Banjhpan Lailaaj Nahi - Article No. 2246

بانجھ پن لاعلاج نہیں - تحریر نمبر 2246

منگل 14 ستمبر 2021

Banjhpan Lailaaj Nahi - Article No. 2246
ایک اندازے کے مطابق دنیا میں بانجھ پن سے متاثرہ لوگوں کی تعداد تقریباً 80 ملین ہے۔پرائمری یا سیکنڈری بانجھ پن سے متاثرہ عورت میں نفسیاتی امراض کسی بھی ماں کے مقابلے میں دو گنا تک ملتے ہیں۔بانجھ پن میں مبتلا مریض خواہ عورت ہو یا مرد مسلسل ایک ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔بانجھ پن میں مبتلا کئی لوگ خصوصاً خواتین لوگوں کے سوالوں سے تنگ آکر تنہا رہنے کو ترجیح دینے لگتی ہیں جس وجہ سے مزید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتی ہیں۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ جیسے معاشروں میں بانجھ پن میں مبتلا افراد سب سے زیادہ نظر انداز کی جانے والی خاموش اقلیت (Most Neglected Minority) بنتے جا رہے ہیں۔
WHO کی ایک رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ملکوں میں بانجھ پن میں مبتلا کئی خواتین نفسیاتی مسائل کا سامنا نہ کر سکنے کی وجہ سے خودکشی جیسا اقدام بھی کر بیٹھتی ہیں۔

(جاری ہے)

ایسے بھی کئی شواہد ملے ہیں کہ جن خواتین کے ہاں شادی کے پہلے ڈیڑھ دو سال میں بچے نہیں ہوئے۔

ان کی خانگی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔بانجھ پن میں مبتلا کئی خواتین ذہنی ٹینشن کے مرض میں بھی مبتلا ہوئیں۔وہ علامتیں جو ڈپریشن میں مبتلا مرد و خواتین میں زیادہ ملتی ہیں درج ذیل ہیں۔
Loss Of Interest کام میں دلچسپی کا ختم ہو جانا۔
نیند میں بے قاعدگی۔
بھوک میں کمی۔
وزن میں تبدیلی۔
قوت میں کمی یا کمزوری محسوس ہونا۔
عدم توجہی،غائب دماغی،خیالات منتشر ہونا۔


Thought Of Guilt ہر وقت اپنے آپ کو مود الزام ٹھہرانا۔
زندگی سے بیزاری۔
خودکشی کے بارے میں سوچنا۔
جنوبی ایشیا کے دوسرے کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی عورت کو ہی اولاد کا اولین ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔اگر اولاد ہونے میں تاخیر ہو رہی ہو تو عورت ذمہ دار،اگر لڑکیاں پیدا ہو رہی ہوں تو عورت ذمہ دار۔ہمارے جیسے معاشروں میں اولاد ہونا خاص طور پر بیٹا ہونا ازدواجی رشتے کی مضبوطی کا نہایت اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

خاندان کی وجاہت،کاروبار اور گھر کے مضبوط معاشی،معاملات کے لئے بھی اکثر جوڑوں کی خواہش ہوتی ہے کہ بیٹا پیدا ہو۔بیٹا نہ ہونے کی صورت کئی مقامات میں عورت پر نفسیاتی و معاشرتی دباؤ ہوتا ہے حتیٰ کہ مرد کی جانب سے یا اس کے گھر والوں کی جانب سے دوسری شادی تک کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
لیکن․․․․کیا اولاد یا بیٹا پیدا کرنے کی ذمہ دار صرف عورت ہے یا مرد بھی اس میں شریک ہے۔

بچے پیدا کرنے کے لئے مرد کی دوسری شادی مسئلہ کا حل نہیں ہے کیونکہ اگر مرد بانجھ ہے تو وہ کتنی ہی شادیاں کر لے اس کے ہاں اولاد تو نہیں ہو سکتی البتہ خاندانوں کے لئے نفسیاتی مسائل اور بڑھ جائیں گے۔اگر کسی جوڑے کے ہاں بچے پیدا نہ ہو رہے ہوں تو میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ دونوں اپنا اپنا طبی معائنہ کرائیں۔ خاص طور پر مرد کو اپنے طبی معائنے میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔

ڈاکٹر اور حکیم حضرات کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق کے لئے آواز اُٹھانے والی ایسوسی ایشنز اور NGO کو بھی چاہیے کہ وہ بانجھ پن کے تعارف اور اسباب کے بارے میں آگاہی پروگرام چلائیں۔دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لئے اس قسم کی آگاہی مہم انتہائی ضروری ہے۔متاثرہ جوڑے کو کب ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے:
1۔عام طور پر 85 فیصد جوڑے ایک سال کے اندر اپنا مقصد حاصل کر لیتے ہیں۔

اگر کوئی جوڑا ایک سال کے بعد بھی اولاد کے مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہے تو اسے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
2۔اگر شادی کے وقت خاتون کی عمر پینتیس سال سے زیادہ ہے اور شادی کے ایک سال کے بعد تک حمل نہیں ہوا تو بلا تاخیر اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
3۔ڈاکٹر کے پاس میاں بیوی دونوں کو جانا چاہیے۔
اپنے روزمرہ کے معمولات میں ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہنے کی عادت ڈالیے کیونکہ بہت زیادہ ذہنی دباؤ بھی Fertilization کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔

بانجھ پن کے علاج سے پہلے یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ بانجھ پن کی وجوہات کیا کیا ہیں۔ایک سروے کے مطابق دنیا بھر میں 10 میں سے ایک جوڑا بانجھ پن میں مبتلا ہے،یعنی اس قدرتی عمل کے لئے بے شمار افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔ نوجوان طبقے کے کئی افراد کو اپنے لائف اسٹائل،فاسٹ فوڈ کے کثرت استعمال اور سافٹ ڈرنکس کی بہتات کی وجہ سے وزن کی زیادتی کا مسئلہ درپیش ہے۔

غذائی بے اعتدالی،کیمیکل زدہ کھانے،ماحولیاتی آلودگی،برقی مقناطیسی لہروں کی کثرت وغیرہ سے بھی تولیدی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔دیر سے شادی کرنے والے مردوں میں بھی تولیدی صلاحیت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ساتھ نطفہ کے معیار میں کمی واقع ہوتی جاتی ہے۔
مردانہ یا زنانہ بانجھ پن کا علاج:
بعض عام خرابیوں کو دور کرکے بھی شادی شدہ جوڑے اولاد کی خوشیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

ثانوی یا بانجھ پن میں مبتلا ایک جوڑے کی دو لڑکیاں ہیں۔جن کی عمریں بالترتیب پانچ اور سات سال ہیں لیکن اب مزید بچے پیدا کرنے میں انہیں کامیابی نہیں ہو رہی تھی۔خاتون نے بتایا کہ ہم مزید اولاد کے خواہش مند ہیں لیکن کامیابی نہیں ہو رہی۔میں نے ان کو چند لیب ٹیسٹ کا مشورہ دیا۔ٹیسٹوں میں چند چھوٹی چھوٹی خرابیاں آئی تھیں۔ان کے لئے میں نے پرہیز اور احتیاط کے ساتھ ساتھ ایک سادہ سا نسخہ بھی تحریر کر دیا تقریباً دو مہینے علاج کے بعد کی گئی پریگننسی رپورٹ پازیٹو آگئی۔الحمدللہ۔اس کیس کا حوالہ دینے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ کئی جوڑوں میں بعض چھوٹے چھوٹے پرابلم ہوتے ہیں لیکن ان کا درست علاج نہ کروانے سے ایسے جوڑے اپنے مقصد کو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-09-14

Your Thoughts and Comments