Nashta Tark Karna Zindagi Mukhtasir Kar Sakta Hai

ناشتہ ترک کرنا زندگی مختصر کرسکتاہے

Nashta Tark Karna Zindagi Mukhtasir Kar Sakta Hai
ناشتے کو عام طور پر دن کا سب سے اہم کھانا کہا جاتا ہے اور ماہ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی دنیا بھر میں کروڑوں مسلمانوں کے لیے ناشتے کی جگہ سحری لے لیتی ہے۔سحری ہویاناشتہ ،صبح کا یہ کھانا کتنا اہم ہے اس بارے میں امریکن کالج آف کارڈیالوجی کی حالیہ تحقیق کے مطابق یہ زندگی لمبی بھی کر سکتا ہے جبکہ ناشتہ چھوڑنے سے دل کی بیماری سے ہلاکت کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔

تحقیق کے نتائج پر کئی امریکی یونیورسٹیوں کے محققین اور پروفیسروں نے کام کیا۔
انھوں نے سنہ1988ء اور1994ء کے درمیان 40 سے75سال کی عمر کے 6550افراد کے ناشتے کی عادات کا جائزہ لیا۔تحقیق میں شامل افراد سے پوچھا گیا تھا کہ وہ ناشتے میں کیا کھاتے ہیں۔اس جائزے میں شامل پانچ فیصد افراد نے کہا کہ وہ کبھی ناشتہ نہیں کرتے ،تقریباً 11فیصد نے کہا کہ وہ شاذونادرکرتے ہیں اور 25فیصد نے کہا کہ وہ کبھی کبھی کرتے ہیں۔

(جاری ہے)


محققین نے پھر سنہ 2011ء تک کے اموات کے ریکارڈ کا جائزہ لیا تومعلوم ہوا کہ سروے میں شامل 2318لوگ اب دنیا میں نہیں تھے۔انھوں نے پھر ناشتہ کرنے کے رجحان اور اموات کے درمیان تعلق تلاش کرنے کی کوشش کی۔ طبی تحقیق سے پہلے ہی یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ناشتہ چھوڑنے کا صحت پر منفی اثر پڑسکتا ہے ،تاہم سائنسدان اب بھی اس تعلق کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس ’این ایچ ایس’نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ناشتہ نہ کرنا براہ راست دل اور شریان کی بیماریوں سے ہلاکت کی وجہ ہے۔
این ایچ ایس کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک ریویو کے مطابق اس تحقیق کا حصہ بننے والے وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ وہ ناشتہ نہیں کرتے زیادہ ترماضی میں تمباکونوشی کے عادی رہے ہیں،بہت زیادہ شراب نوشی کرتے ہیں،ورزش سے بالکل دور،غیر صحت مند خوراک کھاتے ہیں اور ناشتہ کرنے والوں کے مقابلے میں اقتصادی طور پر کمزور ہیں ۔

اس تحقیق میں صرف لوگوں کے ناشتے کی عادات پر غور کیا گیا اور ان دیگر عادات کا تجزیہ اس میں شامل نہیں تھا۔اس سے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ مختلف لوگوں کے لیے ناشتہ کیا اہمیت رکھتا ہے ۔
مثال کے طور پر زیادہ ترلوگ روز ناشتہ کرتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ آٹھ بجے صحت مند ناشتہ کرتے ہیں اور کچھ صبح ایک سینڈوچ یا سیریل بار پر گزاراکرلیتے ہیں۔

تاہم یونیورسٹی آف آئیووامیں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وے باؤنے ،جو اس تحقیق کے مرکزی مصنف ہیں، نتائج کادفاع کیا ہے ۔باؤ کا کہنا ہے کہ بہت سے تجزیوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہائپرٹینشن ،ذیابیطس ،ہائی کولیسٹرول کا تعلق ناشتہ چھوڑنے سے ہے۔انھوں نے کہا کہ ان کی تحقیق کے مطابق صحت منددل کے لیے ناشتہ ایک آسان حل ہے۔
باؤ اور ان کے رفقاء نے یہ بھی لکھا کہ ناشتے اور اور دل کی بیماریوں کے درمیان گہرا تعلق سامنے آیا ہے جس کا لوگوں کی سماجی اور اقتصادی حیثیت،جسامت اور دل اور خون کے نظام کے خطر ناک پہلوؤں سے تعلق نہیں ۔

ماہرین نے لکھا کہ ان کی معلومات کے مطابق یہ ناشتہ چھوڑنے اور دل کی بیماری کے درمیان تعلق کے بارے میں یہ پہلا تجزیہ ہے ۔دل اور شریانوں کی بیماریوں دنیا میں موت کی بڑی وجہ ہیں۔عالمی ادارئہ صحت کے مطابق سنہ2016ء میں دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ52لاکھ افراد ان کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
تاریخ اشاعت: 2019-06-03

Your Thoughts and Comments