Cholesterol Insani Jism Ke Liye Zaroori Kiyon - Article No. 2356

کولیسٹرول انسانی جسم کیلئے ضروری کیوں - تحریر نمبر 2356

پیر 24 جنوری 2022

Cholesterol Insani Jism Ke Liye Zaroori Kiyon - Article No. 2356
ڈاکٹر جمیلہ آصف
لفظ کولیسٹرول قدیم یونانی زبان (Chole) مطلب بائیل، (Stereos) مطلب ٹھوس اور (Ol) مطلب الکوحل سے ماخوذ ہے۔کولیسٹرول الکوحل اور چکنائی سے مل کر بنتا ہے تاہم جانوروں کے خلیات اسے خود تیار کرتے ہیں۔کولیسٹرول تمام جانوروں کی زندگی کے لئے ضروری ہے۔اس کا کام خلیاتی جھلی کے بنانے اور اس کے قائم رہنے میں مدد کرنا ہے۔

اس کے علاوہ یہ خلیوں میں سوڈیم اور ہائیڈروجن آئنز کو جذب ہونے سے بھی روکتا ہے۔اعصاب کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا بھی کولیسٹرول کا اہم کام ہے۔اس کے علاوہ یہ سٹرائیڈ ہارمونز،بائیل سالٹس اور وٹامن ڈی بنانے کے بھی کام آتا ہے۔
ایک انسانی مرد جس کا وزن 68 کلو ہے۔اس کا جسم عام طور پر روزانہ تقریباً 1 گرام (1,000 ملی گرام) کولیسٹرول بناتا ہے اور جسم میں تقریباً 35 گرام کولیسٹرول ہوتا ہے جو زیادہ تر سیل کی جھلیوں کے اندر ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

غذا میں پایا جانے والا کولیسٹرول آنتوں کے اندر دوسرے کیمیائی مادوں سے مل جاتا ہے،اس لئے اس کی کم مقدار خون میں جذب ہوتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ جب غذا سے خون میں کولیسٹرول جذب ہوتا ہے تو جسم اپنا کولیسٹرول بنانا کم کر دیتا ہے۔ان وجوہات کی بناء پر کھانے میں کولیسٹرول،خون میں کولیسٹرول کے ارتکاز پر بہت کم اثر ڈالتا ہے۔تاہم زیادہ کولیسٹرول والی غذا کھانے کے بعد پہلے سات گھنٹوں کے دوران خون میں کولیسٹرول کی مقدار کافی بڑھی ہوتی ہے۔

جگر کولیسٹرول کو اکٹھا کرکے نظام ہضم میں خارج کر دیتا ہے جس میں سے پچاس فیصد دوبارہ چھوٹی آنت سے جذب ہو کر خون میں شامل ہو جاتا ہے۔
انسانی جسم کو کولیسٹرول کی ضرورت ہوتی ہے جو ہارمونز،وٹامن ڈی اور کچھ مادوں کو ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔انسانی جسم اپنی ضرورت کے مطابق خود کولیسٹرول بناتا ہے مگر کولیسٹرول ہماری غذائی اشیاء میں بھی پایا جاتا ہے۔

کولیسٹرول ہمارے خون میں چھوٹے چھوٹے بنڈلز کی شکل میں حرکت کرتے رہتے ہیں۔ان بنڈلز کو لائپو پروٹینز کہتے ہیں۔یہ بنڈلز اندرونی طرف چکنائی اور بیرونی طرف پروٹین کے بنے ہوتے ہیں۔یہ لائپو پروٹینز دو قسم کی ہوتی ہیں LDL یعنی لو ڈینسٹی لائپو پروٹین اور HDL یعنی ہائی ڈینسٹی لائپو پروٹینز،ان دونوں اقسام کا متوازن مقدار میں ہونا صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔

یہ دونوں اقسام کی لائپو پروٹینز کولیسٹرول کو لے کر خون میں گردش کرتی رہتی ہیں۔HDL کو اچھا کولیسٹرول کہتے ہیں۔یہ جسم کے تمام حصوں سے کولیسٹرول کو واپس جگر کی جانب لے کر جاتا ہے اور جگر سے یہ فضلے کے ساتھ جسم سے باہر خارج کر دیا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ جتنا HDL کا لیول جسم میں زیادہ ہو گا اتنا ہی دل کی بیماری ہونے کا خطرہ کم ہو گا۔

LDL کو صحت کے لئے نامناسب یعنی خراب کولیسٹرول کہتے ہیں۔اگر خون میں اس کی مقدار زیادہ ہو جائے تو یہ آرٹریز کی دیواروں میں جمنے لگتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کی زیادہ مقدار دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
کورونری آرٹریز دل کو خون سپلائی کرنے والی خون کی نالیوں کا نام ہے اور کورونری آرٹریز یا کورونری ہارٹ ڈزیز ایک ایسی بیماری کا نام ہے جس میں کورونری آرٹریز کی دیواروں میں کولیسٹرول اکٹھا ہو کر ایک ڈھیر سا بن جاتا ہے جس کو تختی کہتے ہیں۔

اس تختی میں کولیسٹرول،چکنائی،کیلشیم اور خون میں موجود دوسرے مادے پائے جاتے ہیں۔آرٹریز کی دیواروں میں کولیسٹرول جمع ہونے کے عمل کو ایتھرو سکلیروسس کہتے ہیں۔اگر ہم ایسی خوراک زیادہ استعمال کریں جس سے ہمارا جسم زیادہ کولیسٹرول بنائے تو یہ کولیسٹرول آرٹریز کی دیواروں میں جم کر ان کے سوراخ کو تنگ کر دیتا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تختیاں سخت ہونے لگتی ہیں اور سوراخ مزید تنگ ہو کر دل کی خون کی سپلائی متاثر ہونے لگتی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کے دل کو آکسیجن کی مقدار میں بھی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے دل کا درد یعنی انجائنا ہونے لگتا ہے۔
انجائنا میں سینے میں درد،وزن پڑنے یا نچوڑنے کا احساس ہوتا ہے جو کندھے،بازو،گردن،جبڑے یا کمر میں بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ انجائنا کا درد بد ہضمی کی طرح بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔آخرکار یہ تختیاں پھٹ جاتی ہیں اور خون ان کی کھردری سطح پر جمنے لگتا ہے۔

اگر خون زیادہ مقدار میں جم جائے تو اس سے آرٹری کا موراخ بند ہو جاتا ہے جس سے دل کے متاثرہ حصے کو خون کی سپلائی رک جاتی ہے۔یہ صورت حال دل کے دورے کا سبب بن جاتی ہے۔اگر خون کی سپلائی جلد بحال نہ ہو سکے تو دل کا متاثرہ حصہ مرنے لگتا ہے،اس کنڈیشن کو ہارٹ اٹیک کہتے ہیں۔اگر اس عمل کے دوران خون کی بڑی آرٹری بند ہو جائے تو انسان کی موت ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔

یہ حالت صرف اس صورت میں ہی پیش آتی ہے جب انسانی مرغن غذاؤں کا زیادہ استعمال کرتا ہے اور خون میں کولیسٹرول کی مقدار نارمل سے زیادہ ہو۔
انسان کے خون میں کولیسٹرول کی مقدار 200 ملی گرام فی سو ملی لیٹر بلڈ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اگر یہ مقدار 240 تک ہو جائے تو دل کی بیماری کا امکان بڑھ جاتا ہے۔240 سے بڑھ جائے تو یہ خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

اس لئے یہ بات یاد رکھیں کہ خون میں کولیسٹرول کی مقدار زیادہ نہ ہونے پائے۔جانوروں کی چربی ٹرائگلیسرائڈز کا پیچیدہ مرکب ہے،جس میں فاسفولپڈز اور کولیسٹرول کے مالیکیول دونوں کی کم مقدار ہوتی ہے جس سے تمام جانوروں (اور انسانوں) کے خلیے بنتے ہیں۔چونکہ تمام جانوروں کے خلیے کولیسٹرول تیار کرتے ہیں،اس لئے جانوروں پر مبنی تمام غذائیں مختلف مقداروں میں کولیسٹرول پر مشتمل ہوتی ہیں۔

کولیسٹرول کے بڑے غذائی ذرائع میں سرخ گوشت،انڈے کی زردی اور پورے انڈے،جگر،گردے،گبلٹس،مچھلی کا تیل اور مکھن شامل ہیں۔انسانی ماں کے دودھ میں بھی کولیسٹرول کی کافی مقدار ہوتی ہے۔
خون میں کولیسٹرول کی مقدار نارمل رکھنے اور دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لئے مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کریں۔ہمیشہ ایسی غذا استعمال کریں جس میں مقدار کم سے کم ہو،اپنے کھانوں میں سبزیوں،پھلوں اور فائبر والی غذاؤں کا زیادہ استعمال کریں،ایسی غذاؤں کے ذریعے خون میں کولیسٹرول کی مقدار کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے اناج اور ان کی بنی ہوئی اشیاء آتی ہیں یعنی گندم،جو،باجرہ،مکئی وغیرہ کا دلیہ اور آٹا۔آٹا ہمیشہ بغیر چھنا ہوا استعمال کرنا چاہئے۔اس سے خاص طور پر ایل ڈی ایل کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے جو صحت کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔اس کے علاوہ سیب،کیلا،لوبیا اور ناشپاتی بھی کولیسٹرول کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔آج کل سردیوں کا موسم ہے۔اس موسم میں مچھلی کا استعمال زیادہ کرنا چاہئے کیونکہ مچھلی کھانا دل کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔مچھلی میں پایا جانے والا اومیگا 3 فیٹی ایسڈ نہ صرف بلڈ پریشر کم کرتا ہے بلکہ اس سے نالیوں میں خون جمنے کا عمل بھی رُک جاتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2022-01-24

Your Thoughts and Comments