Blood Pressure Kaam Kijye - Article No. 2010

بلڈ پریشر کم کیجیے - تحریر نمبر 2010

بدھ نومبر

Blood Pressure Kaam Kijye - Article No. 2010
سید رشید الدین احمد
بلڈ پریشر کیا ہے؟
یہ وہ قوت ہے جو آپ کے خون کو پورے جسم میں رواں دواں رکھتی ہے اور اس طرح جسم کے تمام خلیات (سیلز) کو غذا اور اوکسیجن فراہم کرتی ہے۔ یہ قوت آپ کے قلب کے پمپ کرنے کے عمل سے پیدا ہوتی ہے۔ تمام انسانوں کا بلڈ پریشر بھی گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ آپ پر جب بھی ذہنی یا جسمانی دباؤ بڑھتا ہے تو خون کے دباؤ میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔

جوش و خروش اور ورزش سے بھی یہ بڑھ جاتا ہے۔ آپ جب آرام کی حالت میں ہوتے ہیں یا نیند آجاتی ہے تو یہ کم ہو جاتا ہے۔ اکثر اوقات آپ کا بلڈ پریشر آپ کی عمر کے لحاظ سے اپنی معمول کی سطح پر رہتا ہے۔ عام طور پر عمر جتنی کم ہوتی ہے،بلڈ پریشر بھی اتنا ہی کم ہونا چاہیے۔

(جاری ہے)

جب آپ کا بلڈ پریشر بلند ہو کر ہر وقت بڑھتا رہتا ہے تو اسے ہائی بلڈ پریشر (بلند فشار خون) یا ہائپر ٹینشن (بیش طنابی) کہتے ہیں۔


ہائی بلڈ پریشر کیوں ہوتا ہے؟
اس کے بارے میں کوئی بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی۔ دس فیصد صورتوں میں یہ کسی اندرونی مرض،جیسے گردے کی تکلیف و مرض کا نتیجہ ہوتا ہے۔ تین باتوں کی وجہ سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے:
(1)جب پانی اور نمک کی کثرت سے خون کی مقدار یا حجم بڑھ جاتا ہے۔
(2)جب قلب سے جسم کے تمام حصوں کو خون لے جانے والی شریانیں سخت اور تنگ ہو جاتی ہیں۔


(3)جب قلب بہت تیزی اور سختی سے خون پمپ کرتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کی فکر کیوں کی جائے یہ محسوس تو ہوتا نہیں
آپ اسے محسوس نہ کرتے ہوں،مگر اس کی وجہ سے جسم کے اعضاء کو اندر ہی اندر دھیرے دھیرے نقصان پہنچتا رہتا ہے،اس لئے ہائی بلڈ پریشر کو ”خاموش قاتل“ کہتے ہیں۔ اسے قابو میں نہ لایا جائے تو سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔


پیچیدگیاں
ہائی بلڈ پریشر سے شریانیں سخت ہونے لگتی ہیں۔ ان کے اندر کی دیواروں یا استر پر چربیلے اجزاء کے جمع ہونے سے ان میں سختی آتی جاتی ہے۔ ذیل میں دئیے گئے اسباب ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔
موروثی اثرات
مشاہدات سے اندازہ ہوتا ہے کہ موروثی اثرات اس کا سبب ہوتے ہیں۔

اگر والدین،بھائی یا بہن کو ہائی بلڈ پریشر ہو تو آپ بھی اس میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
زیادہ نمک کھانا
نمک میں شامل سوڈیئم خون میں پانی زیادہ جمع کرکے خون کے حجم میں اضافہ کر دیتا ہے۔ اس سے کئی لوگ ہائی بلڈ پریشر میں مبتلاہو جاتے ہیں۔
زیادہ وزن
آپ موٹے ہوں گے تو چلنے پھرنے کے دوران قلب کو زیادہ زور لگانا پڑے گا۔

زیادہ چربی آپ کی شریانوں کے اندر جم کر انھیں سخت اور تنگ کر دے گی۔
زیادہ ذہنی دباؤ
غصے،جوش اور ذہنی دباؤ کی حالت میں بلڈ پریشر وقتی طور پر بڑھ جاتا ہے،اس لئے روزانہ ان کیفیات سے دو چار افراد رفتہ رفتہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض بن سکتے ہیں۔
کیا میں ہائی بلڈ پریشر میں مبتلاہوں؟
چونکہ اس کی علامات واضح نہیں ہوتیں،اس لئے اس کا کھوج چیک کرکے ہی لگایا جا سکتا ہے۔

بلڈ پریشر کا ٹیسٹ آسان بھی ہے اور بغیر کسی تکلیف اور دشواری کے یہ ٹیسٹ بہت جلد ہو جاتا ہے۔ اوپر کا بلڈ پریشر (انقباضی Systolic=) وہ ہے کہ جب قلب دھڑک رہا ہو۔نیچے کا بلڈ پریشر (انبساطی Diastolic=) وہ ہے کہ جب قلب دھڑکنوں کے دوران آرام کر رہا ہو۔
بلڈ پریشر کو اس طرح ظاہر کیا جاتا ہے
انقباضی 120
انبساطی 80
اسے 120ماورائے 80پڑھتے ہیں۔


بلڈ پریشر چیک کرنے کا طریقہ
آپ کے بازو کے اطراف ربڑ کی ایک پٹی لپیٹ کر اس میں ہوا بھری جاتی ہے،یہاں تک کہ اس کے دباؤ سے بازو میں خون کا دوران رُ ک جاتا ہے۔ جب یہ ہوا دھیرے دھیرے چھوڑی جاتی ہے تو اس دوران قلب کی جو پہلی آواز آتی ہے ،وہ آپ کا انقباضی، یعنی بڑھا ہوا بلڈ پریشر ہوتا ہے۔ جب ہوا کا زیادہ دباؤ خارج ہوتا ہے تو خون کا دوران نارمل ہو جاتا ہے اور آواز بند ہو جاتی ہے، یہ آپ کا انبساطی، یعنی کم دباؤ ہوتا ہے۔


کیا ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے؟
جی ہاں، رہن سہن اور کھانے پینے کے انداز تبدیل کرکے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔ موروثی اثرات کا علاج تو آپ نہیں کر سکتے ،لیکن ایسی صورت میں احتیاط سے ضرور کام لے سکتے ہیں۔
وزن کم کیجیے
اپنے معیاری وزن کا کھوج لگا کر اپنی غذا میں اعتدال اور ورزش سے وزن کم کیجیے۔


چکنائیاں کم کھائیے
تمام جمنے والی چکنائیاں اور زیادہ کولیسٹرول والی غذائیں کم سے کم کھائیے۔ اس طرح آپ اپنا وزن قابو میں رکھنے کے ساتھ ساتھ شریانوں میں زیادہ چربی کے جمنے کے خطرے سے بھی محفوظ رہیں گے۔
باقاعدہ ورزش کیجیے
ورزش سے وزن کم ہوتا ہے اور قلب بھی مضبوط ہوتا ہے۔ ورزش سے نہ صرف راحت و سکون ملتا ہے، بلکہ دباؤ اور کشیدگی بھی دور ہوتی ہے۔


نمک کم کھائیے
کھانا پکانے کے دوران نمک اور چینی کم شامل کیجیے۔ مزے اور ذائقے کے لئے لیموں،املی،ادرک،مرچ،تل کا تیل اور خوشبو کے لئے دھنیا ،پودینہ اور مصالحے شامل کیجیے۔ دسترخوان پر کھانے میں اوپر سے نمک نہ ڈالیے۔ یاد رکھیے، ٹماٹر ساس اور چٹنی اچار وغیرہ میں بھی نمک بہت ہوتا ہے۔ ڈبا بند، یعنی پکے پکائے تیار کھانوں سے اجتناب کیجیے، ان میں بھی نمک بہت ہوتا ہے۔

ہمیشہ گھر کے کھانے کھائیے۔ اس طرح آپ تازہ کھانا کھائیں گے اور نمک کی مقدار پر بھی قابو پا سکیں گے۔
نیند پوری لیجیے
روزانہ سکون بخشنے والے،یعنی نیکی و بھلائی کے کچھ کام ضرور کیجیے۔ پوری نیند لیجیے، اس طرح آپ تازہ دم رہیں گے۔ اپنا بلڈ پریشر چھے ماہ میں کم از کم ایک بار ضرور چیک کرائے۔ اس کا کھوج جتنی جلد لگے گا،مناسب تدبیر اور علاج سے اسے قابو میں کرنا اتنا ہی آسان ہو گا۔
تاریخ اشاعت: 2020-11-18

Your Thoughts and Comments