Cancer - Article No. 1978

کینسر - تحریر نمبر 1978

منگل اکتوبر

Cancer - Article No. 1978
ڈاکٹر جمیلہ آصف
کینسر کو اس وقت دنیا میں تیزی سے پھیلنے والے موذی امراض میں شمار کیا جاتا ہے اور ماہرین صحت کے لئے سب سے بڑا مسئلہ اس کی بروقت تشخیص ہے ۔ماہرین کے مطابق موجودہ طریقہ کار کے تحت کینسر کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب وہ شروع ہو چکا ہوتا ہے اور وہ پہلی یا دوسری اسٹیج پر پہنچ چکا ہوتا ہے ۔عام طور پر ”بریسٹ کینسر“ کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب وہ دوسری یا تیسری اسٹیج پر پہنچ چکا ہوتا ہے،اسی طرح دیگر طرح کے کینسر بھی تاخیر سے تشخیص ہوتے ہیں ۔

کینسر کی تشخیص کے بعد اگرچہ ماہرین اس کے ہونے کی وجوہات بھی جان لیتے ہیں،تاہم اب ماہرین نے ایک نئی تحقیق پر کام شروع کیا ہے جس کا مقصد کینسر کے پیدا ہونے کی وجوہات جاننا ہے ۔

(جاری ہے)


رپورٹ کے مطابق ”کینسر ریسرچ یوکے“ برطانوی یونیورسٹی آف کیمبرج،یونیورسٹی کالج آف لندن اور امریکا کی’اسٹین فورڈ اور اوریگن یونیورسٹی کے ماہرین کے ساتھ کینسر کے پیدا ہونے کی وجوہات پر تحقیق کر رہے ہیں ۔

اس تحقیق کے دوران ماہرین اس بات کا پتہ لگائیں گے کہ کینسر کیسے ہوتا ہے اور وہ پہلے دن انسانی جسم پر کس طرح نمودار ہوتا ہے۔اس نئی تحقیق کے دوران ماہرین خون،سانس اور پیشاب کے ٹیسٹ سمیت دیگر طریقہ کار کے تحت اس بات کو معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ کینسر کیسے ہوتا ہے ۔ماہرین اس دوران ایسے مشکوک افراد کو جدید آلات کے ذریعے معائنہ بھی کریں گے جن میں کینسر ہونے کے امکانات کے شکوک و شبہات موجود ہوں ۔

اس منفرد تحقیق پر پہلی بار مرتبہ امریکی و برطانوی ماہرین مل کر کام کریں گے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ماہرین کو اس تحقیقی میں کم سے کم تین دہائیاں لگ سکتی ہیں ۔ اس وقت دنیا بھر میں کوئی ایسا طریقہ موجود نہیں،جس کے تحت یہ معلوم کیا جا سکے کہ کینسر کیسے ہوتا ہے اور اس کے پیدا ہونے کے ابتدائی دن میں انسانی جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔


کینسر کیسے ہوتا ہے پر تحقیق کرنے والی ٹیم میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں عام طور پر اس وقت کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جب وہ پروان چڑھ چکا ہوتا ہے اور بعض اوقات تو کینسر کی تشخیص آخری اسٹیج میں ہوتی ہے ۔خیال رہے کہ کینسر اس وقت تیزی سے بڑھنے والا موذی مرض ہے اور حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق 2024 تک دنیا بھر میں کینسر کے کیسز کی تعداد 60 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے ۔

حال ہی میں ہونے والی ورلڈ کینسر لیڈر کانفرنس کے دوران ماہرین نے کہا کہ دنیا بھر میں کینسر بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی بڑی وجوہات تمباکو نوشی،ناقص غذا اور دنیا بھر بیٹھے رہنا ہیں،جو اس کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتی ہیں اور 2024تک ایسے کینسر کی تعداد 60فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے ۔
کراچی کی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں کراچی میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پالیسی ساز اداروں پر زور دیا ہے کہ کینسر سے بچاؤ اور اس کی روک تھام کے لئے حکمت عملی ترتیب دیں کیونکہ 10سال کے دوران ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی کینسر رجسٹری میں 22ہزار858کینسر کے کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں پہلے نمبر پر بریسٹ اور دوسرے نمبر پر منہ کا کینسر ہے،منہ کے کینسر کی روک تھام کے لئے مختلف نوعیت کی تمباکو کی اشیا،پان،گٹکا،سگریٹ، بیڑی،شیشہ،نسوار وغیرہ پر پابندی عائد کی جائے ۔


پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز کے تحقیقی مقالے کے مطابق کراچی کے مردوں میں ہونٹوں اور منہ کا کینسر بڑھ رہا ہے،رپورٹ کے مطابق الکوحل،گرم مشروبات(چائے کافی و دیگر مشروبات وغیرہ)اور آگ پر سینکے گئے گوشت(باربی کیو)کے استعمال سے غذائی نالی کا کینسر ہوتا ہے ۔اس لئے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ عشرے میں ان غذائی اشیا کے استعمال کا رجحان کتنا بڑھا ہے۔


رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ دس سال کے دوران بچوں میں ذہنی و اعصابی نظام کے سرطان میں اضافہ ہو رہا ہے،اس سلسلے میں بھی اقدامات کی ضرورت پر بھی قومی سطح پر کینسر کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں ۔رپورٹ کے مطابق کراچی میں گزشتہ عشرے کے دوران جلد کے کینسر کی بڑی وجہ تو شہر کی خط استوا سے قربت ہے جبکہ دوسری وجہ اوزون کی حفاظتی تہہ کا پتلی ہونا جس کی وجہ سے الٹراوائلٹ شعاعیں زمین تک پہنچ رہی ہیں جو جلد کے کینسر کی وجہ بن رہی ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق اوزون کی تہہ کے پتلا ہونے کی وجہ ہائیڈرو کلورو فلور فلورو کاربن کی زیادہ مقدار میں پیداوار ہے،ان کی سالانہ پیداوار کی شرح71.7فیصد ہے جو اوزون کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ جلد کی بیماریوں کی وجہ بھی بن رہی ہے ۔
تاریخ اشاعت: 2020-10-13

Your Thoughts and Comments