Qudrati Tariqa Apnaayeen - Cholesterol Kaam KareeN - Article No. 2090

قدرتی طریقہ اپنائیں․․․کولیسٹرول کم کریں - تحریر نمبر 2090

منگل فروری

Qudrati Tariqa Apnaayeen - Cholesterol Kaam KareeN - Article No. 2090
ڈاکٹر سید فیصل عثمان
انسانی جسم نہایت ہی پیچیدہ مشینری کی طرح کام کرتا ہے،اس کے اہم حصے سائنس دان قدرتی معیار کے مطابق نہ تو بنا سکے ہیں اور نہ ہی شائد بنا سکیں۔کولیسٹرول کی ہی مثال لے لیجئے۔یہ نہایت ہی پیچیدہ کیمیکل ہے۔جتنا یہ کیمیکل پیچیدہ ہے اتنا ہی اس کے کام پیچیدہ ہیں،یہ انسانی جسم میں جس طرح ”سفر“ کرتا ہے،وہ بھی ایک پیچیدہ عمل ہے۔

سائنس دانوں نے کولیسٹرول سے جان چھڑانے کا کبھی نہیں سوچا،یہ انسانی خون کا لازمی حصہ ہے۔صحت کو برقرار رکھنے کے لئے اس کی مناسب مقدار ضروری ہے۔موسم کی مانند یہ مادہ جسم میں مسلسل پیدا ہوتا رہتا ہے،اس کے بغیر نہ تو خلیے بن سکتے ہیں اور نہ ہی ہارمونز،حیاتین ڈی کی تیاری بھی کولیسٹرول کے بغیر ناممکن ہے۔

(جاری ہے)


8 سو ملی گرام کولیسٹرول:
صحت مند جگر دن بھر میں 800 ملی گرام کولیسٹرول بناتا ہے۔

ایک بڑے انڈے(جو آپ دکاندار کی ٹوکری سے چن چن کر لیتے ہیں)میں 187 ملی گرام کولیسٹرول آسکتا ہے۔20 برس یا اس سے زائد عمر کے افراد میں کولیسٹرول کی مقدار 125 ملی گرام سے 200 ملی گرام یومیہ تک ہونا چاہئے،پراسیسڈ غذائیں،ورزشوں سے دوری اور جینیاتی معاملات کولیسٹرول کی زیادتی کا سبب بن سکتے ہیں۔اس کا تعلق عمر،نسل،وزن اور وراثت سے بھی ہے۔اگرچہ ادویات کی مدد سے کولیسٹرول کی زیادتی پر قابو پایا جا سکتا ہے،لیکن ہر شخص اپنے لائف اسٹائل کو بدل کر قدرتی طور پر بھی کولیسٹرول کو مناسب سطح پر لا سکتا ہے۔

اس کی کوئی علامت ظاہر ہوتی ہے؟یہ کب بڑھنے لگتا ہے اور کب گھٹنے لگتا ہے؟اس کا واضح اشارہ ملنا ضروری نہیں لیکن سادہ سے خون کے ٹیسٹ کے ذریعے مقدار کو ناپا جا سکتا ہے۔ کولیسٹرول کب چیک کرانا لازمی ہے؟20 سے 44 برس کے افراد کے لئے ہر 5 سال بعد۔ 45 سے 65 برس کے مردوں اور 55 سے 65 برس کی خواتین کے لئے ہر ایک یا دو سال کے بعد۔
مفید کولیسٹرول:
کولیسٹرول میں”ہائی ڈینسٹی لپو پروٹینز“(HDL)،”لو ڈینسٹی لپو پروٹینز“(LDL) اور”انتہائی لو ڈینسٹی لپو پروٹینز(VDL) شامل ہیں۔

”ہائی دینسٹی لپو پروٹینز“ (HDL) کولیسٹرول کی مفید قسم ہے۔اسے ”گڈ کولیسٹرول“ کہا جاتا ہے۔یہ قسم دیگر اجزاء سے ہوتی ہوئی جگر کے راستے جسم سے خارج ہو جاتی ہے۔یہ ہماری خوراک کا حصہ ہونا چاہئے۔نقصاندہ کولیسٹرول ”لو ڈینسٹی لپو پروٹینز“(LDL) کو بیڈ کولیسٹرول بھی کہا جاتا ہے۔چربی کی یہ قسم کیک،پیسٹری اور بیکری کی دیگر مصنوعات میں بھی پائی جاتی ہے۔

یہ قسم کارڈیو ویسکلر بیماریوں کے علاوہ آنت اور چھاتی کے سرطان ،شوگر اور موٹاپے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔تیسری قسم آرٹریز میں جمع ہوتی ہے مگر یہ دوسری قسم کے برعکس ٹرائی گلیسرین کو بھی ساتھ لاتی ہے، ٹرائی گلیسرین دل کے دورے کا اندیشہ بڑھا دیتی ہے۔چربی تین قسم کے فیٹی ایسڈز سے مل کر بنتی ہے۔ جن میں”مونو ان سیچوریٹڈ ایسڈ“،”پولی ان سیچوریٹڈ ایسڈز“اور”سیچوریٹڈ ایسڈز“ شامل ہیں۔

”ان سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز“خوردنی تیل کی”ہائیڈو جینیشن“یعنی ہائیڈروجن گیس کی آمیزش کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔عوامی صحت کا خیال رکھنے والے ممالک میں گھی کے ڈبوں پر اس عمل کی بھی نشاندہی کی جاتی ہے تاکہ لوگوں کو گھی میں خطرناک اجزاء کی موجودگی کا بھی علم ہو سکے۔امریکہ میں”فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے حکم پر یکم جنوری 2021 سے”Hydrogenated vegetable oils “ کی فروخت پر بند کر دی گئی ہے۔

کیا ہم”سیچوریٹڈ فیٹس“ کو استعمال کر سکتے ہیں؟یہ بحث تو برسوں سے جاری ہے،اور اب تک بے نتیجہ ہے۔”امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن“ کا کہنا ہے کہ چربی کی یہ قسم کسی بھی آدمی کے جسم میں 5 یا 6 فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی“۔سیچوریٹڈ فیٹس ”ایل ڈی ایل“ کی مقدار میں اضافے کا موجب بن سکتے ہیں۔گائے کا گوشت،پنیر،مکھن،چکن(کھال کے ساتھ)،بیکری کی مصنوعات بھی اس کا اہم ذریعہ ہیں۔


کولیسٹرول سے نجات پانے کا قدرتی طریقہ:
”مونو ان سیچوریٹڈ فیٹس“کنولہ،مونگ پھلی،زیتون،اواکاڈو اور سن فلاور سمیت متعدد بیجوں اور پودوں میں پائی جاتی ہے۔جبکہ”پو لی ان سیچوریٹڈ فیٹس“ زیادہ صحت بخش ہے،کیونکہ یہ نقصاندہ کولیسٹرول کی مقدار کو کم کرنے میں بھی معاون بنتی ہے۔بادام،مچھلی،سویابین، سن فلاور اور مکئی سمیت متعدد عام خوراک کی مصنوعات میں بھی اس کی مناسب مقدار پائی جاتی ہے۔


فائبر استعمال کیجئے:
فائبر دراصل پودوں میں پائے جانے والے کاربوہائیڈریٹس کو کہتے ہیں۔25 گرام فائبر یومیہ کھانے سے 2 ہزار یومیہ کیلوریز مل سکتی ہیں ۔یہ بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک جذب ہو جاتے ہیں اور دوسرے جذب نہیں ہوتے۔جذب ہو جانے والے فائبر نظام انہضام کو سست کر دیتے ہیں۔یوں وہ چربی کی پیداوار میں بھی کمی لاتے ہیں۔

جس سے کولیسٹرول بھی کم پیدا ہوتاہے۔سیب،آڑو ،دلیے،دالوں،بند گوبھی،پھول گوبھی اور شلجم میں بھی فائبر کی یہ قسم پائی جاتی ہے۔جبکہ فائبر کی دوسری قسم گندم،آٹے،پھلیوں،اور سبزیوں(آلو،پھول گوبھی ،کھیرا)میں بھی پائی جاتی ہے۔اخروٹ بھی کولیسٹرول میں کمی کا موجب بن سکتے ہیں۔
ورزش:
ہفتے میں 75 سے 150 منٹ کی ورزش،سائیکلنگ،جاگنگ،تیز قدموں سے چلنا،چھلانگیں لگانا ،تیراکی،کوئی پسندیدہ کھیل بھی کولیسٹرول میں کمی کے لئے مفید ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-02-23

Your Thoughts and Comments