Beetroot

چقندر

ہفتہ دسمبر

Beetroot
خوش رنگ خوش ذائقہ چقندر کا استعمال سلاد سبزی اور گوشت میں کیا جاتاہے۔اس کا جوس کافی پسند کیا جاتاہے۔چقندر کئی امراض میں بھی مفید بتایا جاتاہے۔
بلڈ پریشر کے لیے مفید
چقندر نائٹریٹ سے بھر پور سبزی ہے۔جو یہ ہضم ہونے کے دوران نائٹرک آکسائیڈ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔نائٹرک ایسڈ خون کی شریانوں کو پھیلنے میں مدد گار ہے۔

اس سبزی کے جوس کا روزانہ استعمال بلڈ پریشر کم کرنے میں مفید ہے۔
جسمانی توانائی بڑھائے
نائٹرک آکسائیڈ کی بدولت خون کی شریانیں کشادہ ہوتی ہیں۔اس سے مسلز کو زیادہ آکسیجن ملتی ہے جو کہ جسمانی توانائی کو دیر تک بر قراررکھنے میں مدد گار ہے۔ایک تحقیق کے مطابق چقندر کا جوس جسمانی مشقت کی وجہ سے استعمال ہوجانے والی توانائی بحال کرتاہے۔

(جاری ہے)


قبض دور رکھے
ایک کپ چقندر میں تقریباً ساڑھے تین گرام فائبر ہوتی ہے۔یہ جز قبض کی روک تھام میں مدد دیتاہے۔یہ فائبر غذا کو تیزی سے غذائی نالی سے گزرنے میں مدد دیتاہے اور بہت جلد خارج بھی کر دیتاہے۔قبض میں زیادہ مبتلا رہنے والوں میں بواسیر کا خطرہ بھی ہوتاہے۔چقندر اس میں بھی مفید ہے۔اوکلا ہاما کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کم فائبر والی غذا بواسیر کا خطرہ بڑھاتی ہے جس سے محفوظ رہنے کے لیے زیادہ فائبر والی غذائیں مثلاً چقندر فائدہ مند ہے۔


اینٹی آکسائیڈ نٹس سے بھر پور
اس سبزی میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ جسم میں گردش کرنے والے فری ریڈیکلز کے نقصان سے بچانے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔اس کی وجہ سے کئی امراض سے تحفظ ملتاہے۔
حاملہ خواتین کے لیے مفید
معالج حاملہ خواتین کو چقندر کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

چقندر میں بڑی مقدار میں آئرن موجود ہوتاہے جو ریڈبلڈ سیلز بنانے میں مفید ہے۔اکثر حاملہ خواتین میں آئرن کی کمی ہو جاتی ہے۔چقندر دراصل ایک پودے کی جڑ ہوتی ہے جس کا ذائقہ شیریں ہوتاہے اور چھلکے سے لے کر اندر کے گودے تک سب کارنگ خون کی طرح سرخ ہوتاہے ۔سبزی خوروں کی یہ پسندیدہ غذا ہے۔اس میں بہت سارے فوائد مضمر ہیں ۔کھلاڑیوں کے لیے توانائی بحال کرنے کا یہ موثر ذریعہ ہے ،کینسر سے محفوظ رکھتا ہے اور ہائی بلڈ پریشر کی سطح کو نیچے لے آتاہے۔

چقندر میں موجود جو چیز سب سے زیادہ فائدہ پہنچاتی ہے،وہ بڑی مقدار میں شامل نائٹر یٹس ہیں۔دیگر سبزیوں کے مقابلے میں چقندر میں بیس گنا زیادہ نائٹریٹ ہوتاہے۔حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چقندر میں شامل نائٹر یٹس بلڈ پریشر کم کرتے ہیں۔
لندن کی کوئین میری یونیورسٹی میں ایک جائزہ میں دیکھا گیا کہ روزانہ اگر ایک گلاس چقندر کا جوس پی لیا جائے تو کئی گھنٹے تک بلڈ پریشر کم رہ سکتاہے۔

نائٹرک آکسائیڈ خون کی نالیوں کو پر سکون کرکے انہیں پھیلا دیتاہے جس سے خون زیادہ روانی سے جسم میں گردش کرنے لگتاہے۔ماہرین کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ نائٹریٹس نہ صرف بلڈ پریشر کم کرتے ہیں بلکہ جسمانی توانائی اور قوت برداشت بھی بڑھاتے ہیں۔ایک جائزے میں دیکھا گیا کہ جن بالغ افراد نے ایک گلاس چقندر کا جوس پیا تھا،انہوں نے دوسرے نوجوانوں کے مقابلے میں جنہیں نائٹریٹس شامل کیے بغیر کوئی اور مشروب پلایا گیا تھا،سولہ فیصد زیادہ دیر تک ورزش کی۔


دماغی صلاحیت بڑھائیے
نارتھ کیرولینا کی ویک فاریسٹ یونیورسٹی کے جائزے میں بتایا گیا کہ چقندر کا جوس استعمال کرنے سے دماغی کمزوری کی ایک قسمDementiaکی آمد میں تاخیر ہو سکتی ہے۔وجہ اس کی غالباً یہ ہے کہ نائٹرک آکسائیڈ دماغ کی طرف خون کے بہاؤ کو بڑھادیتے ہے۔
چقندر میں فولک ایسڈ کی مقدار بھی کافی ہوتی ہے۔اس غذائی جزو کے استعمال کی یومیہ سفارش کردہ مقدار کا 75فیصد دو یا تین چھوٹے سائز کے چقندر سے حاصل ہو سکتاہے۔

فولک ایسڈ نسیان کے مرض”الزائمر“سے تحفظ فراہم کرنے میں بھی مفید ہے۔چقندر میں ایک رنگ دار مادہBetacyaninہوتاہے جو چقندر کو اس کی سرخی بخشتا ہے۔یہ ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جس میں کینسر کا مقابلہ کرنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔واشنگٹن کی ہا وورڈ یونیورسٹی کے جائزے سے معلوم ہوا کہ ”بیٹا سایانین“نے پروسٹیٹ اور سینے کے سر طانی خلیات کی افزائش کی رفتار گھٹا دی۔

جرمنی کے معالجین سرطان کے مریضوں کوروزانہ کم از کم ایک کلو چقندر کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
غذائی ماہرین چقندر کو نظام ہضم کی خرابیاں دور کرنے میں مفید سمجھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ چقندر میں غذائی ریشے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔اگر دو یا تین چھوٹے سائز کے چقندر تقریباً100گرام کھالیے جائیں تو اس سے آنتیں متحرک ہو کر فضلے کا اخراج آسان بناتی ہیں۔چقندر میں ایک اور چیز Betaineبھی پائی جاتی ہے جو معدے میں تیزابی مادے کو معمول کے مطابق رکھتی ہے۔چقندر میں شامل مختلف اینٹی آکسیڈنٹس مثلاًBeta lain,VulgaxanthinاورBetaninباہم مل کر ایک اور چیز Glutathioneتیار کرتے ہیں جو زہریلے مادوں کے اخراج میں جگر کی مدد کرتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-12-07

Your Thoughts and Comments