Dementia

ڈیمینشیا

منگل اکتوبر

Dementia

ڈاکٹر آصف گیلانی
Dementiaایک ایسی بیماری میں جس میں یادداشت نہایت کمزور ہوجاتی ہے۔یہ بیماری Acetylcholineجو کہ ایک دماغی کیمیکل ہے ،جو یادداشت کے لیے بہت اہم کردار ادا کرتا ہے ،اس میں کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔اس کیمیکل میں کمی کے باعث رویہ میں تبدیلی اور یادداشت میں کمی واقع ہوتی ہے۔Dementiaکسی بھی طبقے کے کسی بھی فرد چاہے وہ مرد ہو یا عورت کو متاثر کرتاہے۔

پاکستان میں تقریباً 7-5لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔Dementiaکی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔مثلاًB12 Vitaminکی کمی۔وہ لوگ جو سبزیاں زیادہ کھاتے ہیں ان میں یہ مرض بہت عام ہے۔
اس کے علاوہ گلے کے غدود کا مسئلہ Hypothyroidismاور دماغ کی رسولی Meningiomaیہ وہ وجوہات ہیں جن کو اگر ہم Treatکردیں تو مریض کا Dementia مرض ٹھیک ہو جاتاہے۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ شراب نوشی ،نیند کی گولیوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال Dementiaکا سبب بنتی ہے۔

کسی بھی وجہ سر میں چوٹ لگ جانا Dementiaکا سبب ہے۔ Dementiaکی سب سے بڑی وجہ Alzheimer Diseaseہے جو مغربی ممالک میں بہت عام ہے،جب کہ ہمارے یہاں Vascular Dementiaیعنی کہ دماغ کی Vesselsخون کی شریانوں کا کمزور ہوجانا،کیوں کہ ہمارے یہاں شوگر اور بلڈ پریشر کا مرض بہت عام ہے۔اس لیے Vascular Dementiaہمارے معاشرے میں زیادہ پایا جاتاہے۔
اس کے ساتھ (Normal Hydrocephalus Pressure)NPHیعنی دماغ کی نالیوں میں پانی عام مقدار سے زیادہ بھر جانا اور دماغ کا پریشر بڑھ جانا۔

NPHمیں مریض کا بھولنے کے ساتھ ساتھ چلنے میں دشواری اور پیشاب پر قابو ختم ہو جاتاہے۔NPHبھی ایک Treatable CauseہےDementiaکا۔Dementiaمیں یادداشت میں کمی اس طرح سے شروع ہوتی ہے کہ مریض چھوٹی چھوٹی باتیں بھول جاتاہے۔مثلاً گھر والوں کے نام،کوئی بھی چیز کہیں پر رکھ کر بھول جانا،گھر کاراستہ،مسجد کا راستہ،نماز بھول جانا،یہاں تک کہ اس کو پرانی ساری چیزیں یاد ہوں گی،مثلاً 65کی جنگ،92کے ورلڈ کپ کی باتیں ،لیکن وہ نئی باتیں بھول جائے گا۔

یہ بیماری دماغ کے بات چیت کرنے والے حصے کو بھی متاثر کرتی ہے۔مثلاً اپنی بات کو سمجھانے میں،اور دوسروں کی بات سمجھنے میں دشواری ہونا،ایک ہی بات کو بار بار دہرانا۔
یہ بیماری دماغ کے اس حصے کو بھی متاثرکرتی ہے جس سے انسان روز مرہ کی چیزوں کو پہچانتا ہے۔مثلاً چابی کو دیکھ کر چابی نہیں بولے گا،موبائل فون کو دیکھ کر موبائل فون نہیں بولے گا۔


اس بیماری میں مریض کے روز مرہ کے وہ کام جو وہ خود کرتا ہے متاثر ہوں گے مثلاً کپڑے تبدیل کرنا،کھاناکھانا،بال بنانا اور شیوکرنا۔یہ سب متاثر ہوں گے۔جیسے جیسے یہ مرض بڑھتا ہے مریض کے اندر کچھ نفسیاتی مسئلے پیدا ہوتے ہیں۔مثلاًhallucinationیعنی کچھ ایسی چیزیں اس کو نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں جو کہ کمرے میں موجود اور لوگوں کو نظر نہیں آتیں۔

Visual Hallucinationاور Auditory Hallucinationکا مطلب ہے کانوں میں آوازیں آنا۔اس کے ساتھ ساتھ Delusionیعنی مریض دوسروں پر شک کرے گا۔اس قسم کی علا مات سے مریض پریشان ہو کر Depressionکا شکار ہو جاتاہے اور و ہ لوگوں کے سامنے جانے سے پرہیز کرتا ہے اور اپنے آپ کو اکیلا تنہا کر لیتاہے۔
اس قسم کے مریضوں کی دیکھ بھال بہت ہی محتاط طریقے سے کرنی چاہیے۔خاص کر ایسے مریضوں کو گھرسے باہر نہیں جانے دینا چاہیے۔

اگر گھر سے باہر چلے بھی جائیں تو ان کے گلے میں یا ہاتھ میں ایک کارڈ یا بینڈ باندھ دینا چاہیے۔اس پر گھر کا پتا اور موبائل نمبر درج ہونا چاہیے۔مریض سے بات چیت کرنا ،صبح سویرے دھوپ میں بٹھانا،شوگر اور بلڈ پریشر کی گولیاں باقاعدگی سے دینا اور ان سب کے ساتھ روزانہ صبح ناشتے سے پہلے کلونجی اور شہد کا استعمال مریض کے لیے خاصامفید ثابت ہوتاہے ۔کچھ میڈیسنز وغیرہ کے استعمال سے اس بیماری پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن مکمل طور پر اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔اس کے ساتھ ساتھ روزانہ 30منٹ کی چہل قدمی،گھر والوں کا اس مریض کے ساتھ روزانہ بات چیت کا عمل جاری رکھنا،مریض کی صاف ستھرائی کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتاہے۔

تاریخ اشاعت: 2019-10-22

Your Thoughts and Comments