Ghazain Aur Sartan Say Bachao

غذائیں اور سرطان سے بچاؤ

Ghazain Aur Sartan Say Bachao

محمد عثمان حمید
قدرت نے انسانی زندگی کی بقاکے لیے ہر مفید و موزوں چیز پیدا کی ہے ۔غذا بھی ان میں سے ایک ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو زندہ رہنے ،اپنے کام کاج کو صحیح طرح سے انجام دینے کے لیے عطا کی ہے۔
اشیائے خوردنی کی قدرت نے اتنی اقسام وافرمقدار میں پیدا کی ہیں کہ ہر ایک کو مناسب مقدار میں کھایا جائے تو پوری زندگی موذی ومہلک بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے ۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ مختلف بیماریوں میں غذا کا کیا کردار رہے اور کون سی غذائیں ایسی ہیں ،جنھیں کھا کر بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے اور کون سی غذائیں ایسی ہیں ،جن کا کھانا بیماریوں کے امکانات کو مزید بڑھا سکتا ہے ۔نیز یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ان بیماریوں میں مبتلا ہونے کی صورت میں ہماری غذائی ترجیحات کیا ہونی چاہییں۔

(جاری ہے)


سرطان
سرطان (کینسر)ایک ایسا مہلک مرض ہے ،جس کی وجہ سے شرح اموات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔

یہ سچ ہے کہ آلودہ ہوا و پانی ،ناقص ملاوٹ شدہ غذائیں ،شراب نوشی ،تمبا کونوشی ،سورج کی مضر شعاعیں،
کیمیائی مادے اور مختلف قسم کے جراثیم سرطان کا سبب بنتے ہیں ،لیکن اگر ہم کوشش کریں تو بچاؤ کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں ۔کوئی ایسی خاص قسم کی غذا بھی موجود نہیں ہے ،جو سرطان کو مکمل طور پر ختم کردے ،
لیکن چند غذائیں ایسی ضرور ہیں ،جنھیں کھانے سے سرطان کے امکانات یا رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے
۔


مثال کے طور پر دودھ میں موجود حیاتین الف اور د(وٹامنزاے اورڈی)،کیلسےئم اور رائبو فلاون(RIBOFLAVIN) جسم میں سرطان سے لڑنے کی قوت پیدا کرتے اور اس کو مزید پھیلنے سے روک سکتے ہیں ۔بڑی آنت کا سرطان اس کی ایک مثال ہے ۔کیلی فورنیا میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق ایسے مرد جنھوں نے 20برس تک 2سے3گلاس دودھ روزانہ پیا،اُن میں دودھ نہ پینے والوں کے مقابلے میں بڑی آنت کے سرطان کے امکانات محض ایک تہائی تھے ۔

ایک بالغ انسان کی روزانہ کی ضرورت 2سے3گلاس دودھ یا اُس سے بنی ہوئی اشیاء کی مطلوبہ مقدار 2سے3پیالی ہے ۔
چوں کہ دودھ میں موجود بالائی چکنائی کا ذریعہ ہے ،اس لیے دودھ بغیر بالائی والا پینا چاہیے
۔
کھانے کا ایک جزو ایسا ہے ،جسے بہت احتیاط سے کھانا چاہیے ۔یہ جزوفیٹ(FAT)، یعنی چکنائی ہے ۔یہ احتیاط سرطان کو پھیلنے سے روک سکتی ہے ۔

امریکی کینسر سوسائٹی کے مطابق ایک بالغ انسان کی غذا میں موجودہ کل حراروں (کیلوریز)میں چکنائی کا صرف 20سے25فی صد ہونا چاہیے ۔باقی 15فی صد لحمیات (پروٹینز)اور 65فی صد نشاستہ(کاربوہائڈریٹ )نشاستے دار غذاؤں سے حاصل کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ کولیسٹرول کی مقداربھی200ملی گرام روزانہ سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے
۔
پہلے عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ صرف جم جانے والا گھی ہی نقصان دہ ہوتا ہے اور معالجین بھی دل کے مریضوں کو تیل میں پکے ہوئے کھانے کھانے کا مشورہ دیا کرتے تھے ،لیکن اب نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ خوردنی تیل جن میں زیادہ تر کثیر غیر سیر شدہ چکنائیاں(POLYUNSATURATED FATS) ،یعنی نہ جمنے والی چکنائیاں ہوتی ہیں ،انھیں بھی زیادہ کھانے سے سرطان حملہ آور ہو سکتا ہے ۔


چنانچہ اب ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی چکنائی زیادہ کھانے سے آنت اور مثانے کے غدود
(پروسٹیٹ گلینڈز)کے سرطان لاحق ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں ۔
اس میں استثنا صرف اومیگا۔3چر بیلے تیزاب(فیٹی ایسڈ)کو حاصل ہے ،جو مچھلی میں پایا جاتا ہے اورمحفوظ ترین چکنائی ہے ۔کھانے میں چکنائی کی مقدار کم کرنے کے لیے چربی والا گوشت ،کھال سمیت مرغی کا گوشت ،بالائی والا دودھ دہی ،مکھن،پنیر ،آئس کریم اور گھر وغیرہ سے جہاں تک ممکن ہو ،پر ہیز کریں ۔

مرغی ،گائے اور بکری کا گوشت ہمیشہ بغیر چربی والا کھائیں ۔کوشش کریں کہ روزانہ کی غذاؤں میں چکنائی کی مقدار 150گرام سے زیادہ نہ ہو۔
گائے ،بھینس اور بکری کے گوشت کے برعکس مچھلی کا گوشت اور اُس کا تیل بے حد مفید ہے ،اس لیے کہ اس میں اومیگا ۔3چربیلا تیزاب ہوتا ہے ،جس میں مانع سرطان اجزا پائے جاتے ہیں ۔تحقیق کے مطابق مچھلی کا تیل سرطان زدہ خلیات کی افزایش کو روک دیتا ہے ،لہٰذا تازہ مرغی اور مچھلی کا گوشت زیادہ کھائیں۔

مرغی اور مچھلی پکاتے وقت بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ زیادہ مقدارمیں تیل استعمال نہ ہو ۔اُبلا ہوا یا بہت کم تیل میں پکا ہوا گوشت تلے ہوئے یا کوئلوں پر سینکے ہوئے گوشت سے بہتر ہوتا ہے ۔
سرطان سے بچاؤ کے لیے جن غذاؤں پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے ،وہ تازہ سبزیاں اور پھل ہیں ،
جن میں موجود ریشہ اور مانع تکسید اجزا(ANTIOXIDANTS) ان کی افادیت میں اضافہ کرتے ہیں ۔


ماہرینِ صحت کے مطابق جو افراد پھل اور سبزیاں زیادہ کھاتے ہیں ،ان میں بڑی آنت ،معدے ،چھاتی اور پھیپڑوں کے سرطانوں کے امکانات تقریباً آدھے رہ جاتے ہیں ۔ہمیں یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ ریشے کے ساتھ پانی پینے کی روزانہ مقدار 8سے10گلاس ہونی چاہیے،ورنہ قبض ہو سکتا ہے ،
لیکن اس مقدار میں چائے اور کافی شامل نہیں ہیں ،اس لیے کہ یہ پیشاب آور ہیں اور جسم سے مزید پانی خارج کرنے کا سبب بنتی ہیں۔


سبزیاں اور پھل ہمیشہ خوب دھو کر اور چھلکوں سمیت کھانے چاہییں۔بہتر ہے کہ سبزیاں کچی کھائی جائیں اور اگر پکائی جائیں تو دیر تک نہیں ۔اس کے علاوہ ان سبزیوں میں زیادہ پانی اور تیل بھی ڈالنے سے گریز کیا جائے ۔گاجر ،ٹماٹر ،پالک ،ٹینڈا ،خوبانی اور آڑو وغیرہ زیادہ کھانے چاہییں ،کیوں کہ ان میں بیٹا کیروٹین(BETACAROTENE) اور حیاتین ج(وٹامن سی)پائی جاتی ہیں ،جو پھیپڑوں اور غذا کی نالی کے سرطانوں سے بچاتی ہیں ۔

ان کے علاوہ بندگوبھی ،پھول گو بھی اور ساخِ گوبھی(بروکولی)وغیرہ بھی بہت فائدہ مند سبزیاں ہیں ۔
پیاز ،ادرک اور لہسن دیکھنے میں بہت عام سبزیاں لگتی ہیں ،لیکن یہ اپنے اندر بہت سی خصوصیات رکھتی ہیں ۔ایک تحقیق کے مطابق جو افراد روزانہ تین اونس کی مقدار میں لہسن اور پیاز کھاتے ہیں ،ان میں معدے کے سرطان کے امکانات 40فی صد تک کم ہو جاتے ہیں۔

ریشہ حاصل کرنے کے ذرائع میں گندم،مکئی ،جو اور چاول وغیرہ شامل ہیں ۔ماہرین صحت کہتے ہیں کہ گندم کی بھوسی چھاتی کے سرطان کو کم کرنے میں موٴثر ہے ،اس لیے بے چھنے آٹے کی روٹی کھانا بہت مفید ہے ۔سرطان کے خطرے میں گھر ے ہوئے افراد کو نہ صرف چائے اور کافی کم پینی چاہییں ،بلکہ سگرٹ نوشی سے بھی پر ہیز کرنا چاہیے۔
منھ اور گلے کا سرطان عورتوں کی نسبت مردوں کو زیادہ لاحق ہوتا ہے اور اس کی بنیادی وجہ تمبا کو ہے ۔

جو افراد پائپ پیتے ہیں ،وہ ہونٹوں کے سرطان میں مبتلا ہو سکتے ہیں ۔منھ ،گلے اور جگر کے سرطان کا شراب سے گہرا تعلق ہے ،اس سے اجتناب کرنا بے حد ضروری ہے ۔مٹاپا بھی سرطان کا سبب بن سکتا ہے ،لہٰذا وزن کو لازمی کم کرنا چاہیے ۔وزن کی زیادتی سے چھاتی کے سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔وزن کم کرنے کے لیے روزانہ ورزش کرنا بہت ضروری ہے ۔بہتر ہو گا کہ کھانوں میں گھی اور تیل کم سے کم مقدار میں ڈالے جائیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-03-31

Your Thoughts and Comments