Breast Cancer Khatarnaak Magar Qabil E Ilaaj Marz

بریسٹ کینسرخطر ناک مگر قابلِ علاج مرض

Breast Cancer Khatarnaak Magar Qabil E Ilaaj Marz

چھاتیوں کا سرطان ان خواتین میں زیادہ ہوا کرتا ہے جن کے یہاں یا تو اولاد نہیں ہوتی اور اگر اولاد ہو بھی جائے تو وہ اسے اپنا دودھ نہیں پلاتیں
WHOکے اعداد وشمار کے مطابق اکیسویں صدی کے اختتام تک کم ازکم بیس لاکھ خواتین کینسر سے ہلاک ہو جائیں گی جن میں سے 20فیصد کا تعلق ہندوستان و پاکستان سے ہو گا
ڈاکٹرپروین پر کاش
ICMRکے حالیہ اعداد وشمار کی تفصیل بہت ہو لناک ہے ۔

ان کے اعداد وشمار کے مطابق ہندوستان پاکستان کے بڑے شہروں میں خواتین بہت تیزی سے سینے کے سرطان کا شکار بنتی جارہی ہیں ۔
WHOکا یہ اندازہ ہے کہ اکیسویں صدی کے آخر تک کم ازکم بیس لاکھ خواتین اس کینسر سے ہلاک ہو جائیں گی ۔اور ان میں سے بیس فیصد کا تعلق ہندوستان اور پاکستان سے ہو گا جبکہ اسی فیصد پوری دنیا سے۔

(جاری ہے)


اعداد وشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ چھاتیوں کا سرطان ان خواتین میں زیادہ ہوا کرتا ہے جن کے یہاں یا تو اولاد نہیں ہوتی اور اگر اولاد ہو بھی جائے تو وہ اسے اپنا دودھ نہیں پلاتیں۔


چھاتیوں کی یہ ہولناک خرابی کے ساتھ ایک مثبت بات یہ ہے کہ ابتدا ہی میں اس مرض کی تشخیص ہو سکتی ہے جبکہ اسی نوعیت کے سرطان اگر پھیپھڑوں یا جگر وغیرہ میں ہو جائیں تو ان کا اندازہ بہت دیر کے بعد ہوتا ہے ۔
اور تشخیص کے بعد اگر مریضہ پر مکمل اور بھر پور توجہ دی جائے تو پھر اس پر کنٹرول پایا جا سکتا ہے ۔اسی طرح اگر چھاتیوں میں ٹیو مر کا سراغ بروقت مل جائے تو سرجری کے ذریعے کا میابی کے ساتھ اس کا علاج ہو سکتا ہے ۔


لیکن برصغیر میں ابھی اس کا کامیاب علاج ایک سنہرے خواب کی طرح دکھائی دیتا ہے ۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں مختلف شعبوں کے ماہرین کے درمیان عدم تعاون کا فقدان ہے ۔یعنی ریڈیو لوجسٹ اور پیتھا لوجسٹ کے درمیان یا پھر سرجنوں کے درمیا ن۔یا پھر کسی قسم کا ٹیم ورک نہیں ہو پاتا ۔اس لئے اس کے علاج کے سلسلے میں دشواریاں پیش آنے لگتی ہیں ۔


کسی خاتون کے سینے میں اس قسم کے مہلک سرطان کے نشوونما کی کیا وجوہات ہوتی ہیں یہ ابھی تک حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکا ہے ۔بہر حال اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔مثال کے طور پر ۔
1۔قبل ازوقت ایام کا جاری ہو جانا یعنی بارہ برس کی عمر سے پہلے ۔تیس سال کے بعد بچوں کی پیدائش یا پچاس سال کے بعد سن یاس (حیض کا بند ہو جانا جو عام طورپر پینتالیس اور پچاس کے درمیان ہوا کرتا ہے )

بہت زیادہ اور طویل المدت اسٹیروجن اور پروگیسٹرون کی افزائش ۔
3۔بہت زیادہ کلوریز کا استعمال۔لیکن اسے ختم کرنے کے لئے جسمانی حرکتیں (ورزش وغیرہ )بہت کم ۔
4۔رات کے وقت بہت تیز روشنی میں رہنا۔
5۔نقصان دہ کیمیکلز کا استعمال۔جیسے آرگنا کلورائن ‘ڈیوڈرنٹس وغیرہ۔
پولینڈ میں ہونے والی حالیہ تحقیق کے مطابق اسٹیروجن اور پروگیسٹرون کا تعلق غذا اور توانائی کا تعلق اس کی بناوٹ سے ہے جو سینے میں کینسر کے جراثیم کا سبب بنتے ہیں ۔


خواتین میں سینے کے سرطان کے خطرے کو ان کی طرز زندگی تبدیل کرکے کم کیا جا سکتا ہے ۔
برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر خواتین زیادہ سے زیادہ جسمانی سرگرمیوں (ورزش وغیرہ)میں حصہ لیں اور کلوریز کا استعمال کم سے کم کریں تو اسٹیر وجن اور پروگیسٹو رون کی افزائش کم سے کم ہو جاتی ہے اور جن کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سینے کے سرطان کے امکانات کم سے کم تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔


کینسر پر ریسرچ کرنے والوں کا یہ کہنا ہے کہ اگر غذا میں تازہ پھلوں اور سبزیوں کی مقدار اور بڑھائی جائے تو سینے کے سرطان کے امکانات کم ہو جاتے ہیں ۔
تشخیص کی تکنیک
کینسر کے خلاف ایک جنگ جاری ہے ۔
اس جنگ کو لڑنے والے سرجن ‘ریڈیولوجسٹ اور پیتھا لوجسٹ ہیں ۔انہوں نے اس کینسر کی تشخیص کے کئی زاوےئے تلاش کئے ہیں ۔
یہ امید کی جاتی ہے کہ آج کے جدید طریقہ کار (ڈیجیٹل میموگرافی ‘سونو میمو گرافی اور میگنیٹک ریزوینس امیجنگ)MRIاور بائیوپسی کے طریقے۔

ایک سوئی کو سانس کے ذریعے اندر لینا‘ماماٹون اور اسٹیر یو ٹاکٹک سسٹم موجودہ دور میں بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لئے بہت کار آمد طریقے ہیں ۔
Mammography(کسی غیر شفاف عامل کے انجکشن کے بعد چھاتی کے ایکس رے جانچئے)۔
میمو گرافی اس مرض کی تشخیص کیلئے آئیڈیل ہے ۔
ہر ایکسرے کی طرح میمو گرافی میں بھی ریڈی ایشن کا اخراج بہت کم ہوا کرتا ہے ۔


عمر کے کسی بھی مرحلے پر سینے کے سرطان کی تشخیص کے لئے میمو گرافی طریقہ کار سب سے بہتر ہوا کرتا ہے ۔کیونکہ بعض اوقات بڑے سے بڑا ماہر اور تجربہ کار سرجن یا ڈاکٹر بھی اس مرض کی صحیح تشخیص نہیں کرپاتا۔
لیکن اس عمل کے ذریعے یہ تشخیص بالکل واضح ہو جاتی ہے۔
اس کی کار کردگی کا یہ حال ہے کہ یہ سینے میں موجود ننھے سے ننھے ٹیو مر کا بھی سراغ لگا لیتا ہے ۔

چاہے وہ ٹیو مراعشاریہ پانچ سینٹی میٹر ہی کیوں نہ ہو۔
میمو گرافی کو اس لئے دوسرے طریقہ کار پرسبقت حاصل ہے ۔
وہ مریض جس کے سینے میں سرطان ہو ۔وہ کبھی اس کی وجہ سے نہیں مرتا۔ بلکہ اس کی موت اس وقت ہوتی ہے جب یہ سرطان جسم کے دیگر حصوں میں پھیلنا شروع ہو جاتا ہے اور جگر ‘پھیپھڑے‘دماغ اور ہڈیاں وغیرہ اس کی زد میں آجاتی ہیں ۔


جب اس سرطان کو عام انداز سے چیک کیا جائے تو اس کا سراغ اس وقت ملتا ہے جب یہ سرطان اچھا خاصہ بڑھ چکا ہوتا ہے اوریہ لاکھوں کروڑوں خلیات کا ملغوبہ بن جاتا ہے ۔اور ان میں سے بے شمار خلیات ٹوٹ کر خون میں شامل ہو کر پورے بدن میں گردش کرنے لگتے ہیں ۔
اس لئے اگر میمو گرافی کے ذریعے ابتداء ہی میں اس کی تشخیص ہو جائے تو پھر علاج میں بہت آسانی ہو جایا کرتی ہے ۔


وہ عورت جسے اپنے سینے میں کوئی گانٹھ وغیرہ محسوس ہوا سے فوری طور پر کسی ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہئے۔
میمو گرافی کی مشین کے ذریعے ٹیسٹ کرتے ہوئے جتنی ریز خارج ہوتی ہیں وہ تقریباً اتنی ہی ہوتی ہیں جتنی دانتوں کے ایکسرے میں ہوا کرتی ہے ۔اس لحاظ سے بھی اس میں ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔
میمو گرافی تو بیس تیس برسوں سے رائج ہے ۔

لیکن آئے دن جدید تحقیقات کی روشنی میں اس کے ذریعے تشخیص کو آسان سے آسان تر بنایا جاتا ہے ۔
اب سے بیس سال پہلے ا س عمل میں جتنے مرحلے تھے اب اس کا صرف دس فیصد رہ گئے ہیں اور اتنے ہی ریز کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔جتنی ریز کا سامنا کوئی مسافر پرواز کے دوران کیا کرتا ہے ۔اس لئے ایڈوانس میمو گرافی سے تشخیص بہت آسان ہو گئی ہے ۔ان دنوں ایڈوانس ٹیکنالوجی کی بدولت ڈیجیٹل میمو گرافی ہونے لگی ہے ۔

اس ڈیجیٹل میمو گرافی کے کئی پلس پوائنٹس ہیں ۔
جو رزلٹ یا تصویر آتی ہے اسے کمپیوٹر ڈسکس میں محفوظ کر لیتے ہیں ۔
امیجز کو اپنی ضرورت کے مطابق ‘سائز میں بڑا‘روشن اور واضح کیا جا سکتا ہے تاکہ ہر پہلو سے اسے دیکھا جا سکے ۔عام میمو گرافی میں یہ سہولت موجود نہیں ہے ۔اس سے صحیح نتیجہ پر پہنچنے میں آسانی ہو جاتی ہے ۔
ڈیجیٹل میمو گرافی کے امیجز فون لائن کے ذریعے دوردراز کے کسی ماہر کو بھیجے بھی جا سکتے ہیں ۔


مجوزہ ٹیسٹ
اس مرض سے محفوظ رہنے کے لئے خواتین کو چالیس سے پچاس سال کی عمر کے درمیانی 2سال میں ایک بار اپنا میمو گرام ضرور کراتے رہنا چاہئے۔
اور خاص طور پر اس وقت جب خاندان میں ایسا کوئی کیس ہو چکا ہو ۔اس وقت اس کی ضرورت زیادہ ہو جاتی ہے اور جب عورت پچاس سے کراس کر چکی ہو اس وقت سال میں ایک بار یہ ٹیسٹ کرنا بہت ضروری ہے ۔


سونو میمو گرافی جسمانی چیک اپ اور میمو گرافی کے بعد صرف سپلیمینٹ کے طور پر کرایا جا تا ہے ۔
آواز کی لہریں سینے کے اندر جا کر اندر کی تصویر اجا گر کرتی ہیں ۔
اس تکنیک کے ذریعے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ سینے کے اندر جو گانٹھ محسوس ہورہی ہے وہ واقعی تشویش کن ہے یا کوئی معمولی سی بات ہے ۔
وہ خواتین جو چالیس سے کم عمر کی ہوں ۔

ان کے لئے الٹراساؤنڈ مناسب ہوا کرتا ہے ۔سوئی کے ٹھیک مقام پر جانے کے بعد درست بائیو پسی ممکن ہو جاتا ہے ۔
سینے میں کینسر کی تشخیص کے لئے MRIالٹراساؤنڈ یا میمو گرافی سے زیادہ بہتر ہوا کرتا ہے ۔
یہ طریقہ ان خواتین کے لئے کار آمد ہے جن کے جسم میں سلیکون داخل کیا گیا ہو جو کینسر کے دوبارہ لاحق ہونے کی نشاندہی کرتا ہے ۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میری لینڈ کے سائنس دانوں نے ایک نئی ہمہ جہتی Dimensional 3-ڈیوائس ایجاد کی ہے ۔

جسے(HEI) Hall Effect Imagingکا نام دیا گیا ہے ۔
اس ڈیوائس کے ذریعے الٹراسانک لہریں پیدا کرکے بیمار یا صحت مند خلیات کا اندازہ کر لیا جاتا ہے ۔
اس ڈیوائس کے ذریعے غلط تشخیص کا امکان بہت کم رہ گیا ہے ۔
بائیوپسی (Biopsy)
اس طریقہ کار میں سینے کے ٹشوز کا ایک ٹکڑا کاٹ کر مائیکرواسکوپ کے ذریعے اس کا معائنہ کرتے ہیں ۔
سینے کے اس ٹشو کو یا تو آسان سرجری کے زریعے یا پھر جسم میں ایک سوئی داخل کرکے حاصل کیا جاتا ہے ۔


سرجیکل بائیو پسی میں جلد کا ایک ٹکڑا وہاں سے کاٹ لیتے ہیں جہاں یہ خرابی واقع ہونے لگی ہے ۔
اس کے بعد جہاں تک سرطان پھیل چکا ہو اس پورے حصے کو ایک ٹکڑے کی شکل میں کاٹ کر علیحدہ کر لیتے ہیں ۔
دوسرا طریقہ سوئی کے ذریعے بائیپوسی کا ہے ۔
سرجیکل بائیپوسی کے مقابلے میں یہ طریقہ کار کم نقصان دہ ہوا کرتا ہے ۔کیونکہ اس میں سینے پر Cutکا کوئی نشان نہیں پڑتا۔


بائیپوسی کے طریقہ کار میں کئی طرح کی تکنیک استعمال کی جاتی ہیں ۔مثال کے طور پر:
Fine Needle Aspiration Cytology(FNAC)
Core Needle Biopsy
Mammatone System and
Stereotactis Biopsy System
FNACسسٹم میں ایک ایسی سوئی استعمال کی جاتی ہے جو عام پن کی طرح ہوتی ہے اور جس میں مریض کو بے حس کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور اس کا رزلٹ چوبیس سے اڑتا لیس گھنٹوں کے درمیان آجاتا ہے ۔


کورنیڈل بائیوپسی میں بے حسی (Anesthasia)کی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں بیس سے تیس منٹ لگ جاتے ہیں ۔سوئی کو سینے میں داخل کرنے کے لئے ایک گن استعمال کی جاتی ہے ۔
چاہے سونومیمو گرافی ہورہی ہو یا میمو گرافی ‘فزیشن اس سوئی کو اس کے ٹارگٹ میں داخل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔اس قسم کی بائیوپسی کے ذریعے ٹشوز کا ایک بڑا حصہ علیحدہ کردیا جاتا ہے ۔


اسٹیریوٹیکٹس سسٹم ایک کمپیوٹرائزڈ سسٹم ہے ۔اس کے ذریعے سینے میں پرورش پانے والے زخم کی نشاندہی کی جاتی ہے اور بائیوپسی کے لئے ٹشوز کو محفوظ کر لیا جاتا ہے ۔
یہ طریقہ کار خاص طور پر ان زخموں کی دریافت کے لئے بہت کار آمد ہوتا ہے جو اندر چھپے ہوئے ہوں اور جنہیں آسانی سے تلاش کیا جا سکے۔
یہ سارے جدید طریقے اس سرطان کے سراغ کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں ۔

لیکن اس کے ساتھ ہی ایک خود تشخیصی نظام کا بھی مشورہ دیا جاتا ہے ۔
ماہرین آج بھی خواتین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ خود اپنے طور پر تشخیص کے ان مراحل سے گزرتی ہیں ۔اور اپنے سینے میں کسی قسم کی گانٹھ کا احساس ہوتے ہی ڈاکٹر کے پاس پہنچ جائیں ۔اگر سینے کی یہ گانٹھ خطر ناک صورت اختیار کررہی ہے تو Lumpactomyکے ذریعے اسے علیحدہ کر دیا جاتا ہے اور اس سرطان کے آگے تک پھیل جانے کا اندیشہ ہے تو ایسی صورت میں یہ پورا اپستان کاٹ دیا جاتا ہے ۔


ایسی خواتین جن میں اس مرض کی علامات موجود ہوں اور آہستہ آہستہ پورے جسم میں پھیل جانے کا اندیشہ ہو ۔ان کے لئے بہتر ہے کہ وہ پستانوں کو علیحدہ کروالیں ۔اس سے پہلے کہ یہ مرض پھیل جائے۔
اندازہ ہے کہ پستانوں کو علیحدہ کروانے کے بعد اس مرض کے امکانات نوے فیصد تک کم ہو جاتے ہیں۔
حالیہ ترقی
یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سینے کے سرطان میں مبتلا عورتوں کے لئے یہ صرف آپریشن ضروری ہے بلکہ سرجری کے بعد ان کو کیمو تھراپی ‘ریڈ یو تھراپی‘ہارمون تھراپی اور امینو تھراپی کے مراحل سے بھی گزرنا پڑتا ہے ۔


یہ سارے طریقے ایک توازن کے ساتھ استعمال کرائے جاتے ہیں ۔تب جا کر اس مریض کو کینسر کی سرجری کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں ۔اس سے آگے یہ بھی دیکھنا ہو تا ہے کہ بیماری کس اسٹیج پر تھی ؟ایام کے دن کیسے جاتے ہیں ؟ٹیو مر کیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جس سرجن سے علاج کرایا گیا ہے اس کی مہارت اس شعبے میں کیسی ہے ؟
کینسر تھراپی میں ہونے والی حالیہ ریسرچ نے کینسر کی مریض خواتین کے لئے جادو کا کام کیا ہے ۔


مثال کے طور پر ہائی فریکوئنسی یا الٹراسونک ساؤنڈ کی لہروں کے ذریعے خون کے زیادہ زیاں سے بچتے ہوئے مریضہ کے پستانوں کو علیحدہ کرنے کا تجربہ کیا گیا ہے ۔
یہ عمل ان مریضاؤں کے ساتھ کیا گیا جن کا کینسر ابتدائی مرحلوں میں تھا۔
اس تکنیک میں الٹراساؤنڈ کے رزلت کی روشنی میں ایک خاص قسم کی باریک سوئی استعمال کی جاتی ہے ۔
یہ سوئی زخم (ٹیومر)میں واضح کر دی جاتی ہے ۔


یہ سوئی ٹیومر میں داخل ہونے کے بعد کسی چھتری کی طرح کھل جاتی ہے ۔اس کے بعد ہائی فریکوئنسی ویوز خطرناک ٹیومرکوکنٹرول کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں ۔
یہ ہائی فریکوئنسی ویوز ٹشوز میں پروٹین ‘ہائیڈروجن کو بونڈ کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے خون کا رساؤ بہت کم ہوجاتا ہے ۔
جینیٹک رابطے
جینز کی دریافت نے اس مسئلے میں بھی پیش رفت کی ہے اور سائنس دانوں کو یہ سمجھنے کے قابل بنایا ہے کہ سینے کا یہ سرطان کن وجوہات کی بناء پر نشوونما پاتا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ کس طرح اس سے بچا جا سکتا ہے ۔

تجرباتی بنیاد پر ایک خراب کروموسوم کی جینیٹک انجنےئر نگ کے ذریعے مرمت کی جاتی ہے ۔
ایک ہسپتال کے ڈاکٹر نے خون کی جانچ کے ذریعے اس کینسر کی موجودگی کے امکانات کا جائزہ لینے کا طریقہ بھی دریافت کیا ہے ۔خون کے صرف ایک قطرے کے ذریعے اس مرض کا پتہ چلانے کے امکانات واضح ہو گئے ہیں ۔
اس کے علاوہ صحت مند اور مضبوط جین کو ٹیو مر میں داخل کرنے کا تجربہ بھی ہے ۔

یہ صحت مند اور مضبوط جین سرطان کے ٹشوز کو تباہ کرنے کا سبب بن سکتا ہے ۔
اس کے علاوہ روایتی جڑی بوٹیوں کے ذریعے بھی سرطان کی دوائیں کشیدکی جارہی ہیں ان میں تلسی اور اشواگندھا کے پودے بھی ہیں ۔
ان پودوں سے حاصل کردہ ادویات ٹیومر کے خلیات سے Glutathionaکی مقدار کو کم کردیتے ہیں ۔جس کی وجہ سے ریڈی ایشن تھراپی زیادہ موثر ہو جاتی ہے ۔


سائنس دانوں کے تجزےئے کے مطابق سرطان کے ٹیومر اس وقت تک ایک ملی میٹر سے زیادہ نہیں ہوتے جب تک ان میں خون کی نئی سپلائی نہ قائم ہو۔
لمحہ بہ لمحہ
1۔پہلے مرحلے میں سینے کا سرطان ایک انچ کے قریب گانٹھ کی صورت میں صرف ایک پستان تک محدود رہتا ہے ۔
2۔دوسرے مرحلے میں یہ گانٹھ بڑھ کر دوانچ تک ہوجاتی ہے ۔اس کے ساتھ اُس طرف کے بغل میں گلینڈ نمودار ہو جاتے ہیں ۔


3۔تیسرے مرحلے میں گانٹھ کا سائز دوانچ سے کہیں زیادہ ہو جاتا ہے اور اس بغل کا گلینڈ بھی بہت بڑھ جاتا ہے ۔
4۔چوتھے مرحلے میں یہ پھوڑا یا زخم دوسرے پستان تک بھی پہنچ جاتا ہے اور اس کے ساتھ جگر ‘پھیپھڑے اور ہڈیاں وغیرہ بھی متاثرہونے لگتی ہیں ۔
سائیکل چلائیے کینسر بھگائیے
ہفتے میں تین گھنٹے سائیکل چلانے سے بریسٹ کینسر کے امکانات 34%کم ہو جاتے ہیں۔


تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ان عورتوں کے لئے جو باقاعدگی کے ساتھ سائیکل چلاتی ہیں ‘چھاتی کے سرطان (کینسر )کا خطرہ کم ہوجاتا ہے ۔جرمن محققین کے مطابق ہر ہفتے تین گھنٹے سائیکل چلانے سے اس مرض کا امکان 34%کم ہوجاتا ہے اور اگر اس سے زیادہ سائیکل چلائی جائے تو خطرہ مزید گھٹتا چلا جاتا ہے ۔لیکن ریسرچ کرنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ شاید وہ اس نتیجے پر اس وجہ سے پہنچے ہوں کہ لوگوں کو دوسری ورزشوں کے مقابلے میں سائیکل چلانے کی ورزش زیادہ یادرہ جاتی ہے ۔

اس تحقیقی مطالعے میں 45سال سے کم عمر کی ایسی400خواتین کو شامل کیا گیا تھا جو ابھی ماہواری بند ہونے کے دور میں داخل نہیں ہوئی تھیں ۔مگر چھاتی کے کینسر کا شکار ہو چکی تھیں ۔ان کے ساتھ ساتھ 880صحت مند خواتین کو بھی زیر مطالعہ لایا گیا تھا جنہوں نے اس کے لئے خود کو رضا کارانہ طور پر پیش کیا تھا۔ان سب سے یہ پوچھا گیا کہ وہ 12سے19سال کی عمر تک اور پھر 20سے30سال کی عمر تک کس طرح ورزشیں کرتی رہیں تھیں ․․․ہلکی ‘درمیانی یا سخت ۔

ہیڈل برگ کے جرمن کینسر ریسرچ سینٹرکی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سائیکل چلانے کی بڑھتی ہوئی سرگرمی کے ساتھ ساتھ چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم ہوتا چلا جاتا ہے ۔سائیکلنگ کے علاوہ کھیلوں میں شرکت بھی عورتوں میں چھاتی کے کینسر سے محفوظ رہنے میں مدد دیتی ہے۔
برطانیہ میں کینسر پر ریسرچ کرنے والی ایک خاتون کلےئر اسٹیونس کہتی ہیں کہ خواتین جو ایام کے دور سے گزررہی ہوں ‘ورزش کے ذریعے سے کینسر سے بچاؤ کے خاصے امکانات ہیں ‘لیکن ان عورتوں کے بارے میں یہ بات ابھی پورے یقین کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی جو ماہواری بند ہو جانے کے دور میں داخل نہیں ہوئی ہیں ۔

وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ سائیکلنگ کسی دوسری نوعیت کی ورزش کے مقابلے میں بہتر نتائج دے سکے۔
مسز اسٹیو نسن کے مطابق اس کے اشارے تو ملتے ہیں کہ جسمانی طور پر فعال رہ کر کینسر سے بچا جا سکتا ہے ‘مگر سائنس دان اب تک اس کی وجہ بتانے سے قاصر رہے ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-03-26

Your Thoughts and Comments