں،دادیاں بچوں کو ڈراتی دھمکاتی ہیں کہ سیدھے ہو کر بیٹھو ورنہ کبھ نکل آئے گا۔ابتداء سے کندھے کو پیچھے کی جانب کھینچ کر بیٹھنے کی عادت ڈالی جائے تو بہت سے مسائل سے محفوظ رہا جا سکتا ہے ۔اُٹھنے بیٹھنے کے غلط طریقوں پر روک ٹوک نہ کی جائے تو یہ بری عادت پختہ ہو جاتی ہے اور اس کے باعث جسم مشکل حالات سے دو چار ہو سکتاہے۔


گول تکیے پر سونے کی کوشش کریں ۔عام تکیے پر سونے سے سر کے اوپر والے حصے کا وزن گردن میں منتقل ہو جاتا ہے ایسا ہونے پر اکثر صبح اُٹھنے کے بعد گردن میں سخت تکلیف ہورہی ہوتی ہے ۔صحت مندانہ نشست وبرخاست ناصرف شخصیت کو پھر تیلا اور پرکشش بناتی ہے بلکہ درد کے علاوہ کئی دوسری تکالیف سے بھی محفوظ رکھتی ہیں۔
ذراسی کوشش سے جسم کی حرکات وسکنات کو توازن میں رکھا جا سکتا ہے ۔

درست طریقے سے ہاتھ پاؤں کو موڑناناصرف توانائی بچانے میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ یہ بہت سی دوسری مشکلات سے بھی محفوظ رکھے گا۔
بعض افراد سستی میں بیٹھے رہنے کے عادی بن جاتے ہیں ۔ان میں ایسے افراد بھی ہیں کہ وہ جب اُٹھتے ہیں تو ان کے جسم میں درد کے باعث ٹیسیں اُٹھ رہی ہوتی ہیں ۔وہ جوڑوں میں درد محسوس کرتے ہیں ۔
کچھ افراد کشن پر ٹیک لگا کر بیٹھتے ہیں تاکہ وہ اپنی ریڑھ کی ہڈی کو تکلیف سے بچاسکیں ۔

گاڑی چلانے کے دوران ایک چیز کا خیال رکھیے۔سیٹ بیلٹ لگا لیجیے،ایسا کرنا جسم کو سیدھا اور درست انداز میں رکھے گا ۔خیال رکھیے!کندھا اور پیٹھ سیدھے رہیں۔
Hipsسیٹ کے ساتھTouchکررہے ہوں۔ اس طرح جسم کے جوڑ بھی صحیح حالت میں رہتے ہیں۔
بیٹھتے وقت پیٹھ کو صحیح حالت میں رکھنے کے لیےLumber rollاستعمال کرنے کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے ۔یہ پیٹ اور کندھوں کو درست سمت میں بر قرار رکھنے کے ساتھ Spinal curveکو بھی صحیح حالت میں رکھتاہے۔


ہاتھوں کو سائیڈ پر رکھنا چاہیے اور پیروں کو فرش پر سیدھا رکھیں اور ہر تیس منٹ بعد پوزیشن کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔یہ عمل نا صرف دباؤ کو کم کرتا ہے بلکہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ جسم کے کس حصے کو غلط طریقے سے استعمال میں لایا جارہا ہے۔
صحیح طریقے سے سونا دباؤ کو کم کر سکتا ہے اور جسم کے تمام حصوں کو متوازن حالت میں رکھتا ہے۔

پیٹ کو نیچے کی جانب Downکرکے سونا بے چینی کا باعث بنتا ہے ۔اسی طرح اونچا بستر بھی تکلیف کا باعث بنتاہے۔
ایسی پوزیشن میں سوئیں جو پیٹھ کے خم کو توازن میں رکھنے کے لیے معاون ہو۔ایسا نہ ہو کہ تکیہ سر کے نیچے ہونے کے بجائے پیٹھ کے پیچھے ہو جائے ۔اکثر لوگ بے پرواہی میں سوتے ہوئے مختلف تکالیف میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ ایک بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ تکیہ پتلا ہوتاکہ جسم کے ساتھ گردن بھی ہمواررہے۔


اگر لیٹ کر اُٹھنا ہوتو کبھی اپنی کمر سے مدد نہ لیں بلکہ پوزیشن تبدیل کرنے کے لیے ہاتھوں کو استعمال میں لائیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اُٹھنے بیٹھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہر تیس منٹ بیٹھنے کے بعد بیس سے تیس قدم چلیں ۔کسی بھی قسم کی چیز اُٹھاتے ہوئے کمر پر جھکاؤ دینے کے بجائے گھٹنوں پر زور دیں ۔ابتداء میں ایسا کرنا کچھ مشکل ہو گا لیکن مشق کرنے سے عادت پڑ جائے گی۔
اُٹھنے بیٹھنے کا درست طریقہ اپنائیے،کیونکہ یہ صحت وتندرستی کے لیے ضروری ہے ۔اس سے شخصیت میں خود اعتماد ی بھی آتی ہے ،جبکہ غیر متوازن پوسچراچھی خاصی شخصیت میں بگاڑ کا باعث بنتاہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-05-10

Your Thoughts and Comments