Depression - Aik Qabil Ilaaj Marz

ڈپریشن ایک قابل علاج مرض

Depression - Aik Qabil Ilaaj Marz
ڈاکٹر اظہر حسین
غم اور خوشی ہر نارمل شخص کے روز مرہ معمولات میں شامل ہے۔ہر شخص کو روز خوشی کا بھی تجربہ حاصل ہوتا ہے اور وہ غمی کے بھی کچھ لمحات ضرور گزارتا ہے۔غم اور خوشی کو بیماری میں کس وقت شمار کیا جاتا ہے؟علم نفسیات کے مطابق اگر کوئی شخص بہت زیادہ غمگین ہو جائے یا اس کا غم بہت زیادہ طویل ہو جائے تو اسے ڈپریشن کا نام دیا جاتا ہے۔

نارمل غم کو کسی قسم کے علاج کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی وہ اپنے آپ ہی وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو جاتا ہے۔دراصل نارمل سے اگر کوئی شخص طویل عرصے تک غم کا شکار رہے تو پھر اسے ڈپریشن کی بیماری شمار کیا جاتا ہے لیکن اگر اسی طرح اگر ایک آدمی خوش ہے تو اس کو نارمل زندگی کا حصہ سمجھا جاتا ہے لیکن اگر خوشی حد سے بڑھ جائے اور وہ اتنا زیادہ خوش ہو جائے کہ وہ اپنا مالی یا معاشرتی نقصان کر بیٹھے اور اس کی خوشیاں تمام باؤنڈریز کو کر اس کر جائیں تو وہ خوشی کی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے جس کو عام طور پر دودرجات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

ہائپو مینیا اور مینیا۔
ہائپومینیا میں انسان بہت زیادہ یعنی نارمل سے زیادہ خوش ہوتا ہے لیکن اتنا خوش نہ ہو کہ جسے پاگل پن شمار کیا جائے۔لیکن اگر ایک شخص اتنا زیادہ خوش ہو کہ اس کی خوشیاں تمام حدیں عبور کر جائیں اور اس کا حقیقت کے ساتھ تعلق ختم ہو جائے اور وہ اپنے آپ کو پیغمبر یا خدا سمجھنے لگ جائے یا وہ یہ دعوے کرنے لگ جائے کہ بادل اس کی مرضی سے حرکت کررہے ہیں،بارش وہ برسارہا ہے،دھوپ اس کی وجہ سے ہے ،چاند اس کی وجہ سے حرکت کرتا ہے،سورج کووہ گردش میں لاتا ہے تو ایسی صورتحال میں وہ انسان مینیا کے مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔

اگر مینیا کا علاج نہ ہوتو ایسا شخص اپنا بھی بے تحاشا مالی نقصان کرتا ہے اور معاشرتی نقصان کرتا ہے۔
ہائپو مینیا میں انسان کی قوت کار اور استعداد بڑھ جاتی ہے۔وہ زیادہ کام کرنے لگ جاتا ہے لیکن اکثر اوقات اس کے کام غلط ہوتے ہیں ان کی ڈائریکشن درست نہیں ہوتی۔اگر وہ فوکسڈ ہے اور دل لگا کر کام کررہا ہے اور وہ مینیا کے معمول درجے میں ہے تو کئی دفعہ وہ دنیا میں بڑے بڑے کام بھی کر جاتا ہے۔

حیرت ناک بات یہ ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی ترقی اور جتنی ایجادات ہوئی ہیں یہ سب نارمل لوگوں نے کی ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ہائپو مینیا اگر کم درجے کا ہو اور وہ شخص کسی ایک کام کی طرف اپنی توجہ مرکوز کرلے تو وہ بڑے بڑے کا رنامے بھی اپنی بیماری کی حالت میں سر انجام دے دیتا ہے۔اس لیے کہا جاتا ہے کہ دنیا میں جو بڑی بڑی صاحب اقتدار فیملیز ہیں یادنیا کی بڑی بڑی ایجادات جن لوگوں نے کی ہیں وہ اس وقت ہائپو مینیا کی حالت میں تھے اور اسی حالت میں وہ ایک بڑا کارنامہ سر انجام دے گئے۔

انہوں نے ایک بہت بڑی جست لگا دی۔
انہوں نے کوئی بہت بڑی ایجاد کردی یا کوئی بہت بڑا کارنامہ سیاسی ،سماجی یا معاشرتی طور پر سر انجام دے دیا۔پہلے زمانے میں جب فاما کا لوجی یا سائیکو فارما کا لوجی نے ترقی نہیں کی تھی اس وقت ان بیماریوں کا علاج نہیں تھا۔اگر کوئی علاج تھا بھی تو بہت سادہ سا ہوتا تھا۔اگر کوئی اداس یا پریشانی کا شکار ہوتا تو ایسے آدمی کو بار بار نہانے اور کچھ دیر تک سر پر پانی ڈالنے کے لیے کہا جاتا تھا تاکہ اسے کچھ سکون ملے۔

اکیسویں صدی میں اچھے سے اچھے علاج میسر آچکے ہیں۔اب تو سائنس بہت آگے نکل گئی ہے ،اتنی ترقی ہو گئی ہے کہ ان تمام امراض کے علاج کے لیے بہتر سے بہتر حفاظتی ادویات دستیاب ہیں جن کے استعمال سے یہ مرض جلدی ٹھیک ہو جاتا ہے اور مرض کی شدت پر جلدی قابو پایا جا سکتا ہے ۔انسان اس بیماری پر قابو پا لیتا ہے ،بیماری کا عذاب کم سے کم ہوتا ہے،مریض کو تکلیف کم سے کم ہوتی ہے جلد سے جلد مرض پہ نہ صرف قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ بیماری کو دوبارہ حملہ آور ہونے سے روک بھی سکتے ہیں ۔

ان ادویات کی مدد سے ماہرین نفسیات بیماری کے آنے والے دوروں کو روکنے پر بھی قادر ہو چکے ہیں ۔اگر کوئی شخص ڈپریشن ،ہائپو مینیا یا مینیا کے امراض میں مبتلا ہوتو اسے مایوس ہونے کی بجائے فوری طور پر ماہرین نفسیات سے رجوع کرنا چاہئے۔
ہمارے معاشرے میں ایسے مریضوں کو بڑے بڑے عاملین جنات کے پاس لے جا کر وقت اور پیسے کا ضیاع کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مرض کم ہونے کی بجائے اس کی شدت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ۔ایسے مریضوں کا علاج صرف ماہرین نفسیات ہی کر سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2019-08-20

Your Thoughts and Comments