Cholesterol Dushman Sehat - Article No. 2183

کولیسٹرول دشمن صحت - تحریر نمبر 2183

منگل 22 جون 2021

Cholesterol Dushman Sehat - Article No. 2183
بتائیے تو وہ کون ہے،جو آپ کو چوری چھپے بڑی خاموشی کے ساتھ ہلاک کر رہا ہے؟پلاؤ یا بریانی،کباب یا تکے،کیک یا پیسٹری،مٹھائیاں یا حلوے پوریاں۔اصل میں بازار کی تیار شدہ روغنی غذائیں کھانے والے اس کے ہاتھوں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ آخر یہ قاتل ہے کون؟ہم سب کے اس قاتل کا نام کولیسٹرول ہے۔
کولیسٹرول ایک مومی مادہ ہے۔

ہماری صحت کے لئے یہ ضروری ہے،اسی لئے ہمارا جسم اسے خود تیار کرتا ہے۔اس کی مدد سے ہضم کا نظام ٹھیک کام کرتا ہے،ہارمون تیار ہوتے ہیں اور دوسرے مفید کام ہوتے رہتے ہیں،مگر جب اس کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے تو ہمارا یہ ہمدرد و مددگار کولیسٹرول مکار و عیار قاتل کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔خون کی گردش میں روڑے اٹکانے لگتا ہے،جس سے قلب کو صدمے اور زخم لگتے ہیں،یہاں تک کہ بسا اوقات یہ قلب کو لے ڈوبتا ہے۔

(جاری ہے)

اس وقت شوق سے کھائے ہوئے تمام بازاری کھانے کسی کام نہیں آتے۔
ہمارے جسم میں کولیسٹرول کی سطح دھیرے دھیرے بلند ہوتی رہتی ہے۔موم جیسا یہ زرد مادہ خون کے ساتھ گردش کرتے کرتے شریانوں کی سطح پر جمتا چلا جاتا ہے،بالکل اسی طرح جیسے برتن دھونے کے سِنک (SINK) کے پائپ میں برتنوں سے خارج شدہ چکنائی جمی رہتی ہے۔بہت سے لوگوں میں کولیسٹرول کے جمنے کا یہ سلسلہ بچپن ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔

اس عمر میں بچہ کھانے پینے کی عادات اختیار کرتا ہے۔اس عمر میں اگر اسے بہ کثرت روغنی غذائیں کھلائی جائیں تو ظاہر ہے کہ خون میں کولیسٹرول کی سطح اسی عمر سے بلند ہونے لگے گی اور شریانوں میں اس کے جمنے کا عمل اسی وقت سے چل پڑے گا اور آگے چل کر یہی تندرست نوجوان قلب کی شکایات میں مبتلا ہو گا،لیکن چونکہ اس وقت تک قلب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہو گا،لہٰذا یہی صحت مند انسان موت کی زد پر آچکا ہو گا۔

اس صورت حال سے بچنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس نوبت کے آنے سے پہلے ہی اس قاتل کی خفیہ قاتلانہ سرگرمیوں کا کھوج لگا لیا جائے۔خون کا ٹیسٹ اس کی تصدیق کر دے تو پھر اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جانا چاہیے۔اس کے لئے رہن سہن کے انداز اور کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی بے حد ضروری ہے۔اس قاتل کو اس کے عزائم میں ناکام بنانے کا یہی واحد علاج ہے۔


آئیے اب ذرا یہ دیکھیں کہ آخر ہمارا یہ خیرخواہ کولیسٹرول کیوں اور کس طرح ہماری جان کا دشمن بنا جاتا ہے؟
تقریباً تمام صحت مند افراد کا جسم معمول کے مطابق درکار کولیسٹرول خود تیار کرتا رہتا ہے،لیکن جب یہی لوگ روغنی غذائیں زیادہ کھانے لگتے ہیں،لسی میں پیڑے ڈلواتے ہیں،نہاری میں نلیوں کا گودا اور گھی کا تڑکا لگواتے ہیں،گھی ٹپکتے حلوے،کئی کئی انڈے،مال پوڑے،مکھن کی ٹکیاں اور مٹھائیاں مزے لے لے کر کھانے لگتے ہیں تو کولیسٹرول کی سطح بلند ہونے لگتی ہے۔

اس سے محفوظ وہ لوگ رہتے ہیں،جو نباتی غذائیں زیادہ کھاتے ہیں۔لحمیات (پروٹینز) کے لئے سرخ گوشت،چربی دار مرغی اور پنیر کے بجائے دالیں اور پھلیاں کھاتے ہیں۔بے چھنا آٹا کھاتے ہیں۔پھل،کچی سبزیاں اور خشک میوے ان کی غذا ہوتے ہیں۔یہ غذائیں کولیسٹرول کو دشمن نہیں بننے دیتیں۔
اگر خدانخواستہ آپ کے خون میں شامل کولیسٹرول کے تیور بدل گئے ہیں اور وہ آپ کا دشمن بنتا نظر آرہا ہے تو اس سے محفوظ رہنے کے لئے ذیل میں دی گئی غذائیں کھائیے:
لحمیات سے بھرپور دالیں،پھلیاں اور مناسب مقدار میں مغزیات،کیونکہ ان کے تیل جمتے نہیں ہیں۔

پھل اور سبزیاں،لہسن اور پیاز۔دلیا اور بے چھنے آٹے کی سادہ روٹی۔بغیر پالش کے چاول۔بغیر زردی کے انڈے،بغیر بالائی کا دودھ،دہی،ہر قسم کے گھی اور مکھن کے بجائے یہ جمنے والے پتلے تیل۔ذیل میں دی گئی غذاؤں سے پرہیز کیجیے:
گردوں،کلیجی اور چربی دار گوشت،گھی میں تلے کبابوں،پراٹھوں اور پوریوں وغیرہ سے۔
انڈے کی زردی،بالائی دار دہی،مکھن،اصلی و بناسپتی گھی،بالائی،آئس کریم،مارجرین،گھی میں تیار ہونے والی میٹھی و نمکین اشیاء اور مٹھائیوں سے۔
ناریل کے تیل اور اس سے تیار کی جانے والی اشیاء سے۔دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے اس قاتل کو بروقت پکڑ کر اس کے عزائم میں ناکام کر دے۔
تاریخ اشاعت: 2021-06-22

Your Thoughts and Comments