Tawanai Se Bharpor Nashta

توانائی سے بھر پور ناشتا

Tawanai Se Bharpor Nashta
نسرین شاہین
اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ گھریلو خواتین صبح سے شام تک کام کاج میں مصروف رہنے کے بعد جسمانی طور پر بہت تھک جاتی ہیں ۔وہ کمزوری اور نقاہت محسوس کرنے لگتی ہیں ۔پھر ان کے اندر توانائی اور کام کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔معمولی گھریلو کام بھی انھیں بوجھ لگنے لگتے ہیں۔ایک کام ختم ہونے کے بعد خواتین دوسرے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتی ہیں۔

یہ سوچ یا فکر انھیں تھکا کر رکھ دیتی ہے۔جلد تھکن کا شکار ہونے والی خواتین اصل میں توانائی کی کمی میں مبتلا ہوتی ہیں،جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
جسمانی توانائی کو بحال رکھنے میں ناشتا اہم اور بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔جدید تحقیق کے مطابق تینوں وقت کے کھانوں میں متوازن ناشتہ ہی وہ واحد غذا ہے ،جو ہمیں مکمل توانائی دیتا ہے اور جس کی بدولت ہمیں دن بھر کام کرنے کی طاقت ملتی ہے۔

(جاری ہے)

ناشتا ہی خواتین کو تندرست وتوانا رکھ سکتاہے۔
خواتین اگر ہر صبح توانائی سے بھرپور ناشتا کرلیں تو دن بھر اپنے آپ کو چاق چوبند اور صحت مند محسوس کرتی ہیں،اسی لیے ناشتے کو اہمیت دینا خواتین کے لیے بے حد ضروری ہے۔ناشتہ نہ صرف ان کی صحت،بلکہ ان کے حُسن وجمال کے لیے بھی اہمیت رکھتاہے۔
خواتین کے جسم ودماغ کو توانائی بحال رکھنے اور اپنی کار کردگی کے لیے گلوکوس کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

رات بھر کے خالی پیٹ سے دماغ کو مطلوبہ گلوکوس کی مقدار نہیں مل پاتی۔ناشتا اس کمی کو پورا کر دیتا ہے ۔صبح بیدار ہو کر بھی اگر دماغ کو مطلوبہ گلوکوس نہ ملے تو پھر اس کی کار کردگی یقینا متاثر ہوتی ہے اور یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ دماغ ہی ہمارے پورے جسم کو قابو میں کرتاہے۔
اگر ہمارے دماغ کی کار کردگی اچھی اور اعلاہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں جسمانی اعضا پر بھی مثبت اثرات پڑتے ہیں ،ان کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے اور ان میں مضبوطی بھی پیدا ہوجاتی ہے ۔

صبح کا اچھا اور بھر پور ناشتا پورے دن ہمیں توانا اور ہمارے مزاج کو خوش گوار رکھتا ہے۔خواتین کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ ہر صبح کا آغاز بھر پور اور صحت بخش ناشتے سے کریں گی تو حُسن ،صحت اور توانائی ان کے چہروں سے جھلکے گی۔
ناشتے کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے بعد یہ اہم سوال ذہن میں آتا ہے کہ آخر صبح ناشتے میں کیا کھانا چاہیے؟ماہرین صحت کے مطابق صبح کا ناشتہ ایسا ہو ،جس میں نشاستے(کاربوہائیڈریٹ )کی کافی مقدار شامل ہو ،لیکن چکنائی بہت کم ہو۔

نشاستہ ہمیں دن بھر کے کاموں کے لیے توانائی فراہم کرتا ہے اور ہم جتنے حرارے(کیلوریز)حاصل کرتے ہیں ،ان کا جلنا بھی بہت ضروری ہے ۔اگر جسم میں موجود حرارے پوری طرح ضائع نہ ہوں تو ایسی صورت میں جسم میں چکنائی کی مقدار بڑھتی رہتی ہے جس کے نتیجے میں مٹاپے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
گھر کے ہر فرد کے لیے دلیے پر مشتمل ناشتا سب سے مفید ہے ۔

گندم کی بنی ہوئی روٹی،انڈا،کارن فلیکس ،پھلوں کاتازہ رس،دودھ اور پھل وغیرہ ایسی غذائیں ہیں ،جو دن بھر کام کاج کے لیے ایندھن کا کام دیتی رہتی ہیں ،اس لیے خواتین ناشتے میں ایسی غذائیں کھائیں،جو جسم کے لیے مفید اور توانائی بخش ہوں۔گندم یا جو کے دلیے سے بہتر اور کوئی غذا نہیں ،جو دوپہر کے کھانے تک ہماری توانائی اور قوت کار کردگی کوبرقرار رکھ سکے۔


اصل میں ہر فرد کا مختلف جسمانی نظام ہوتا ہے ،جس کے تحت ہم روزمرہ کے کام کاج انجام دیتے ہیں ۔ہمیں معلوم ہے کہ کس وقت سونا ہے ،کس وقت اٹھنا ہے ،کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا۔ہم نے اگر جسم کے ان قدرتی تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہوئے زندگی بسر کی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم صحت مند اور توانانہ رہیں۔
تجربات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ وہ خواتین جو کم حراروں والا ناشتہ کرتی ہیں ،ان کی کارکردگی ان خواتین سے زیادہ اچھی ہوتی ہے اور وہ زیادہ چاق چوبند وتوانا رہتی ہیں ،جو خواتین حراروں سے بھر پور ناشتا کرنے کی عادی ہوتی ہیں ،اس لیے خواتین خبردار ہو جائیں کہ اگر صبح کے وقت ان کا دل ناشا کرنے کو نہ چاہے تو حراروں سے بھر پور ناشتا کرنے کے بجائے ہلکا پھلکا ناشتا کریں ،لیکن توانائی سے بھر پور ہو۔


یہ درست ہے کہ ساری حیاتین(وٹامنز)،ساری معدنیات (منرلز)اور توانائی کسی ایک غذا کے کھانے سے حاصل نہیں ہوتیں ،بلکہ ہر ایک میں الگ الگ ہوتی ہیں ،لیکن اگر آپ نے متوازن ناشتا کر لیا تو بیشتر حیاتین اور معدنیات حاصل ہو جاتی ہیں۔اس کے بعد دوپہر اور رات کا کھانا اس کمی کو پورا کرتا ہے ۔وہ خواتین جو یہ سمجھتی ہیں کہ وہ اتنی مصروف ہیں کہ توانائی سے بھر پور ناشتہ بھی نہیں کر سکتیں ،انھیں ایک بار سنجیدگی سے اپنے معمولات کا جائزہ لینا چاہیے۔


خواتین اگر صحت مند رہنا چاہتی ہیں تو ناشتے میں جو کا دلیا کھائیں ،یہ سب سے بہتر ناشتا ہے ۔یہ بہ آسانی ہضم ہو جاتا ہے اور اس میں توانائی بھی ہوتی ہے۔وہ خواتین جو اپنے بڑھتے ہوئے وزن سے پریشان رہتی ہیں،ان کے لیے دلیے پر مشتمل بھر پور ناشتا فائدہ مند ہے۔یہ ان کے وزن میں کمی کا سبب بن سکتا ہے ۔انھیں چاہیے کہ وہ ناشتے میں دلیا کھانے کی عادت اپنائیں،یعنی دلیے کو ناشتے کا حصہ بنا لیں۔


دلیا جو کا ہو یا گندم کا،ایک مکمل توانائی بخش غذا ہے ۔اسے کھانے سے کام کے دوران پیٹ بھرے رہنے کا احساس ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ ناشتے میں ایک گلاس کیلے کا شیک بنا کر بھی پیا جا سکتا ہے ۔یہ دن بھر کام کے دوران توانائی کے ذخیرے کا کام کرے گا۔بہتر ہو گا کہ خواتین روزانہ بھر پور ناشتا کریں اور اسے دن بھر کی غذا میں سب سے زیادہ اہمیت دیں ۔اس میں وہ تمام اشیاء شامل کریں،جو آپ کی غذائی ضرورت پوری کر سکیں۔یہ غذائی عادت آپ کو خوب صورتی کے ساتھ صحت وتندرستی سے بھی نوازے گی ،آزما کر دیکھ لیجیے۔
تاریخ اشاعت: 2019-07-11

Your Thoughts and Comments